امریکہ کے جاپان مخالف انوکھے چمگادڑ بم کی کہانی

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے سے پہلے امریکہ نے جاپان کو ”چمگادڑ بم” سے تباہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا. سننے میں تو "چمگادڑ بم” شاید کسی پرانے جاسوسی ناول کا مرکزی خیال محسوس ہو مگر یہ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کا ایک حقیقی، خفیہ ہتھیار تھا جسے امریکہ نے جاپان پر بمباری کے لیے تیار کیا تھا. اس بم کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں زندہ چمگادڑوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
1945 میں صورت حال یہ تھی کہ چھ خونی برسوں سے جاری دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے لیۓ یہ بھی ضروری تھا کہ جاپان ھتیار ڈال دے لیکن اس کے لئے جاپان کی سرزمین پر زمینی حملہ اور فوج کشی ضروری تھی تاہم اس مہم میں ہزاروں جانیں جانا یقینی تھا چنانچہ امریکہ اب ایک ایسے ہتھیار کی تلاش میں تھا کہ جس سے جاپان کو اس قدر بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا جائے کہ جاپان بغیر فوج کشی کے سرنڈر کر دے ۔ اس سلسلے میں مختلف قسم کے ہتھیاروں پر کام ہوا اور چمگادڑ بم’ بھی ان میں سے ایک تھا۔
آتشیں چمگادڑ کا تصور پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر "لائیٹل ایڈمز” نے 1942 میں وائٹ ہاؤس کو پیش کیا۔ ایڈمز کے منصوبے کے مطابق اس زمانے میں جاپان میں زیادہ گھروں اور عمارتوں کی تعمیر لکڑی اور بانس کی مدد سے کرنے کا رواج تھا۔ منصوبہ یہ بنا کہ اگر لاکھوں چمگادڑوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے آگ لگانے والے یا ”انسینڈری بم” باندھ کر انہیں دن کے وقت جاپان کے شہروں پر طیاروں کے زریعے گرا دیا جائے تو چمگادڑیں اتنی روشنی کو برداشت نہ کر سکنے کی جبلت کے تحت ہر طرف اڑ کر کوئی بھی ایسی اوٹ تلاش کریں گی جہاں وہ روشنی سے بچتے ہوئے بیٹھ سکیں۔ ایسا ہونے پر چمگادڑیں اپنی فطرت کے تحت گھروں، عمارتوں کی چھتوں، روشندانوں، چھجوں اور تنگ جگہوں پر جا کر بیٹھیں گی۔ یوں ان کے ساتھ بندھے انسینڈری بم پھٹ جائیں گے اور آگ لگ جائے گی۔ ہر شہر پر ہزاروں چمگادڑیں گرائی جانی تھیں تاکہ وہ ہزاروں گھروں، عمارتوں فیکٹریوں میں جا کر بیٹھیں اور پھٹ جائیں اور یوں ان لکڑی کی عمارات میں بھڑکنے والی آگ چند گھنٹوں میں جاپانی شہروں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دے۔ امریکہ کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ہونے والا جانی و مالی نقصان اتنا بھاری اور ناقابل برداشت ہوگا کہ جاپان چند ہفتوں میں ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اس پراجیکٹ کا نام رکھا گیا "آپریشن ایکسرے”۔
جنوری 1942 سے اس بم کی ڈیزائننگ اور پروڈکشن کے کام کا آغاز ہوا، اس مقصد کے لیے چمگادڑ کی مختلف قسموں کا مطالعہ کیا گیا اور بالآخر Mexican Free Tailed Bat کا انتخاب ہوا۔ اب سوال یہ تھا کہ چمگادڑوں کو مسلح کرنے کے لیے کونسے آتش گیر بم کا استعمال کیا جائے جس کا وزن بھی بہت کم ہو ؟ کیونکہ حملے کے لئے منتخب کردہ چمگاڈر کا وزن بمشکل 14 گرام تھا اور اس کے لئے دو پاؤنڈ کا وزن اُٹھا کر اُڑنا بھی بہت مشکل ہو جاتا چنانچہ اب ضرورت تھی بالکل نئی قسم کے ننھے انسینڈری بم کی کہ جسے چمگادڑ اُٹھا کے اڑ پائے، اس کام کا بیڑا معروف امریکی سائنسدان "لوئیس فائزر” نے اُٹھایا۔
فائزر نے روایتی "وائٹ فاسفورس” کے بجائے "نیپام” نامی مادے کا استعمال کرتے ہوئے "سیلولوز کیپسول” کی شکل میں تقریباً 17گرام وزن پر مشتمل ایک ننھا آتش گیر بم ڈیزائن کیا جوکہ تجربات کے دوران کامیاب ثابت ہوا۔اس ننھے نیپام بم کو گلیو کے ذریعے چمگادڑ کے سینے سے چپکا کر انہیں آتشیں چمگادڑ میں تبدیل کیا جانا تھا۔
1943 میں اس پراجیکٹ کا تجربہ "یوٹاہ” میں قائم کردہ جاپانی طرز کے مصنوعی تجرباتی گاؤں پر کیا گیا ۔ اس مصنوعی گاؤں پر نیپام سے لیس چمگادڑیں چھوڑ دی گئیں اور حسب توقع وہ گاؤں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا گویا یہ پراجیکٹ کامیابی سے اپنی منزل کی طرف رواں تھا۔ لیکن اب سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ چمگادڑوں کو 5 ہزار فٹ کی بلندی سے یونہی تو نہیں پھینکا جا سکتا تھا۔ چمگادڑیں 5 ہزار فٹ کی بلندی سے زمیں تک پرواز کر کے آ نہیں سکتی۔ اسکے علاوہ اس مشن کی حساسیت کی وجہ سے چمگادڑوں کو طیارے میں سفر سے قبل ہائیبر نیٹ کرنا یا آسان الفاظ میں سُلا دینا ضروری تھا ورنہ نیپام بموں سے لیس کودتی، پُھدکتی چمگادڑیں جہاز میں ہی بلاسٹ ہو کر اسے تباہ کر دیتیں، ان مسائل کے حل کے لیے ایک نیا انقلابی بم ڈیزائن کیا گیا کہ جس کے اندر چمگادڑوں کو بھر کے بم کو جہاز سے گرا دیا جائے۔ یہ دراصل 4 فٹ لمبا اور 123 کلوگرام وزنی بم تھا جو خود میں ایک شاہکار تھا ۔یہ ایک گول دھاتی کنٹینر تھا جس میں 24 خانے دار پلیٹوں کو اوپر تلے ایڈجسٹ کیا گیا تھا اور ہر خانے میں ایک چمگادڈ سُلائی جانی تھی۔ ہر پلیٹ پر 40 خانے تھے اور ایک بم میں 1 ہزار کے قریب چمگادڑیں آ سکتی تھیں۔ بم کو 5000 فٹ کی بلندی سے جہاز سے گرایا جانا تھا۔ ایک ہزار فٹ سے گرنے کے بعد اس میں ایک پیرا شوٹ کھل جاتا اور زمین تک کا باقی سفر بم پیرا شوٹ کے ذریعے کم رفتار میں طے ہونا تھا۔
پیراشوٹ کھلنے کے کچھ ہی دیر بعد بم کی بیرونی کیسنگ الگ ہو کے گر جاتی اور سب پلیٹیں جو کہ تاروں کی مدد سے ایک دوسرے سے جڑی ہوتیں، وہ کھل جاتیں لیکن بم کے ساتھ ہی منسلک بھی رہتیں۔ بم کے فضا میں کافی فاصلہ طے کرنے تک چمگادڑیں جاگنا شروع ہو جاتی اور فوراً پرواز کر جاتیں، پھر وہ دھوپ و روشنی کی وجہ سے پناہ گاہ کی تلاش میں دوڑتیں اور کسی بھی ممکنہ عمارت یا گھر میں جا گھستیں۔ بموں کے پھٹنے کا وقت 30 منٹ تک کا تھا جس کے بعد شہر گاؤں یا قصبہ آگ کی لپیٹ میں دھڑا دھڑ جل رہا ہوتا۔
دسمبر 1943 میں اس نئے بم کو جاپان پر داغنے کا سرکاری اجازت نامہ بھی مل گیا لیکن 16 فروری 1944 کو حکومت نے اچانک اس حملے کو منسوخ کر دیا اور پراجیکٹ کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔امریکی حکومت نے پراجیکٹ میں شامل ماہرین کو اس تنسیخ کی کوئی خاص وضاحت نہ دی بلکہ صرف اتنا ہی کہا کہ "اب اس کی ضرورت نہیں بلکہ ہمارے پاس اس سے بھی سینکڑوں گنا خطرناک ہتھیار پر کام تکمیل کے قریب ہے۔ یہ ہتھیار وہی ایٹم بم تھے جنھیں چھ اور نو اگست 1945 کو امریکہ نے جاپان پر گرایا جس کے نتیجے میں 3 لاکھ کے قریب جاپانی فوجی اور شہری مارے گئے، پندرہ اگست 1945 کو جاپانی شہنشاہ نے جنگ میں اپنی شکست تسلیم کر لی اور 2 ستمبر 1945 کو جاپان نے امریکہ کے سامنے باقاعدہ ہتھیار ڈال دیئے۔
