امریکہ نے پاکستانی میزائلوں کو اپنے لیے خطرہ قرار دے دیا

 

 

 

امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران پاکستان کے لیے بری خبر یہ ہے کہ امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گیبرڈ نے پاکستانی میزائلوں کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے امریکہ کے کٹر حریفوں روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے جو براہِ راست امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

 

امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی جانب سے جاری کردہ ’سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026‘ میں پاکستان کے میزائل پروگرام، عسکری حکمت عملی اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اس میں امریکہ کو درپیش براہِ راست خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جنہیں واشنگٹن اپنے بڑے سٹریٹیجک حریف سمجھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے جدید میزائل ٹیکنالوجی کی مسلسل ترقی امریکی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایسے میزائل سسٹمز پر کام کر رہا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ اس سے باہر کے اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں پاکستان ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار کر سکتا ہے جو براہِ راست امریکی سرزمین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

 

امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگی حکمت عملی کے ذریعے امریکہ کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کو چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک ایسی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جو جدید میزائل ڈیلیوری سسٹمز اور جوہری صلاحیتوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ 34 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت امریکہ کو تقریباً تین ہزار بین البراعظمی میزائلوں کا خطرہ درپیش ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ یہ تعداد 2035 تک بڑھ کر 16 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان خطرات میں اضافہ کرنے والے ممالک میں چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان شامل ہیں، جو جدید اور روایتی دونوں قسم کے میزائل نظام تیار کر رہے ہیں۔

 

خودکش ڈرونز کے حوالے سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ان کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور مذکورہ ممالک ان ٹیکنالوجیز کو مزید مؤثر بنانے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جو مستقبل میں امریکہ کے لیے مزید پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکہ کے لیے ایک حساس اور مسلسل سکیورٹی چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو خاص طور پر خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ماضی کے تنازعات کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی تصادم کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

 

امریکی رپورٹ میں پاکستان کی علاقائی پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ اس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اپنے حریفوں کو کمزور کرنے یا علاقائی تنازعات میں برتری حاصل کرنے کے لیے پراکسی فورسز، مہلک امداد اور عسکری وسائل کا مشترکہ استعمال کرتے ہیں۔ اس فہرست میں مصر، اسرائیل، ترکی اور متحدہ عرب امارات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بظاہر بہتر ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی تعریف کر چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس رپورٹ نے ان بہتر تعلقات کے باوجود پالیسی سطح پر موجود خدشات کو واضح کر دیا ہے۔

خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کا جواز ختم کیوں ہو گیا؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام پر اعتراض اٹھایا ہو۔ 2024 میں امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ معاونت کرنے والی متعدد کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ اس کارروائی میں چین، مصر اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ ان پابندیوں کے جواب میں پاکستان نے انہیں ’جانبدارانہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

 

اس تازہ رپورٹ پر پاکستان کے باضابطہ مؤقف کے لیے میڈیا کی جانب سے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق یہ رپورٹ نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے تزویراتی کردار کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

 

Back to top button