امریکی اراکین کانگریس کا ڈینئیل پرل قتل کیس کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

امریکی کانگریس کے 23 اراکین نے پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے نام خط میں پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈینئیل پرل قتل کیس کے ملزمان کے بری ہونے کے معاملے پر مکمل نظرثانی کی جائے۔
کانگریس مین بریڈ شرمین اور دیگر ارکان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ڈینئیل پرل بریڈ شرمین کے انتخابی حلقے کے رہائشی تھے۔ اس وجہ سے ہم ارکان کانگریس ان کے اغوا، قتل اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 28 جنوری کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ڈینئیل پرل کے اغوا اور قتل میں ملوث برطانوی شہری عمر شیخ سمیت چار افراد کو بری کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے متاثرین کےلیے باعث تشویش ہے۔ ہم اس موقف میں وائٹ ہاؤس کی تائید کرتے ہیں۔ خط میں تحریر ہے کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انتونی بلنکن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اس کیس کا ٹرائل امریکہ میں کرنے کےلیے تیار ہے۔ ہم ان کے اس بیان کو حمایت کرتے ہیں جب کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس کیس پر نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید ہے پاکستان کی حکومت اس معاملے کو تیزی سے آگے بڑھائے گی تاکہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے اور ملزمان کی بریت کا فیصلہ تبدیل ہو۔ امریکی ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ ڈینئیل پرل کے قتل سے لے کر اب تک کے برسوں میں پاکستان اور امریکہ نے سکیورٹی، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ ہم اس تعلق کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ بہرحال ڈینئیل پرل اور ان کی دہشت گردی کا شکار ہونے والے دیگر افراد کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہم سب پر لازم ہے کہ آپ پر زور دیں کہ حکومت پاکستان ڈینئیل پرل کیس کے ملزمان کی بریت کے معاملے پر مکمل نظرثانی کرے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے اغوا اور قتل کے ملزمان کی بریت کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست دائر کی جا چکی ہے۔ اسی طرح ملزمان کی نظر بندی کے خلاف کیس میں سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ نے عمر شیخ کو ڈیتھ سیل سے نکال کر دو دن کےلیے جیل میں کھلی جگہ اور پھر کسی محفوظ اور پرسکون رہائشی علاقے میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، جہاں وہ صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک اپنے اہل خانہ سے مل سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کا ملزم کا درجہ ختم کرتے ہوئے انہیں زیر حراست افراد قرار دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button