امریکی تیل کی مارکیٹ تباہ، مفت بھی نہیں بک رہا

چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد بالآخر تیل کی مارکیٹ بھی کریش کر گئی جس کے باعث تاریخ میں پہلی بار امریکا کے تیل کی قیمت پہلے ایک ڈالر اور پھر منفی37 ڈالر فی بیرل تک چلی گئی۔ منفی 37 ڈالر قیمت کا مطلب ہے کہ ایک بیرل تیل خریدنے پر بیچنے والا خریدار کو 37 ڈالر دے گا۔ 20 اپریل کے روز امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ مئی کی تیل کی ڈیلوری کے لیے منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوا۔ خام تیل کے مئی کے مہینے کے سودے کے لیے 21 مئی 2020 آخری دن ہے۔ تاہم مارکیٹ میں تیل کا خریدار کوئی نہیں کیونکہ پوری دنیا میں کرونا کے باعث فضائی اور بحری سروسز بند ہیں اور لاک ڈاون کی وجہ سے سڑکوں بھر ٹریفک بھی بند ہے۔
کرونا کی وجہ سے عالمی معیشت کا پہیہ جام ہو گیا ہے جس کے باعث تیل کی طلب ختم ہوگئی ہے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس اب تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی ختم ہوگئی ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں ایک طرف عالمی معیشت کو بدترین نقصانات کا سامنا ہے تو دوسری طرف لاک ڈاؤن اور ہر طرح کی ٹرانسپورٹ کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی ضرورت آدھے سے بھی کم رہ گئی ہے جس کی وجہ سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کو بھی شدید نقصانات کا سامنا ہے۔
20 اپریل کا دن تیل کی صنعت کیلئے بدترین دھچکا لایا جب امریکا اور کینیڈا میں آئل کی مارکیٹس کریش کر گئیں اور فی بیرل قیمتوں نے منفی میں جاکر نئی تاریخ رقم کر لی۔
تاہم پاکستان آنے والے تیل کی قیمت 26؍ ڈالر فی بیرل پر برقرار ہے کیونکہ اسکے سودے پہلے ہی طے ہو چکے تھے۔ یاد رہے کہ 1946ء کے بعد پہلی مرتبہ امریکا میں مستقبل کے تیل کے قیمت زمین بوس ہو کر صفر سے بھی نیچے گر گئی ہے۔ تیل کی پیداوار میں خود کو خود کفیل سمجھنے والے امریکا کےخام تیل کی قیمت منفی 37 ڈالرز فی بیرل تک گرنے کے بعد امریکی مراعات اور سستا تیل فروخت کرنے کی پیشکشیں بھی کام نہیں آ رہیں، یہی وجہ ہے کہ مستقبل کے تیل کے سودے صفر سے بھی نیچے جا چکے ہیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی طلب میں کمی کے بعد تیل پیدا کرنے والی تنظیم اوپیک اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم سرمایہ کار اب بھی اس خوف میں مبتلا ہیں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں استحکام آئے گا یا نہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صورتحال اس قدر خراب اور پیچیدہ ہو چکی ہے کہ تیل سستا ہونے کے باوجود مختلف ملکوں کی جانب سے خریداری نہیں کی جا رہی کیونکہ ان ممالک میں تیل ذخیرہ کرنے کے وسائل ختم ہو چکے ہیں جبکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس بھی اسٹوریج کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے اہم رکن سعودی عرب کی جانب سے ‘نان اوپیک’ رکن روس کو کرونا وائرس کے بعد کی صورتحال کے پیش نظر تیل کی پیداوار کم کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جاسکے۔ تاہم ایسا کرنے کے باوجود تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہوتی رہیں اور اب امریکی تیل کی مارکیٹ ہی کریش کر گئی ہے جس کا اثر روس اور اوپیک ممالک پر بھی آئے گا۔
