امریکی سپیکر نینسی کے شوہر پر ٹرمپ کے حامی کا مہلک حملہ

امریکہ میں ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے شوہر پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی بھونچال پیدا ہو گیا ہے کیونکہ حملہ آور کو سابق امریکی صدر ٹرمپ کا حمایتی بتایا جارہا ہے، چنانچہ حکمران جماعت سخت غصے میں ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس واقعے کو قابل نفرت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی تشدد کی ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے شوہر تب شدید زخمی ہو گئے تھے جب ایک حملہ آور نے کیلیفورنیا میں واقع ان کے گھر میں گھس کر ان پر ہتھوڑے سے حملہ کر دیا۔ سابق صدر ٹرمپ کی مخالف جماعت سے تعلق رکھنے والی پلوسی کے ترجمان ڈریو ہیمل نے کہا کہ پال پلوسی پر ایک حملہ آور نے گھر میں داخل ہو کر حملہ کیا، جس سے انکی کھوپڑی فریکچر ہو گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق حملہ آور سپیکر نینسی پلوسی کی تلاش میں تھا اور پال گھر پر اکیلے تھے کیوں کہ ان کی بیوی بطور سپیکر خدمات انجام دینے کے لیے واشنگٹن میں موجود تھیں، حکام نے کہا ہے کہ 82 سالہ پال پلوسی کی حملے کے بعد سرجری ہوئی اور وہ اب ہسپتال میں صحت یاب ہو رہے ہیں۔
سان فرانسسکو پولیس نے کہا کہ افسران نے حملہ آور کو پلوسی کے گھر سے رات ڈھائی بجے حراست میں لیا، سان فرانسسکو پولیس کے سربراہ بل سکاٹ نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے پال پلوسی پر ہتھوڑے سے کئی وار کئے جن میں سے ایک سر پر لگا اور کاری ثابت ہوا۔ حملہ آور کی شناخت 42 سالہ ڈیوڈ ڈی پاپے کے طور پر کی گئی ہے، تاہم پولیس نے مزید سوالات کے جواب دینے سے انکار کردیا۔ ایک پریس کانفرنس میں سان فرانسسکو پولیس کے سربراہ بل سکاٹ نے کہا کہ مشتبہ شخص اب ہسپتال میں ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس جرم کے مبینہ محرکات کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ حملہ آور کا تعلق سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جماعت سے ہے۔
پولیس چیف نے کہا کہ حملہ منصوبہ بندی سے انجام دیا گیا۔ یہ جان بوجھ کیا گیا اور یہ غلط ہے۔ جو کچھ ہوا اس سے ہر ایک کو ناگوار احساس ہوا، امریکی میڈیا نے خاندانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گھر میں گھسنے والے شخص نے پال پلوسی کو بتایا کہ وہ انہیں باندھ کر سپیکر کے گھر پہنچنے تک انتظار کرے گا۔ اس دوران پال 911 نمبر ڈائل کرنے میں تب کامیاب ہو گئے جب حملہ آور کی توجہ منتشر ہوئی۔ میڈیا نے بتایا کہ حملہ آور چیخ چیخ کر نینسی کے بارے میں پوچھتا رہا کہ وہ کہاں ہیں؟ ملزم پر اقدام قتل، مہلک ہتھیار سے حملہ، چوری اور دیگر جرائم کے چارجز عائد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب سپیکر نینسی پیلوسی کے ترجمان نے کہا کہ ’پال پلوسی کو سان فرانسسکو جنرل ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں ان کی کھوپڑی پر فریکچر اور دائیں بازو پر شدید چوٹوں کی کامیاب سرجری کی گئی، ان کے ڈاکٹروں کو مکمل صحت یابی کی توقع ہے۔
نینسی پلوسی اور ان کے پانچ بچوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ سان فرانسسکو پہنچ گے ہیں۔ فلاڈیلفیا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے اس حملے کو ’قابل نفرت‘ قرار دیا اور کہا کہ سیاسی تشدد کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر بائیڈن نے پلوسی کو ہمدری کے اظہار کے لیے فون کیا اور انہیں بتایا کہ وہ ان کے شوہر کے لیے دعا گو ہیں۔ بائیڈن کی پریس سکریٹری کرین جین پیئر نے بتایا کہ وہ خوش ہیں کہ پال مکمل صحت یاب ہو رہے ہیں۔ صدر ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پلوسی خاندان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔
بتایا گیا ہے کہ حملہ آور ایک سلائیڈنگ دروازے سے گھر کے اندر داخل ہوا، جس کا شیشہ ٹوٹنے سے اس کے سر اور جسم پر زخم آئے، ایک پولیس افسر نے بتایا کہ حملہ آور نے سوشل میڈیا پر انتہائی دائیں بازو کی سیاست کی حمایت میں پوسٹس شیئر کی تھیں، جن میں سازشی نظریات بھی شامل تھے۔ امریکہ میں اہم وسط مدتی انتخابات میں اب دو ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے اور دونوں جماعتوں کے ارکان نے سیاسی تشدد کے امکانات کے بارے میں خبردار کیا ہے، واشنگٹن میں کیپٹل پولیس کے مطابق قانون سازوں کے خلاف دھمکیاں 2017 کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہو کر 2021 میں تقریباً دس ہزار ہو گئی ہیں۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حملہ پرتشدد سیاسی بیان بازی میں اضافے کا نتیجہ ہے، امریکی کیپٹل ہل پر جنوری 2021 کے حملے کی تحقیقات کرنے والی ہاؤس کمیٹی کے رپبلکن رکن ایڈم کنزنگر نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے پیروکاروں کی جانب سے پھیلائے گئے سازشی نظریات کو بنیاد پرستی کی وجہ قرار دیا ہے۔
