امریکی صدر کا طالبان رہنماوں سے جلدملاقات کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئےاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جلد طالبان رہنماؤں سے ملاقات کروں گا جبکہ افغانستان سے جلد فوج واپس بلانا شروع کر دیں گے۔
اس کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر معاہدے میں بُری چیزیں ہوئیں تو ہم اتنی بڑی فوج واپس افغانستان لے کر جائیں گے جو کسی نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی، لیکن امید ہے اس کی نوبت نہیں آئے گی۔
افغان طالبان اور امریکی ٓحکومت میں امن معاہدے طے پاجانے کے فوری بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر جلد افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت سے ملنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔
افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔
معاہدے کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان سے اگلے 14 ماہ میں تمام غیرملکیوں بشمول عسکری، نیم عسکری، ٹھیکدار، شہری، نجی سیکیورٹی اہلکار اور مشیران کا انخلا یقینی بنائیں گے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے طے پاگیااس کے اتحادی پہلے 135 دنوں میں 8 ہزار 600 فوجیوں کا انخلا یقینی بنائیں گے۔
افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان طے پانے والا معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے۔ ان مرکزی حصوں کا پہلے حصے کے مطابق طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔
معاہدے کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادیوں فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائےگا۔معاہدے کے تیسرے نقطے کے مطابق طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔ اسی طرح معاہدے کے چوتھے اور آخری مرکزی نقطے میں کہا گیا ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
افغان طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان طے پاجانے والے معاہدے پر جہاں یورپی یونین اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے خوشی کا اظہار کیا ہے، وہیں کچھ امریکی سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو اس پر تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں تاہم امریکی صدر نے امن معاہدے پر ہونے والی تنقید کو بھی غیر اہم قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امن معاہدہ طے پاجانے کے چند گھنٹوں بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس پر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت سے جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ہی افغان طالبان کی قیادت سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب اور کہاں طالبان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے طالبان کے ساتھ طے پاجانے والے امن معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر ہم 18 سال بعد جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ساتھ ہی انہوں نے معاہدے پر تنقید کو مسترد کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت امریکا اور اس کے اتحادی بیک وقت افغانستان سے 13 ہزار سے ساڑھے 8 ہزار افواج کو فوری طور پر واپس بلا سکتے ہیں اور معاہدہ انہیں یہ بھی اختیار دیتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ واپس فوج کو افغانستان میں تعینات بھی کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب کے دوران افغان طالبان سے امن معاہدے پر تنقید کرنے والے اپنے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے بیان پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کے سابق مشیر کے پاس یہ موقع موجود تھا کہ وہ اس امن معاہدے کو تکمیل تک پہنچاتے۔
افغان طالبان سے امن معاہدے پر جان بولٹن نے گزشتہ روز ٹوئٹ کرتے ہوئے معاہدے پر تنقید کی تھی اور معاہدے کو سابق امریکی صدر باراک اوباما کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کو عام امریکی عوام قبول نہیں کریں گے۔ جان بولٹن نے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ طالبان سے امن معاہدہ کرنےکا مقصد داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو غلط اشارہ بھیجنا ہے اور اس سے امریکا کے دشمنوں کو بھی غلط پیغام جائے گا۔
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایک سال قبل چاہتے تو اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہچاتے۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس افغان طالبان کے رہنماؤں اور ڈونلڈ ٹرمپ میں امریکی ریاست میری لینڈ میں واقع کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کا شیڈول طے تھا تاہم قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے استعفیٰ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے وہ ملاقات منسوخ کردی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ملاقات منسوخ ہونے کے بعد امریکا اور طالبان میں امن مذاکرات بھی تاخیر کا شکار ہوئے تاہم اب پاکستان اور افغانستان کی حکومت کی کوششوں سے امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے طے پاگیا۔
