امریکی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری!

تحریر:عطا الحق قاسمی۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ
میں اپنے قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ انہیں گھر بیٹھے بٹھائے امریکہ یا یورپ کی کسی یونیورسٹی سے کسی بھی مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دلاسکتا تھا مگر اب دیر ہو گئی ہےتفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ اپنےعہدِجوانی میں لندن کی ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لئے لندن گیا تو میری واپسی سے ایک دن پہلے میرے ایک قدردان نے مجھے اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا ،میں نے عرض کی کہ ضرور حاضر ہوتا مگر پرابلم یہ ہے کہ کل مجھے واپس پاکستان جانا ہے اور آج کے دن مجھے کچھ ضروری کام نمٹانے ہیں ۔اس پر انہوں نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا آپ نے مجھے خدمت کی سعادت سے محروم رکھا مگر میں آپ کو ایسے ہی نہیں جانے دوں گا ایک تحفہ ضرور دوں گا۔آپ صرف حکم دیں کہ آپ آرٹس یا سائنس کے کس مضمون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لینا پسند کریں گے۔ بس آپ نشاندہی کردیں میں کل آپ کے ہوٹل پہنچا دوں گا اور یوں ایک بار پھر آپ کا دیدار بھی ہو جائے گا۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ایک ان پڑھ آدمی ہوں اتنی بھاری بھر کم ڈگری کا بوجھ نہیں اٹھا سکوں گا۔یہ تو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ڈگری فی سبیل اللہ نہیں ملتی بلکہ اس کیلئے طے شدہ رقم ڈالر یا پائونڈ میں ادا کرنا پڑتی ہے !

اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد میں اپنے ایک بزرگ دوست سے ملنے گیا جو واشنگٹن میں اپنے بیٹے کے پاس تین ماہ گزار کے واپس آئے تھے مگر دروازے پر ان کے نام کی تختی دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ان کے اسم گرامی کے ساتھ ’’پی ایچ ڈی واشنگٹن‘‘ بھی لکھا تھا انہوں نے مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا میں نے چائے کی میز پر ان سے پوچھا حضرت آپ نے پی ایچ ڈی کی ڈگری کتنے ڈالر میں لی ہے جس پر وہ خفا ہوئے اور فرمایا مجھے امریکہ کی ایک یونیورسٹی نے میرے تخلیقی کام کی تحقیق کے بعد یہ ڈگری دی ہے میں نے کہا وہ تو ٹھیک ہےمیں تو صرف یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ کہیں آپ یہ ڈگری مہنگی تو نہیں خرید بیٹھے جس پر ان کی خفگی میں اضافہ ہوا اور میں اس میں مزید اضافہ کے خدشے کے پیش نظر ان سے اجازت لیکر رخصت ہو گیا ۔اس کا اگلا حصہ اس سے بھی زیادہ ’’تباہ کن‘‘ ہے میں نے یہ واقعہ اپنے ایک بیوروکریٹ دوست کو سنایا جس پر انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا اب انسان کس کی تعلیمی قابلیت پر اعتبار کرے اور کس پر نہ کرے۔میں تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ گپ شپ کیلئے ان کے گھر گیا تو باہر نیم پلیٹ پر ان کے نام کے آگے پی ایچ ڈی امریکہ لکھا ہوا تھا میں نے ان سے بھی وہی بات کی، جو اپنے بزرگ دوست سے کی تھی، تو انہوں نے کہا یار یہ تم کیا کہہ رہے ہو میں بہت عرصے سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہا تھا امریکی یونیورسٹی نے پوری تحقیق کے بعد مجھے یہ ڈگری دی ہے یہ سن کر میں نے قہقہہ لگایا اور انہیں یاد دلایا کہ میں نے ہی آپ کو امریکی یونیورسٹی کی اس خدمت خلق کا بابت بتایا تھا ،اس وقت تک صورتحال یہ ہو چکی تھی کہ یہ ڈگریاں کراچی کے کسی بھی پٹرول پمپ سے آواز دے کر طلب کی جا سکتی تھیں ،میرے ایک دوست کو لندن کی ایک یونیورسٹی سے فون آیا کہ ہم آپ کی ادبی تحقیقات سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینا چاہتے ہیں اگر آپ انٹرسٹڈ ہیں تو اپنے احباب کے نام ،ان کے ایڈریس بھی ارسال کر دیں اور یہ بھی کہ وہ کس مضمون میں ڈگری چاہتے ہیں، میرے دوست نے انہیں اپنے گھر کے سامنے برف کا پھٹہ لگانے والے، ایک نان چنے فروش اور ایک بریانی والے کے نام اور ایڈریس بھیج دیئے جس کے نتیجے میں ان سب کو ’’یونیورسٹی ‘‘ کی طرف سے، جو کسی محلے میںقائم ہوتی ہے اور باہر یونیورسٹی کا بورڈ درج ہوتا ہے اور اندر اس کے ’’وائس چانسلر‘‘ صاحب ڈگریا ں ٹائپ کرنے میں لگے ہوتے ہیں کی طرف سے یہ آفر آگئی اور اس کیساتھ شرائط بھی درج تھیں، ان بیچاروں کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ سب کیا ہے اور ایک انگریز نے انہیں خط کیوں لکھا ہے تاہم انہوں نے انگریزی کا یہ خط فریم کرکے اپنے ڈرائنگ روم میں دیوار پر ٹانک دیا تاکہ لوگوں کو بتایا جا سکے کہ تم لوگ تو میری قدر نہیں کرتے جبکہ باہر میری اتنی عزت ہے ۔

اور ہاں ایک بار میں ایک صاحب ذوق سیکرٹری تعلیم کے دفتر میں بیٹھا ان سے گپ شپ میں مشغول تھا ،دفتر میں ایک خاتون بھی موجود تھیں جن کے نام کےساتھ ’’ڈاکٹر‘‘ کا لفظ بھی تھا اور وہ بہت نستعلیق لہجے میں بہت خوبصورت الفاظ کے ساتھ شامل گفتگو تھیں، میں نے گپ شپ کے دوران جب ڈاکٹریٹ کی جعلی ڈگری کے حوالے سے کچھ واقعات سنائے تو میرا بیوروکریٹ دوست بہت محظوظ اور حیران ہوتا رہا مگر میں نے محسوس کیا کہ ’’ڈاکٹر صاحبہ ‘‘ پریشان ہو رہی ہیں جس کے نمایاں آثار ان کے چہرے سے بھی نمایاں تھے خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، ڈاکٹر صاحبہ ان دنوں ہر ادبی فیسٹیول میں مدعو کی جاتی ہیں اور داد سخن لیتی ہیں اللہ انہیں تا دیر سلامت رکھے کہ ہم جاہلوں نے اردو انہی سے سیکھی ہے ۔

اور آخر میں اس داستان کا آخری پارٹ امریکہ اور یورپ کی ’’یونیورسٹیوں ‘‘ کی یہ ڈگریاں ہی ہمارے ہاں دستیاب نہیں، ایک دفعہ مجھے مولاناطاہرالقادری صاحب سے ان کے گھر پر شرف ملاقات حاصل ہوا تو گفتگو کے دوران انہوں نے میز پر پڑی دوسری ایک کتاب مجھے بطور تحفہ پیش کی یہ کتاب اس صدی کے ایک سو بڑے لوگوں کی داستان حیات تھی علامہ صاحب نے کتاب کے ورق الٹے اور ایک صفحے پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اس عاجزکو بھی اس صدی کے عظیم لوگوں میں شامل کیا گیا ہے میں نے انہیں نہیں بتایا کہ اس ادارے نے مجھ سے بھی میرے کوائف معلوم کئے تھے مگر میں نے خود کو ان بڑے لوگوں کی برابری کی گستاخی سے باز رکھا کہ خط میں یہ بھی درج تھا ’’پانچ ہزار ڈالر بھی ارسال کریں اور تاخیر سے کام نہ لیں کہ اس صدی کے بڑے لوگوں میں صرف چند افراد کی شمولیت ہو سکتی ہے اور امیدوار بہت زیادہ ہیں ۔‘‘

Back to top button