اموات کے باوجود سویڈن نے کرونا لاک ڈاؤن کیوں نہ کیا؟

جہاں پوری دنیا نے کرونا کی جان لیوا وبا کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے آپشن کو اختیار کیا ہے وہیں سویڈن دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اس وائرس سے اپنے ڈیڑھ ہزار شہریوں کی اموات ہونے کے باوجود لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ سویڈن کے ہمسایہ ممالک ڈنمارک اور ناروے میں سویڈن کی نسبت شرح اموات کم ہے لیکن اس کے باوجود وہاں بھی لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا حیران ہے اور امریکی صدر ٹرمپ پریشان ہیں کہ سویڈن نے لاک ڈاؤن کے برخلاف فیصلہ کیوں کیا؟
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سویڈن میں بھی روزانہ کرونا وائرس کی وجہ سے لوگ لقمہ اجل بنتے جارہے ہیں۔ اب تک سویڈن کے ڈیڑھ ہزار سے زائد شہری اس وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں جبکہ 15 ہزار کے قریب لوگوں میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ لیکن سویڈن کی حکومت کا موقف ہے کہ لاک ڈاؤن دراصل شخصی آزادیوں پر پابندیوں کے مترادف ہے اور ملک کا آئین شخصی آزادیوں پر کسی بھی قسم کی پابندی لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔
یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ سویڈن میں لاک ڈاؤن نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ پہلے جیسا ہے۔ یعنی کالج، یونیورسٹیوں، سینما اور ہر ایسی جگہ یا تقریب پر بندش عائد کی گئی ہے جہاں 50 سے زائد افراد کا مجمع اکٹھا ہوتا ہو، جبکہ دوسری طرف ڈے کئیر اور اسکول کھلے ہیں۔ اسی طرح دفاتر بھی کھلے ہیں، ہاں لیکن جو ملازمین اپنے گھروں سے اپنا کام کرسکتے ہیں انہیں گھر سے کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دفاتر میں حاضری بہت کم ہے۔
سویڈن کی حکومت کی جانب سے گھروں تک محدود ہوجانے والوں اور بیماری کی صورت میں چھٹی کرنے والوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ عام حالات میں طبّی وجوہات کے باعث ایک ہفتے سے زائد دنوں کی چھٹی کرنے پر ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب یہ مدت بڑھا کر 3 ہفتے کردی گئی ہے۔ یہاں بھی دیگر ملکوں کی طرح عوام کو غیر ضروری سفر نہ کرنے، سماجی فاصلہ رکھنے، ہاتھوں کو دھونے اور جراثیم کش محلول استعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یورپی یونین کے باہر سے کسی کو بھی سویڈن آنے کی اجازت نہیں جبکہ شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کم سے کم استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ بازار، دفاتر، ریسٹورنٹ سب کھلے ہیں لیکن لوگوں کو سماجی فاصلہ رکھنے کی ہدایات مشتہر کی گئی ہیں۔ تجارتی مراکز میں لوگ عام خریداری میں مصروف ہیں اور سڑکوں پر اگرچہ معمول سے کم لیکن رش ضرور ہے۔
سویڈش وزیرِاعظم اسٹیفن لوین نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ پر کھانا کھاتے ہوئے اپنے عوام کو پیغام دیا کہ وہ کاروباری اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہیں تاکہ کوئی بحرانی کیفیت پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے جو احتیاط کی جاسکتی ہے وہ کی جانی چاہیے۔ سویڈش حکومت کے اقدامات کو کاروباری اور تجارتی حلقوں نے بہت سراہا ہے اور اسی وجہ سے حکمراں جماعت سوشل ڈیموکریٹ اور وزیرِاعظم اسٹیفن لوین کی مقبولیت میں کافی اضافہ بھی ہوا ہے۔ سویڈن کی پالیسی پر دنیا بھر میں سوال اٹھائے جارہے ہیں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر امریکا بھی سویڈن کی طرح لاک ڈاؤن نہیں کیا جاتا اب تک ان کے ہاں 20 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے۔
کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سویڈش پالیسی وضح کرنے والی پبلک ہیلتھ ایجنسی کے سربراہ نی امریکی صدر کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر ہو گا کہ ٹرمپ اپنے ملک پر توجہ دیں اور ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔ یاد رہے کہ دنیا کی بہترین صحت کی سہولتیں بھی سویڈن کے شہریوں کو ہی میسر ہیں۔ لاک ڈاؤن نہ کرنے کے خلاف سویڈن کے اندر سے بھی کچھ آوازیں اٹھیں۔ سویڈش وزیرِاعظم اسٹیفن لویون سے ٹی وی انٹرویو میں ایک صحافی نے یہ تک پوچھ لیا کہ ملک کو پبلک ہیلتھ ایجنسی چلا رہی ہے یا وہ چلا رہے ہیں۔ جس پر وزیرِاعظم نے وضاحت کی کہ حکومت کے سربراہ وہی ہیں لیکن اداروں کی رائے کی اپنی اہمیت ہے۔
سویڈش وزیرِ خارجہ انا لندے نے لاک ڈاون نہ کرنے کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ یہ مفروضہ ہے کہ سویڈن میں سب کچھ عام حالات جیسا ہے اور وائرس سے نمٹنے کے لیے احتیاط نہیں برتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اہم سنجیدہ اقدامات کیے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں اسکول کھلے ہیں اور ہم لوگوں کو ان کے گھروں میں زبردستی نظر بند نہیں کرسکتے۔ یہ اقدام بنیادی شخصی آزادیوں کے خلاف ہوگا جس کی ہمارے آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن ایک مختصر وقت کے لیے کیا جاسکتا ہے لیکن لمبی مدت کے لیے یہ قابلِ عمل نہیں۔ انہون نے کہا کہ کرونا سے جنگ 100 میٹر کی دوڑ نہیں بلکہ میراتھن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن میں لاک ڈاؤن نہ کرنے کی بڑی وجہ ملک کا آئین ہے جسکے تحت یہاں شخصی آزادیوں پر پانبدی نہیں لگائی جاسکتی اور ایسا صرف جنگ کی صورت میں ہی ممکن ہے۔
یاد رہے کہ سویڈش میں ہر محکمہ خود مختار یے اور مرکزی حکومت کو اسکول بند کرنے کے بھی اختیارات حاصل نہیں۔ اس حوالے سے حکومت کو فیصلوں کا ایک حد تک ہی اختیار ہے جس کے بعد پارلیمان کو حق حاصل ہے۔ سویڈن میں آئین اور قانون کی بالادستی ہے جبکہ قانون میں تبدیلی کا طریقہ بہت مشکل ہے۔ سویڈن میں عوامی حقوق، شخصی آزادی اور نقل و حمل پر پابندیاں نہیں لگائی جاسکتیں۔ ان وجوہات کی بنا پر سویڈش حکومت اپنا حکم تھوپنے کے بجائے صرف مشورے دیتی ہے۔ حکومت کو یقین ہے کہ اس کے تعلیم یافتہ اور باشعور عوام ان ہدایات پر عمل درآمد ضرور کریں گے۔ تو یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر سویڈش حکومت نے کورونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے باوجود لاک ڈاون نہیں کیا۔ لیکن یہ پالیسی کتنی کامیاب رہتی ہے اور کتنی ناکام اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button