انتخابی نشان سے متعلق فیصلے پر برطانوی ہائی کمشنر کی تنقید بلا جواز ہے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق فیصلے پر برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھ دیا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے تحریک انصاف کے انتخابی نشان سے متعلق فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تفصیلات کے مطابق رجسٹرار سپریم کورٹ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ہدایت پر برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے جس میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر تنقید کا جواب دیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نشان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے  پر تنقید مناسب  نہیں، سپریم کورٹ نے وہی فیصلہ دیا جو قانون کہتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہےکہ  سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017  پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ سیاسی جماعتوں میں شخصی آمریت روکنے اور جمہوریت کی خاطر پارٹی انتخابات کرانا لازم ہے، قانون کے مطابق اگر کوئی سیاسی جماعت پارٹی انتخابات نہ کرائے وہ انتخابی نشان کی اہل نہیں۔

خط کے مطابق بہائی کمشنر نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں پرجوش تقریر کرکے جمہوریت کی اہمیت، انتخابات اور کھلے معاشرے کی اہمیت اجاگر کی، حکومت برطانیہ کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے تاہم پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کے اندرانتخابات کرانا ضروری تھا،  جس میں تاخیر صدر پاکستان اور الیکشن کمیشن میں اختلافات کے باعث ہوئی۔

خط میں لکھا گیا ہےکہ مذکورہ سیاسی جماعت نے انٹرا پارٹی انتخابات کے قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا مگر خود پارٹی انتخابات نہیں کرائے، انتہائی احترام کے ساتھ عدالتی فیصلے پر آپ کی تنقید غیر ضروری اور نامناسب ہے۔

Back to top button