انجنیئرز کی ہلاکت کے بعد چین نے سی پیک پر کام روک دیا

خیبر پختونخوا کے شمالی پہاڑی علاقے اپر کوہستان میں داسو ڈیم کے قریب ایک خودکش کار بم حملے میں اپنے 10 انجنئیرز کی موت کے بعد چین نے پہلی مرتبہ سخت ترین ردعمل دیتے ہوئے نہ صرف سی پیک کے کئی منصوبوں پر کام روک دیا ہے بلکہ 16 جولائی کی سی پیک جوائنٹ کواپریشن کمیٹی کے اجلاس میں بھی شرکت سے انکار کردیا جس کے بعد اسے منسوخ کرنا پڑا۔
چین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں سی پیک پراجیکٹس پر کام کرنے والے چینی باشندوں کو فول پروف سکییورٹی فراہم کئے جانے تک سی پیک منصوبوں پر دوبارہ کام شروع نہیں کیا جائے گا۔ چین نے باضابطہ طور پر پاکستان سے کہا ہے کہ وہ کوہستان دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جس میں 10 چینی کارکن اور ان کے تین پاکستانی ساتھی جاں بحق ہو گئے تھے۔ چینی وزیر اعظم لی کے چیانک نے یہ معاملہ اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے ساتھ ٹیلی فون پر اٹھایا۔ چیانگ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے اور اس میں ملوث افراد کو جوابدہ ٹہرائے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے اپنے چینی ہم منصب کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حکومت اس واقعہ کی مکمل تحقیقات میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گی اور کسی دشمن قوت کو پاکستان اور چین کے درمیان برادارنہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یاد رہے کہ چین نے کوہستان میں اپنے انجینئرز کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم پاکستان بھجوانے دیی ہے۔
پاکستان کی جانب سے شروع میں اس واقعہ کو ایک گیس بم دھماکہ قرار دیا جا رہا تھا تاہم چین کی طرف سے سخت ردعمل آنے کے بعد پاکستان نے تسلیم کیا ہے کہ چینی انجینئرز کی بس کو بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ دریا کے کنارے جاگری۔ پاکستانی تفتیش کاروں کو حادثے کے مقام سے ایک تباہ شدہ کار اور اس کے مبینہ ڈرائیور کے جسم کے کچھ حصے ملے ہیں جس سے اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ یہ ایک خود کش کار حملہ تھا۔ ذرائع کے مطابق بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ حملہ آور نے اپنی بارود سے بھری ہوئی کار کو پہلی بس سے ٹکرانے کی کوشش کی، لیکن بعض تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے پوری شدت سے دھماکہ نہیں ہو سکا اور بس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے لیکن بس میں سوار مسافر محفوظ رہے۔ تاہم دھماکے کے بعد اس کے پیچھے آنے والی بس کے ڈرائیور نے فوری طور پر اپنی بس کو ٹکرانے سے بچانے کی کوشش کی جس سے بس کھائی میں گر گئی اور بس کے لڑھکنے اور گرنے کی وجہ سے اس میں سوار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ہاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں چینی کارکنوں پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس واقعے سے پہلے بھی کراچی میں چینی قونصلیت اور کوئٹہ میں چینی حکام کو نشانہ بنانے کے لئے دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں۔ البتہ کسی گروپ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ واقعے کے بعد وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ داسو واقعہ میں بارود استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیں اور دہشت گردی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری جانب وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کے وزیرِ خارجہ کو آگاہ کیا تھا کہ داسو میں پیش آنے والے واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی نہیں ہے بلکہ ایک حادثہ تھا۔ تاہم چینی حکام کی طرف سے شک ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ ایک منظم دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ چین کی وزارتِ خارجہ نے دوشنبے میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ زی میں ملاقات کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق وانگ زی نے کہا کہ چینی عوام پاکستان میں بڑی تعداد میں چینی اہلکاروں کی ہلاکت پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستانی حکام جلد سے جلد اس واقعے کی وجوہات سے آگاہ کریں گے اور متاثرہ افراد کے علاج اور ریسکیو کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ واقعہ دہشت گردی کا ہے تو اس کے ذمہ داران کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ یی بھی کہا گیا کہ اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان میں جاری پاک چین مختلف منصوبوں پر کام کرنے والی چینی اہلکاروں کی حفاظت کو مزید بہتر بنایا جائے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہستان حملے کے بعد چین نے پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام روک دیا ہے اور جب تک چینی حکومت کو اپنے ورکرز کی سیکیورٹی کے حوالے سے مطمئن نہیں کیا جاتا تب تک چین ان منصوبوں پر دوبارہ کام شروع نہیں کرے گا۔
بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی حکام کے بعد پاکستان پہنچنے والی چینی تحقیقاتی ٹیم نے بھی اسی امکان کا اظہار کیا ہے کہ چینی انجینئرز کی بس کو ایک خودکش بمبار نے اپنی گاڑی کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کے بعد بس سڑک سے لڑھکتی ہوئی نیچے دریا کے کنارے آ گری۔
