ڈی جی نیب عرفان منگی انجینئر نکلا، جسٹس فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

جسٹس قاضی فائز عیسی نے نیب میں تقرریوں پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے نیب کے ڈی جیز کی تقرریوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےریمارکس دیے کہ نیب افسران کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، ہمیں اللہ سے زیادہ ایک آمر کا خوف ہوتا ہے، ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے، ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خود کو نیب افسر ظاہر کرکے فراڈ کرنے والے ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں نیب پراسیکیوٹر، ڈی جی نیب بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ محمدندیم مڈل پاس ہے اور بہاولپور سے کیسے نیب افسربن کرکال کرتا تھا، ملزم نے ایم ڈی پی ایس او کو ڈی جی نیب بن کر کال کی، مڈل پاس ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے لیکن ملزم کے پاس بڑے بڑے افسران کے موبائل نمبر کیسے آگئے۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مخلتف شکایات ملیں، ایم ڈی پی ایس او نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیا۔
جسٹس قاضی فائز نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے استفسار کیا کہ عرفان منگی صاحب آپ کی تعلیم اور تنخواہ کیا ہے، اس پر ڈی جی نیب نے بتایا کہ میں انجینئر ہوں اور تنخواہ 4 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔ جسٹس قاضی نے سوال کیا کہ کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیں، اس پر عرفان منگی نے بتایا کہ میرا فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں اس پر معزز جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک انجینئر نیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب کی تقرریوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں، چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کر کے کیسے بھرتیاں کر سکتے ہیں، چیئرمین نیب اب جج نہیں، انہیں ہم عدالت بلاسکتے ہیں، عرفان منگی کس کی سفارش پر نیب میں گھس آئے؟ مارشل لاء میں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، نیب عوام کے پیسے سے چلتا ہے اور سب عوام کے نوکر ہیں۔
معزز جج نے ریمارکس دیے کہ ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے، ہم نیب کا میڈیا ٹرائل نہیں کر رہے، ویسے بھی میڈیا والے آج کشمیر واک پر گئے ہوئے ہیں، بہت مواقع دئیے مگر نیب کے غیر قانونی کام جاری ہیں، نیب افسران کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، لوگوں کو ڈرانے کیلئے نیب کا نام ہی کافی ہے۔ معزز جج کی برہمی پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم اپنا کام قانون کے مطابق کرتے ہیں، اس پر جسٹس قاضی نے کہا کہ لگتا ہے ہمیں نیب کیلئے قانون کی کلاسز لگانا پڑیں گی، 1999 سے اب تک کوئی رولز اینڈریگولیشنزبنائے ہی نہیں گئے۔
جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ہم سب ریاست کے ملازم ہیں، ہم سب نے مل کر قانون کی عملداری میں حائل قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے جب کہ قانون کا وقار بحال کیے بغیر قانون کی عملداری قائم نہیں ہو سکتی۔
سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب عرفان نعیم منگی کی تقرری اوراہلیت پرسوال اٹھاتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کر دیا۔عدالت نے نیب کے تمام ڈی جیز کی تقرریوں سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلیں. سپریم کورٹ نے چئیرمین نیب کے افسران بھرتی کرنے کے اختیارات کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کر کے کیسے بھرتیاں کر سکتے ہیں، نیب کا سیکشن 28 آئین کے آرٹیکل 240 سے متصادم ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم محمد ندیم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
