اندرون اور بیرون ملک رقم بھیجنے کے طریقے کونسے ہیں؟


جب سے پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کے گرداب میں پھنسا ہے تب سے اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کےلیے رقم کی منتقلی ایک مشکل کام بن گیا ہے، دوسری جانب کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث روائتی اور غیر قانونی حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقم کی منتقلی تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ ایسے میں عام لوگوں کےلیے جاننا بہت ضروری ہے کہ وہ کون سے قانونی اور محفوظ ذرائع ہیں جن کے ذریعے رقم منتقل کی جاسکتی ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق سال 2019 میں دو لاکھ تین ہزار 625 پاکستانیوں نے مختلف ممالک کا رخ کیا۔ پاکستان کے دیہی علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد حصول رزق کےلیے اندرون ملک بھی مختلف شہروں کا رخ کرتی ہے۔ یہ تمام لوگ اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ اپنے خاندانوں کےلیے آبائی علاقوں کو بھجواتے ہیں اور رقوم کی اس منتقلی کےلیے آسان ترین طریقے تلاش کرتے ہیں۔
اب ڈیجیٹل فنانشل انکلوژن کا دور ہے، اب نہ صرف اندرون ملک بلکہ باہر سے بھی پیسے باآسانی بھیجے جا سکتے ہیں جس کےلیے آپ کو صرف ایک موبائل فون نمبر یا پاسپورٹ درکار ہے۔ پیسے اندرون ملک بھیجنے ہوں یا بیرون ملک، اس کےلیے کئی ذرائع ہیں لیکن ہر طریقے کی اپنی خصوصیات ہیں۔ ٹیلی کام کمپنیز کا شمار بھی اب منی بینکس میں ہوتا ہے جو ملک بھر میں کوئی بھی رقم لمحوں میں کہیں سے کہیں منتقل کر دیتی ہیں۔ اور اب اس بات کے امکانات بھی بڑھ گے ہیں کہ یہ ٹیلی کام کمپنیاں جلد ہی بیرون ملک سے رقم کی منتقلی کا بھی آغاز کر دیں۔
رقوم کی منتقلی کےلیے چند نمایاں طریقوں میں ایک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بھی ہے، وفاقی حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کی آسانی کےلیے ملک میں کام کرنے والے تمام بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ’روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس‘ کے ذریعے دوسرے ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو گھر بیٹھے پاکستانی بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت فراہم کریں۔ ماہرین کے مطابق ’روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس‘ کے باوجود اسٹیٹ بینک نے ایک حکمت عملی مرتب کی ہے جس کے تحت بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں رقم کی منتقلی یقینی بنائیں۔ حکومت نے بیرون ممالک میں موجود بینکوں سے رابطے کرکے رقوم کی منتقلی فیس ختم کرنے کے بھی انتظامات کیے ہیں اور اب وہ منتقلی فیس اسٹیٹ بینک ادا کر رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ بینکوں کے ذریعے پیسے بھیجیں۔ یہ اقدامات اس لیے بھی کیے گئے ہیں تا کہ ہنڈی اور حوالہ جیسے بوسیدہ نظام جو کہ دہائیوں سے رائج تھے، ان سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
رقوم منتقلی کے بین الااقوامی ادارے ’ویسٹرن یونین‘ کی پاکستان کے تمام شہروں میں بے شمار شاخیں ہیں۔ اس کے ذریعے بھی رقم فوری اور محفوظ طریقے سے منتقل کی جاسکتی ہے جب کہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ممالک سے ان ایکسچینج کمپنیز کے ذریعے بھی رقم بھجوائی جاسکتی ہے جو اسٹیٹ بینک کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ یہ کمپنیاں بھی پیسے بھیجنے کےلیے قابل اعتبار ہیں۔ صارفین پیسے بھیجنے سے قبل متعلقہ کمپنی کی اسٹیٹ بینک سے رجسٹریشن کے متعلق معلوم کرکے اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان نے حال ہی میں’راست اکاؤنٹ‘ کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے باآسانی کہیں بھی پیسے منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ توقع کی جارہی کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی طرح یہ سروس بھی بہت مفید ہوگی اور کامیابی حاصل کرے گی۔
اگرچہ خط و کتابت کےلیے ڈاک خانوں کا استعمال اب بہت حد تک متروک ہو چکا ہے تاہم پیسے بھیجنے کےلیے منی آرڈر کی سہولت اب بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ پاکستان پوسٹ نے کچھ عرصہ قبل الیکٹرانک منی آرڈر سروس کا بھی آغاز کیا جس کے ذریعے ملکی پیسے کی منتقلی بہت ہی معمولی چارجزکے ساتھ کی جارہی ہے۔ یہ سروس پاکستان بھر کے تمام 83 جی پی اوز میں دستیاب ہے۔ اسی طرح پاکستان کے اندر مختلف شہروں میں رقوم کی ترسیل کےلیے موبائل فون کمپنیوں کے نیٹ ورکس اس وقت بہت مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے ذریعے لمحوں میں رقوم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہیں۔ اس کےلیے محض موبائل فون نمبرز اور شناختی کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان نیٹ ورکس نے پاکستان کے کونے کونے میں گلی محلوں میں اپنے پوائنٹس بنائے ہوئے ہیں جہاں سے آپ اپنے پیسے بھیج یا وصول کر سکتے ہیں۔
بیشتر بینکوں اور موبائل فون نیٹ ورکس نے اب رقم منتقلی کےلیے ’ایپس‘ بھی لانچ کر دی ہیں، جن کے ذریعے آپ اپنے دفتر یا گھر بیٹھے فوری طور پر کہیں بھی پیسے بھیج سکتے ہیں۔
اگرچہ ڈیجیٹل کرنسی یعنی کہ ’بٹ کوائن‘ وغیرہ ابھی تک پاکستان میں غیر قانونی ہے لیکن دنیا بھر میں اس کا استعمال اب بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں پاکستان میں آئی ٹی تعلیم کے بڑے ادارے کامسیٹس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ارشد قدوس قاضی نے بتایا کہ رقوم کی منتقلی کےلیے ’ڈیجیٹل کرنسی‘ ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جدید دور میں پاکستان کو بھی ڈیجیٹل کرنسی کی طرف آنا ہوگا۔ ڈیجیٹل کرنسی کی منتقلی یا اس کی مقدار کا پتہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے۔
رقوم منتقلی کا پاکستان کی معیشت میں کردار کے حوالے سے سینئر صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران کے دوران رقوم کی منتقلی کے عمل نے معیشت کو بڑی حد تک سہارا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے بعد کی معیشت کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ زر مبادلہ میں چھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق زر مبادلہ 31.23 ارب روپے تک بڑھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button