انسانی حقوق کے علمبردار آئی اے رحمان انتقال کرگئے

معروف صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار ابن عبدالرحمٰن (آئی اے رحمٰن) 90 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ آئی اے رحمٰن روزنامہ ڈان کے کالم نگار بھی تھے۔
ان کی نماز جنازہ ایل آر بی ٹی اسپتال کے قریب اے ون سوسائٹی ٹاؤن شپ کی مسجد القدس میں بعد نماز عشا ادا کی جائے گی۔ آئی اے رحمٰن نے سوگواران میں تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے، جب کہ ان کی اہلیہ 2015 میں وفات پاگئی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق آئی اے رحمٰن ذیابیطس اور بلند فشار خون کے مریض تھے۔ انسانی حقوق دفتر کے مطابق آئی اے رحمٰن 1930 میں بھارت میں پیدا ہوئے اور کئی نامور اشاعتی اداروں میں بطور مدیر فرائض انجام دیے۔ وہ پاکستان۔بھارت پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے بھی بانی رکن تھے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کےلیے ان کی نمایاں جدوجہد پر انہیں نیویارک کی انسانی حقوق کی تنظیم نے ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ متعدد صحافیوں اور دیگر معروف شخصیات نے ٹوئٹر پر ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے آئی اے رحمٰن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دیانتداری کے پیکر تھے جو مشکل ترین اوقات میں ہر بنیادی حقوق اور ہر جمہوری قدر کےلیے مضبوطی سے کھڑے رہے۔ سلمان صوفی فاؤنڈیشن کے بانی سلمان صوفی نے انہیں عقل و دانش کی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی حقائق بیان کرنے سے نہیں گھبرائے۔
ماہر تعلیم عادل انجم نے آئی اے رحمٰن کی دانائی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی سابقہ رہنما بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ آج ملک کے انسانی حقوق کے کارکنان کےلیے بہت افسوسناک دن ہے۔
صحافی نسیم زہرا نے کہا کہ آئی اے رحمٰن، پاکستان کی جمہوری کوشش کے ہراول دستہ تھے۔
صحافی رضا رومی کا کہنا تھا کہ آئی اے رحمٰن انگنت انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی رہنماؤں کے استاد تھے۔
انسانی حقوق کی رہنما اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کی سابق چیئرسن زہرا یوسف نے کہا کہ آئی اے رحمٰن نے کم عمری میں کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی اے رحمٰن 1990 کی اوائل میں ایچ آر سی پی میں شمولیت سے قبل پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر کے فرائض انجام دیے تھے۔ انہوں نے ایچ آر سی پی کے پہلے ڈائریکٹر اور بعد ازاں سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔
