انصافیوں کا کپتان کو ترین پر ہتھ ہولا کرنے کا مشورہ


تحریک انصاف کے مفاہمت پسند عناصر نے جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کو تدبر کے ساتھ معاملہ سلجھانے کا مشورہ دیا ہے تاکہ پارٹی اور حکومت کو مزید مشکلات کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے انہی مفاہمت ہسندون رہنمائوں نے ترین کو کپتان کی مجبوریوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے تاکہ معاملے کو کسی طرح ٹھنڈا کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین اپنی ہی حکومت میں خود پر لگے چینی کی بلیک مارکیٹنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر نالاں ہیں، اور ایف آئی اے کی جانب سے مقدمات کے اندراج کے بعد وہ تحریک انصاف سے اکنے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔ اس دوران ترین کے ذریعے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے کئی وزرا اور اراکین و قومی و صوبائی اسمبلی کھل کر انکے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں اور حکومتی جماعت میں ایک فارورڈ بلاک بنائے جانے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان حالات میں کپتان حکومت ہل کر رہ گئی ہے۔
حکومت کو خطرے میں گھرتا دیکھ کر مصلحت پسند پی ٹی آئی حلقے ترین کا معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹانے کی ضرورت پر زور دے رے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نو اپریل کو وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے موقع پر ان کے قریبی دوست اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے سابق مشیر عون چوہدری نے کپتان سے ملاقات کی۔ عون چوہدری نے عمران خان سے درخواست کی کہ وہ ترین کے معاملے پر نظر ثانی کریں کیونکہ ایک اتنا قریبی دوست اور پارٹی کا اثاثہ اپنوں کی سازشوں کے نتیجے میں دور ہو رہا ہے۔ کئی دیگر پارٹی رہنما بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف ایف آئی اے کہ کارروائی سے مرکز اور پنجاب میں حکومت بری طرح متاثر ہو گی لہذا کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہیے جس میں کہ احتساب بھی ہو جائے اور کپتان پر اپنے دیرینہ رفیق کو انتقام کا نشانہ بنانے کا الزام بھی نہ آئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی کو ترین کے ساتھ دس اپریل کو عدالت میں جانے والے اراکین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے سخت تشویش لاحق ہو چکی ہے اور معاملات کو سلجھانے کے لئے ترین کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی کے حوالے سے نظر ثانی کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ 10 اپریل کو ترین کے ساتھ عدالت جانے والے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی تعداد 9 اپریل کو ان کے گھر ڈنر میں شریک اراکین سے کہیں زیادہ تھی۔ 9 اپریل کے عشائیے میں 29 اراکین اسمبلی نے شرکت کی تھی جبکہ 19 اپریل کو 44 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ترین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لاہور کی بینکنگ کورٹ گئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ طور پر جہانگیر ترین کے حامیوں پر مشتمل ایک ہم خیال گروپ وجود میں آ چکا ہے اور آئندہ چند روز میں وفاقی اور صوبائی وزراء سمیت مزید اراکین اسمبلی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین نے بھی جہانگیر ترین سے رابطہ کر کے اظہار یکجہتی کیا ہے اور پرویز خٹک بھی انکے ساتھ ہیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سمیت تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی جن میں وزراء مشیروں اور معاونین خصوصی شامل ہیں، کھل کر ترین کی حمایت میں سامنے آجائیں گے۔ سات اپریل کو بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر چودہ اراکین اسمبلی کی آمد کے بعد حکومت نے اپنے ذرائع سے ترین کے مزید حامی اراکین اسمبلی کا کھوج لگانے کی کوشش کی تھی جبکہ کہ بعض اراکین کو مختلف ذرائع سے یہ پیغام بھی دیا گیا تھا کہ وہ میڈیا کے سامنے ترین کے ساتھ منظر عام پر نہ آئیں۔ لیکن اس تمام تر کوشش کے باوجود نو اپریل کی رات مزید 15 اراکین اسمبلی نے جہانگیر ترین کے عشائیے میں شرکت کی جس کے بعد حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کہ جہانگیر ترین کے ساتھ وزراء اور اراکین اسمبلی کی اعلانیہ حمایت کے بعد دیگر ایسے اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں کو بھی حوصلہ ملا ہے جو ترین کے ساتھ قربت رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے منظر عام پر نہیں آرہے تھے کہ کہیں پارٹی قیادت ان سے ناراض نہ ہو جائے۔اب تحریک انصاف کے اہم ترین تنظیمی رہنماؤں نے بھی ترین کی حمایت میں کھل کر سامنے آنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترین کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کپتان کے لیے انتہائی غیر متوقع ہے اور پارٹی قیادت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ دھڑے بندی پڑھنے سے حکومت خطرے میں پڑ جائے گی۔ بعض حکومتی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم ترین پر کیسز بننے کے بعد کی صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ وہ غیر جانبدار ذرائع سے دوبارہ معلومات لے کر یہ جاننے کی کوشش کریں کہ انہیں جو کچھ بتایا جا رہا ہے اس میں کتنی صداقت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button