انقلابی ‘چی گویرا’ کو گولی مارنے والے فوجی کی موت


اپنے آدرشوں کی خاطر آخری سانسوں تک گوریلا جنگ لڑنے والے انقلابی کمیونسٹ راہنما چی گویرا کو گولی مارنے والا بولیویائی فوجی بھی اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ ماریو تیران نامی بولیویا کے جس فوجی نے چی گویرا کو ایک جنگل سے گرفتاری کے بعد حراست میں گولی مار کر قتل کیا تھا وہ بالآخر 80 سال کی عمر میں انتقال کر گیا ہے۔ 1967ء میں مہینوں تک جنگلوں میں پیچھا کرنے کے بعد چی گویرا کو گرفتار کرنے کے بعد شوٹ کرنے والی ٹیم کے سربراہ ریٹائرڈ جنرل گیری پرادو نے 12 مارچ کو تصدیق کی کہ مرنے والے فوجی ماریو تیران نے فوج میں بحیثیت سارجنٹ چی گویرا کو گولی مار کر اپنا فرض ادا کیا تھا۔ ماریو تیران کی موت طویل علالت کے بعد ہوئی، اور وہ سانتا کروز کے شمالی شہر سیرا میں زیر علاج تھا۔
یاد رہے کہ جب چی گویرا کیوبا سے روپوش ہوا تو امریکی سی آئی اے نے اس کا پیچھا شروع کر دیا کیونکہ اس وقت تک فیڈل کاسترو اور چی گویرا امریکہ کے دو بڑے دشمن بن چکے تھے اور کاسٹرو پر کئی قاتلانہ حملے ہو چکے تھے۔ چند سالوں کی جاسوسی کے بعد امریکیوں نے 8 اکتوبر 1967 کو چی گویرا اور اس کے گوریلا ساتھیوں کو پکڑ لیا اور اگلے دن ان سب کو قتل کر دیا۔ امریکی حکومت چی گویرا کی مقبولیت سے اتنا خوفزدہ تھی کہ اس نے صرف اس کے دو ہاتھ ساری دنیا کو دکھائے اور اس کی لاش کو اس کے گوریلا ساتھیوں سمیت کسی انجان جگہ پر پراسرار طریقے سے دفن کر دیا۔ ایک طویل عرصے تک چی گویرا کے چاہنے والوں کو خبر نہ ہوئی کہ ان کا ہیرو کہاں دفن ہے۔
چی گویرا کے پراسرار قتل کے تیس سال بعد 1997ء میں ایک جرنلسٹ نے بولیویا کے ایک جرنیل کے ساتھ شراب پیتے ہوئے پوچھا کہ اسے چی گویرا کی قبر کی تلاش ہے۔ جرنیل نے کہا کہ وہ اس کی قبر بارے جانتا ہے کیونکہ اسی نے چے گویرا کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ اس قبر میں اتارا تھا۔ جرنلسٹ نے راز جاننے کے بعد اگلے دن اخبار میں اسکا انکشاف کر دیا۔ خبر چھپنے کے بعد جرنیل کو راز فاش کرنے کی سزا ملی لیکن چی گویرا کے پرستاروں کو موقع ملا کہ وہ اپنے ہیرو کی لاش کو بولیویا سے کیوبا لا سکیں اور عزت سے دفنا سکیں۔
چی گویرا کے قتل کی کہانی کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ امریکی سی آئی اے کی مدد سے ایک جنگل سے گرفتاری کے وقت بھوک اور بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ اپنے کمیونسٹ گوریلا گروپ کی قیادت کر رہے تھے، زخمی چی گویرا کو لاگیویرا گاؤں کے ایک سکول میں لایا گیا تھا جہاں انھوں نے رات گزاری تھی، اگلے ہی روز فوجی کمانڈر کے حکم پر ماریو تیران نے انہیں زخمی حالت میں گولی مار۔کر قتل کر دیا، تب کے کمیونزم کے مخالف صدر رینی برینتوس نے چی گویرا کے قتل کانھکم۔دیا تھا، اس واقعے کے بعد چی کو گولی مارنے والے ماریو تیران کا کہنا تھا کہ یہ میری زندگی کا بدترین لمحہ تھا۔ ماریو تیران کے مطابق شوٹ ہونے سے پہلے چی کی آنکھیں چمک رہی تھیں، جب میں نے اس پر نظر جمائی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھ پر حملہ کر کے مجھبسے گن چھین لے گا، لیکن چی نے مجھ سے کہا کہ پُر سکون رہو اور اپنے ہدف پر توجہ رکھو، تم ایک مرد کو قتل کرنے جا رہے ہو، ماریو تیران نے بتایا کہ اس کے بعد میں ایک قدم پیچھے ہٹا، اپنی آنکھیں بند کیں اور چی پر گولی چلا دی۔
ارجنٹینا میں پیدا ہونے والے چی گویرا کیوبا کے انقلابی رہنما تھے جو بائیں بازو کے حامیوں کے ہیرو بن گئے تھے، چی گویرا کے نام سے مشہور ارنیستو گویرا ڈی لا سرنا 14 جون 1928ء کو ارجنٹینا کے علاقے روساریو کے متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے، انہوں نے بوئنس آئریس یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہیں جنوبی اور وسطی امریکا میں بہت زیادہ سفر کرنے کا موقع ملا، انیون نے بڑے پیمانے پر پھیلی غربت اور ظلم و جبر کا مشاہدہ کیا اور مارکسزم میں دلچسپی نے انہیں قائل کیا کہ جنوبی اور وسطی امریکا کے مسائل کا واحد حل مسلح انقلاب ہے۔ چی گویرا کو رگبی اور شطرنج کا کھلاڑی، دمے کا مریض، ڈاکٹر، فوٹوگرافر، موٹر بائیک رائیڈر، شاعر، گوریلا کمانڈر، باپ، شوہر، ڈائری نویس، ادیب اور انقلابی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 1954ء میں چی گویرا میکسیکو گئے اور اگلے سال کیوبا کے انقلابی رہنما فیڈل کاسترو سے ملے۔ چی گویرا نے کاسترو کی انقلابی تحریک میں شمولیت اختیار کی اور کیوبا کے امریکا نواز آمر باتیستا کے خلاف گوریلا جنگ میں اہم کردار ادا کیا، فیڈل کاسترو نے 1959 میں باتیستا کا اقتدار ختم کیا اور حکومت سنبھال لی، 1959 سے 1961 کے دوران چی گویرا کیوبا کے نیشنل بینک کے صدر تھے اور پھر وزیر برائے صنعت رہے، انہون نے اس عہدے پر کیوبا کے سفارت کار کی حیثیت سے دنیا بھر میں سفر کیا، انہون نے امریکا کے سخت ناقد کی حیثیت سے فیڈل کاسترو کی حکومت کو سوویت یونین سے اتحاد میں معاونت فراہم کی، لیکن امریکا کی جانب سے تجارتی پابندیوں اور ناکام اصلاحات کے بعد کیوبا کی معیشت بدحال ہو گئی۔
بعدازاں چی گویرا نے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے دیگر حصوں میں انقلاب پھیلانے کی خواہش کا اظہار کیا جس کے بعد 1965 میں فیڈل کاسترو نے اعلان کیا کہ چی گویرا نے کیوبا چھوڑ دیا ہے۔
اپنی کتاب چی گویرا کی ڈائری میں ان کی جانب سے کاسترو کو لکھے گئے دو خطوط بھی ہیں جن میں سے ایک میں وہ لکھتے ہیں، ’’مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے فرض کا وہ حصہ ادا کر دیا ہے جس نے مجھے کیوبا کی سرزمین اور انقلاب سے منسلک رکھا، سو میں تم سے، ساتھیوں سے اور تمھارے عوام سے جو میرے ہو چکے ہیں، رخصت ہوتا ہوں، کوئی قانونی بندھن مجھے اب کیوبا کے ساتھ نہیں باندھے ہوئے، جو بندھن ہیں وہ ایک اور نوعیت کے ہیں، ایسے بندھن جنہیں اپنی مرضی سے توڑا نہیں جا سکتا۔ جاتے جاتے اپنے بچوں کے نام خط میں چی گویرا نے لکھا، ’’تمہارا باپ ایک ایسا آدمی تھا، جس نے جو سوچا اُس پر عمل کیا، یقین رکھو وہ اپنے نظریات سے مکمل طور پر وفادار رہا، یاد رکھو اگر کوئی چیز اہم ہے تو انقلاب، اس کے مقابلے میں ہماری ذات، اور ہمارا وجود کوئی اہمیت نہیں رکھتا، چی گویرا نے کئی ماہ براعظم افریقہ میں گزارے۔
انہوں نے گوریلا جنگ کیلئے باغی فوج کو تربیت دینے کی کوشش کی جو رائیگاں گئیں اور 1966 میں وہ خفیہ طور پر کیوبا لوٹ گئے، پھر انہوں نے کیوبا سے بولیویا جانے کی ٹھانی تاکہ وہ رینی بارنتوس اورتونو کی حکومت کیخلاف باغی افواج کی قیادت کر سکیں۔ اس دوران امریکی سی آئی اے کی مدد سے بولیویا کی فوج نے انہیں شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا اور پھر گولی مار کر قتل کر دیا۔

Back to top button