پاکستانی پڑھے لکھے نوجوان انٹرنیشنل فراڈیوں کے نشانے پر

 

 

 

چمکتی دمکتی نوکریوں کے اشتہارات، بھاری تنخواہوں کے دلکش وعدے، مفت ویزہ، ٹکٹ اور رہائش کی سہولیات کے دعوے،سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر پھیلتا ہوا سکیمنگ کا جال اب پاکستانی نوجوانوں کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے والے نوجوان ان پرکشش آفرز کے پیچھے چھپے خطرات کو نظر انداز کر کے ایک ایسے جال میں پھنس جاتے ہیں، جہاں سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی آن لائن سکیمنگ اب جدید دور کے “بیگار کیمپوں” کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں نوجوانوں کو سنہرے خواب دکھا کر بیرون ملک لے جایا جاتا ہے اور بعد ازاں ان سے کم اجرت کے عوض نہ صرف جبری مشقت لی جاتی ہے بلکہ ٹارگٹ پورا نہ کرنے پر ذہنی اور جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یوں روشن مستقبل کے متلاشی پاکستانی نوجوانوں کے تمام خواب کرچی کرچی ہو جاتے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق ماضی میں غیر قانونی ہجرت یعنی ڈنکی زیادہ تر مالی طور پر کمزور افراد تک محدود تھی، مگر اب تعلیم یافتہ اور بہتر مستقبل کے خواہشمند نوجوان سکیمنگ کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق، یہ کوئی عام فراڈ نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک ہے جو نوجوانوں کو بیرون ملک بلا کر ان سے جبری مشقت لیتا ہے۔ماہرین اس صورتحال کو “جدید دور کا بیگار کیمپ” قرار دیتے ہیں۔ ان فراڈیوں کے طریقہ واردات بارے ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے سکیمرز جدید ٹیکنالوجی اور “ٹارگٹڈ ایڈورٹائزنگ” کا استعمال کرتے ہوئے خاص طور پر ایسے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں جو بیرون ملک بہتر مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ یہ اشتہارات اس قدر حقیقت کے قریب ہوتے ہیں کہ یہ باآسانی نوجوانوں کا اعتماد حاصل کر لیتے ہیں۔ تاہم بغیر تصدیق کے ان کمپنیوں پر یقین کرنا نوجوانوں کو ایک ایسی بند گلی میں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔

 

تحقیقات کے مطابق، ان فراڈی کمپنیوں کا پہلا ہتھکنڈا ویزہ فراڈ ہوتا ہے۔جس کے تحت نوجوانوں کو ورک ویزہ کے نام پر وزٹ ویزہ پر بیرون ملک بلایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی غیر قانونی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد بیرون ملک پہنچنے پر ویزا پراسس کروانے کے نام پر ان نوجوانوں کے پاسپورٹس ضبط کر لیے جاتے ہیں، اور یوں وہ مکمل طور پر ان فراڈیوں کے کنٹرول میں آ جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹریننگ کے نام پر چند دن گزارنے کے بعد اصل کھیل شروع ہوتا ہے۔ متاثرہ نوجوانوں سے بغیر معاوضہ طویل اوقات تک کام لیا جاتا ہے، اور اگر کوئی مزاحمت کرے تو اسے نہ صرف گرفتاری کی دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ انھیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، اس طرح ان کے سامنے مسلسل مقامی پولیس کو اطلاع دینے یا پھر فوری ڈی پورٹ کروا دینے کی تلوار مسلسل لٹکتی رہتی ہے۔ اس خوف اور دباؤ کے ماحول میں نوجوان خود کو ایک ایسے “بیگار کیمپ” میں پاتے ہیں جہاں آزادی محض ایک خواب بن جاتی ہے۔

پاکستان میں پروازوں کی معطلی اور منسوخی معمول کیوں بن گئی؟

سماجی ماہرین اس صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی بحران بھی بنتا جا رہا ہے۔ ایسے متاثرین نہ صرف مالی نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ ان کا اعتماد، ذہنی سکون اور مستقبل بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جب یہ نوجوان پکڑے جاتے ہیں تو انہیں ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے، جس کے بعد ان کا ریکارڈ ریڈ لسٹ میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کیلئے مستقبل میں کسی بھی ملک کا ویزہ حاصل کرنا یا سفر کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، یوں ایک غلط فیصلہ ان کے کیریئر اور زندگی پر دیرپا منفی اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی بیرون ملک ملازمت کے اشتہار پر یقین کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں، متعلقہ اداروں سے تصدیق حاصل کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ ایجنٹ یا کمپنی سے دور رہیں۔ماہرین کے مطابق آن لائن سکیمنگ کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ایک خاموش خطرہ ہے، جو مسلسل نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لےرہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آگاہی، احتیاط اور بروقت کارروائی کے ذریعے اس خطرے کا مقابلہ کیا جائے، ورنہ یہ “ڈیجیٹل جال” مزید کئی نوجوانوں کی زندگیاں نگل سکتا ہے۔

 

Back to top button