انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافے کے باوجود سائبر جرائم میں کمی

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث انٹرنیٹ خاص طور پر آن لائن شاپنگ کے استعمال میں 40 فیصد اضافے کے باوجود سائبر کرائمز بشمول مالیاتی جرائم میں کمی کا رجحان پایا گیا۔آن لائن تجارت کرنے والے کچھ تاجر ایف آئی اے کے دعوے سے اختلاف کرتے ہیں۔
کاروباری افراد کے مطابق لاک ڈاون کے دوران جہاں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور اکثر افراد معمول سے زیادہ آن لائن وقت گزار رہے ہیں جس میں شاپنگ، بینکنگ، مواد دیکھنا اور سماجی رابطے شامل ہیں وہیں سائبر مجرمان نے اپنے طریقہ کار اور مجرمانہ سرگرمیوں میں تبدیلی کرکے اس بحران سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل کیا ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ (سی سی ڈبلیو) نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ملک بھر میں سائبر مالیاتی جرائم میں کمی ادارے کی جانب سے اپنائے گئے ‘مؤثر اقدامات’ کے باعث ہے۔
وفاقی ادارے کے مطابق سی سی ڈبلیو میں شکایات کے اعداد و شمار کے تجزیے سے لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ کے استعمال میں 40 فیصد اضافے کے باوجود ملک میں آن لائن مالیاتی جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی سے متعلق معلوم ہوا۔ ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ لاک ڈاؤن سے قبل 928 شکایات کے مقابلے میں لاک ڈاؤن کے دوران سائبر مالیاتی جرائم سے متعلق 488 شکایات رپورٹ ہوئیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کمی کی وجہ سے ملک میں سائبر مالیاتی جرائم سے ہونے والے مالی خساروں میں بھی کمی آئی۔
یکم مارچ سے 22 اپریل تک گزشتہ 53 دنوں میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے سائبر مجرمان کے 6 گروہوں کے خلاف کارروائی کی اور 45 غیر ملکیوں اور مقامی مشتبہ ملزمان کو گرفتار کیا۔ مزید برآں رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس عرصے میں صرف 30 مقدمات کی باضابطہ رجسٹریشن، ایف آئی اے کی جانب سے عوام کو ایسے افراد سے محفوظ رکھنے کے لیے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کی عکاسی کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ یکم مارچ سے 22 مارچ تک، مجموعی طور پر 923 شکایات درج ہوئیں جن میں سے 154 آن لائن بینکنگ فراڈ، 130 ویب سائٹ فراڈ، 497 موبائل بینکنگ فراڈ اور 141 سوشل میڈیا فراڈ سے متعلق تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اعداد و شمار میں 23 مارچ سے 14 اپریل (لاک ڈاؤن کے ابتدائی عرصے کے دوران) جرائم میں تیزی سے کمی دیکھی گئی اور مجموعی طور پر 488 شکایات درج ہوئیں ان میں سے 89 آن لائن بینکنگ فراڈ، 273 موبائل بینکنگ فراڈ اور 50 سوشل میڈیا فراڈ سے متعلق تھیں۔ ایف آئی اے نے مزید کہا کہ یہ سب صرف لوگوں کو سائبر کرائم سے متعلق معلومات سے آگاہ کرنے کے مؤثر طریقے کی وجہ سے ہوا تاکہ ان سائبر مجرمان کی جانب سے لوگوں بشمول کاروباری افراد کو دھمکانے اور ان کے ساتھ دھوکا دہی کی ترکیبوں سے آگاہ کیا جاسکے۔ تاہم آن لائن کاروبار کرنے والے کچھ کاروباری افراد ایف آئی اے کے دعوے سے اختلاف کرتے ہیں، کاروباری شخص فرخ سلطان جنہیں حال ہی میں کچھ سائبر مجرمان نے دھوکا دیا تھا، انہوں نے کہا کہ وہ انتہائی چالاک اور ہوشیار تھے اور دھوکا دینے کے لیے جدید تکنیکوں اور مہارت کا استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروباری افراد کو سائبر فراڈز کو سمجھنے میں وقت لگا، انہوں نے کہا کہ آن لائن تجارت کرنے والے افراد ان ملزمان کے فراڈ سے بچنے کے لیے دیگر طریقے اپنارہے ہیں جس میں بیک وقت ایک سے زائد اکاؤنٹ سے کاروبار کرنا شامل ہے۔
