انٹر بینک میں امریکی 201 روپے پر پہنچ گیا

پاکستانی روپے کی گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو 200.25 روپے پر بند ہونے کے مقابلے میں ڈالر 80 پیسے اضافے کے بعد آج صبح 11 بج کر 30 منٹ کے قریب 201.05 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کو ڈالر 200.14 روپے پر بند ہوا تھا۔
پاکستان میں10 مئی سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی بڑی وجہ ملک کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کو قرار دیا گیا ہے،11 اپریل کو جب مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط حکومت نے اقتدار سنبھالا، اس وقت ڈالر کی قیمت 182.3 روپے تھی، جس کے بعد سبز کرنسی کی قدر میں میں 18.75 روپے یا 10.28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایک ہفتہ وار اخباری رپورٹ کے مطابق13 مئی سے 20 مئی کے درمیان ڈالر 7 روپے سے زیادہ مہنگا ہوا، اور انٹربینک کاروبار میں 193.10 روپے سے بڑھ کر 200.45 روپے تک پہنچ گیا۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے چیئرپرسن ملک بوستان نے آج ڈالر کی قدر میں اضافے کو دوحہ میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اپریل سے رکے ہوئے 6 ارب ڈالر کے قرض کی سہولت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے جاری بات چیت میں غیر یقینی صورتحال سے جوڑا، مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا کا باعث بنیں گے، یہ ایک ایسی پیش رفت ہوگی جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شرح مبادلہ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ملک بوستان نےکہا آئی ایم ایف نے پروگرام کی بحالی کو پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایندھن اور توانائی کی سبسڈی کو واپس لینے سے مشروط کر دیا ہے، اس نے قرضے کے پروگرام کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے سبسڈیز کی واپسی کو بھی پیش گی شرط بنا دیا ہے، پی ٹی آئی نے عوام کو ریلیف پہنچانے کے سلسلے میں اقدامات کے طور پر 28 فروری کو پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں چار ماہ کے لیے (30 جون تک) منجمد کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ بات چیت کے اختتام تک روپے کے دباؤ میں رہنے کا امکان ہے البتہ آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام میں توسیع کی منظوری کے بعد اس کے مستحکم ہونے کی امید ہے۔
اس کے علاوہ میٹیس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے پر وضاحت کی کمی کے علاوہ ‘حکومت اب تک سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک سے فنڈز حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی ہے،اس صورتحال نے روپے کے لیے مجموعی آؤٹ لک کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
