انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم ایک بار پھر خبروں میں کیوں؟

انڈین فلم انڈسٹری پچھلی تین دہائیوں سے بھارت کو مطلوب اور مبینہ طور پر پاکستان میں چھپے ہوئے انڈرولڈ گینگسٹر داود ابراہیم کے بارے میں فلمیں بنانے میں مصروف ہے لیکن اس موضوع سے اسکا دل نہیں بھرتا۔ داؤد ابراہیم جرائم کی دنیا کے پرسرار ترین کرداروں میں سے ایک ہے جسکا شمار بھارتی حکومت آج بھی اپنے بڑے دشمنوں میں کرتی ہے، تاہم داؤد آج بھی دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے اور مبینہ طور پر پاکستان میں پراسرار زندگی گزار رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ معروف بھارتی فلمساز رام گوپال ورما داود ابراہیم پر ایک نئی فلم بنا رہے ہیں۔

نوّے کی دہائی میں ایسی بہت ساری کہانیاں انڈین سنیما سکرینوں کی زینت بنیں جن کے پس منظر میں بھارتی انڈرورلڈ ڈان داود تھا۔ ان فلموں کی کہانیاں عموما ان دہشت گرد حملوں کے گرد گھومتی ہیں جو مبینہ
طور پر داؤد ابراہیم نے بھارت میں کروائے۔ انڈر ورلڈ سے وابستہ تمام بڑے ناموں کی کہانیاں سلور سکرین پر سامعین نے بڑے جوش و جذبے کے ساتھ دیکھی ہیں۔ انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم ہوں یا اس جرائم کی دنیا کے دوسرے غنڈے چھوٹا راجن، مایا ڈولس، مانیا سرو، سبھی کا ذکر بھارتی فلموں میں رہا ہے۔ اس بات سے انکار کرنا مشکل ہے کہ مداحوں کے لیے انڈرولڈ کی خیالی دنیا انتہائی دلچسپی کا باعث ہے۔

اکثر کہا جاتا رہا ہے کہ 80 اور 90 کی دہائی میں ممبئی اور اس کی بندرگاہوں پر ایک قسم کا انڈرورلڈ راج تھا۔ ممبئی پر انڈرورلڈ کے راج کا دور 1993 میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ بالی ووڈ فلموں میں ہدایتکار انوراگ کشیپ سے لے کر رام گوپال ورما تک بہت سارے ہدایت کاروں نے براہ راست یا کسی دوسری شکل میں داؤد ابراہیم کے کردار کی جھلکیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ داؤد ابراہیم پر بنی فلموں میں انوراگ کشیپ کی ‘بلیک فرائیڈے’، رام گوپال ورما کی ‘کمپنی’ اور نکھل اڈوانی کی ‘ڈی ڈے’ شامل ہیں۔ ملان لوتھریا نے ‘ونس اپان اے ٹائم ان ممبئی’ میں ڈان داؤد ابراہیم کے انڈرورلڈ میں پروان چڑھنے کے سفر کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان فلموں کے علاوہ داؤد ابراہیم کا ذکر حسینہ پارکر اور ویب سیریز ‘ایک تھی بیگم’ میں بھی ہوا ہے۔

سنہ 2002 میں بننے والی فلم ‘کمپنی‘ کی کہانی داؤد ابراہیم کی زندگی پر مبنی تھی۔ فلم میں مرکزی کردار اجے دیوگن نے ادا کیا جنھوں نے سکرین پر داؤد کا کردار ادا کیا تھا۔ اداکار وویک اوبرائے نے اپنے کیریئر کا آغاز اسی فلم سے کیا تھا۔ اب 2021 میں ایک بار پھر مشہور ہدایتکار اور پروڈیوسر رام گوپال ورما اپنی فلم ‘ڈی کمپنی’ کے ساتھ اسی موضوع کو چھیڑ رہے ہیں۔
داؤد ابراہیم کی ابتدائی زندگی کی کہانی فلم ‘ڈی کمپنی’ کا مرکزی موضوع ہے۔ اپنی فلم ‘ڈی کمپنی’ کا ذکر کرتے ہوئے رام گوپال ورما نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ‘میں ایک بار پھر ‘ڈی کمپنی’ کے ساتھ ناظرین کے سامنے آرہا ہوں۔ اس فلم میں، میں ایک بار پھر گینگسٹر داؤد ابراہیم کو دکھا رہا ہوں۔‘ انھوں نے کہا ‘میری فلم 2002 میں داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن کی لڑائی پر مبنی تھی لیکن اس بار داؤد کی ابتدائی زندگی کی کہانی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ داؤد ابراہیم ممبئی کا ڈان کیسے بنے اور انھوں نے اپنی ڈی کمپنی کیسے شروع کی۔‘

یاد رہے کہ داؤد ابراہیم قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار ابراہیم کاسکر کے گھر بمبئی میں پیدا ہوا لیکن اپنے مستقبل کے لئے اس نے قانون شکنی کا راستہ چنا اور ایک معمولی بھتہ خور سے جرائم پشہ دنیا کا بے تاج بادشاہ بن گیا۔ داؤد کے والد ممبئی پولیس میں ایک کانسٹیبل تھے۔ لیکن ایک فلمی کہانی کی طرح داؤد نے اپنے لئے جرائم کی دنیا کا انتخاب کیا۔ ہفتہ وار بھتے کی وصولی کے ساتھ اس نے منشیات کا کاروبار شروع کیا اور اپنے مخالفین کو رفتہ رفتہ راستے سے ہٹا کر وہ ممبئی کا ڈان بن گیا۔

ابتداء میں اسکا تعلق حاجی مستان اور کریم لالہ سے بھی رہا۔ اسّی کی دہائی میں جرائم کی دنیا میں حاجی مستان کا طوطی بولتا تھا اور اس نے داؤد ابراہیم کے سر پر ہاتھ رکھا۔ مقامی طور پر وہ اس وقت مشہور ہوا جب اس پر ممبئی کے دو داداؤں عالم زیب اور امیرزادہ کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ اسّی کی دہائی میں ممبئی پولیس نے داؤد ابراہیم کو گرفتار کرلیا تاہم بعد میں ضمانت پر رہا ہو کر وہ دبئی فرار ہوگیا۔
دبئی میں اس نے سونے کی سمگلنگ میں ہاتھ ڈالا، بالی ووڈ کی فلمی صنعت میں سرمایا لگایا، اور جائیداد بنانا شروع کیا۔
اس وقت تک عام لوگ اس کے نام سے اس قدر واقف نہیں تھے۔ لیکن 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بارہ دھماکوں کے بعد اس کو رب شہرت ملی جب ممبئی پولیس نے الزام لگایا کہ ان دھماکوں کے پیچھے ٹائیگر میمن اور داؤد ابراہیم کا ہاتھ ہے۔ اس وقت داؤد ابراہم دبئی میں تھا۔ تاہم بھارت نے الزام لگایا کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود ہے اور وہیں پر اس نے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ لیکن حکومت پاکستان نے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

تاہ سوال یہ ہے کہ بالی وڈ والے داؤد ابراہیم کے بارے فلمیں بنا بنا کر اور بار بار بڑے پردے پر دکھا کر تھکتے کیوں نہیں۔ اس سوال کے جواب میں رام گوپال ورما کہتے ہیں ‘جرم ایسی چیز ہے جو لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ اگر آپ اخبار پڑھتے ہیں یا ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو لوگ ان باتوں کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ جیسے گویا کوئی گینگ ہے یا قتل کا معمہ ہے۔‘ انھوں نے کہا ‘آج دنیا میں گاڈ فادر سے زیادہ مقبول کوئی فلم نہیں ہوگی۔ لوگ بورنگ کہانیاں پسند نہیں کرتے۔ انھیں تاریک یا خیالی کہانیوں والی فلمیں پسند ہیں۔‘ سوال یہ بھی ہے کہ بالی ووڈ میں جرائم کی دنیا اور اس سے وابستہ غنڈوں کی زندگی کو انتہائی مثبت انداز میں کیوں دکھایا گیا ہے؟ اس پر رام گوپال ورما کہتے ہیں ‘اگر آپ کسی فلم میں کسی ہیرو کو شراب کے گلاس کے ساتھ یا لڑتے دکھائیں تو پھر اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صرف ایک فلم ہے، یہ محض تفریح ​​کے لیے ہے۔‘ وہ کہتے ہیں ‘اگر آپ حقیقت پسندانہ سنیما دکھانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس میں کرداروں کے منفی پہلو کو دکھانا ہوگا۔ میری فلموں میں سارے کردار اچھے اور برے دونوں عناصر رکھتے ہیں، چاہے وہ ستیہ ہوں یا ڈی کمپنی۔‘

رام گوپال ورما کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد گینگسٹر یا مجرم کو ہیرو کی طرح پیش کرنا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ‘ہدایتکار کا مقصد کسی مجرم کو ہیرو کی طرح دکھانا نہیں ہے۔ وہ صرف ایک اصلی گینگسٹر دکھا رہا ہے۔ میں اپنی تمام فلموں میں یہ کام کرتا ہوں اور میں ڈی کمپنی میں بھی یہی کر رہا ہوں۔‘

بھارت کے سینئر فلمی صحافی اجے براہمتمج گینگسٹر فلموں میں داؤد ابراہیم کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ داؤد ابراہیم کا نام ایک معمہ ہے۔ وہ کہتے ہیں ‘کسی نے بھی داؤد ابراہیم کی ویڈیو نہیں دیکھی۔ ان کی ایک ہی تصویر ہے جو شارجہ سٹیڈیم میں بہت پہلے منظرِ عام پر آئی تھی۔ ایک یا دو پارٹیوں کی تصاویر ہیں، صرف وہی گھوم رہی ہیں۔ لہٰذا کسی کو نہیں معلوم کہ داؤد ابراہیم کس طرح دکھتے ہیں۔‘ اجے برہممتاج کے مطابق داؤد ابراہیم کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں تجسس پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داؤد ابراہیم کی کہانی کو بار بار سکرین پر دکھایا گیا ہے۔ اجے برہمتج کا ماننا ہے کہ رام گوپال ورما نے جرم کی دنیا اور کارپوریٹ دنیا کی طرح انڈرورلڈ کو دکھایا ہے جو لوگوں میں ایک مختلف قسم کی دلچسپی پیدا کرتا ہے۔

تاہم فلمی دنیا کے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ایسی کہانیاں باکس آفس پر کمال نہیں کر پاتیں۔
فلمی تجزیہ کار اموڈ مہرہ کا کہنا ہے کہ ’داؤد ابراہیم یا کسی اور گینگسٹر کے بارے میں بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے افسانہ نگاروں اور خیالات کی کمی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں ‘ابتدا میں انڈرورلڈ ڈان کے آئیڈیا نے کام کیا لیکن اب لوگ کچھ نیا چاہتے ہیں۔ اگر کسی ہدایت کار اور پروڈیوسر کی کوئی فلم کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ اسی طرح کی فلمیں بنانا شروع کردیتے ہیں اور پھر وہ اتنی فلمیں بنانا شروع کر دیتے ہیں کہ سب پرانا لگتا ہے۔‘ ان سب کے باوجود بڑے اور مشہور سٹار فلموں میں بدنام زمانہ غنڈوں اور مجرموں کے کردار ادا کرنے میں کافی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، پھر چاہے وہ شاہ رخ خان ہو یا کوئی اور۔ اموڈ مہرہ کہتے ہیں ‘اگر آپ گندی نالی یا بستی دکھاتے ہیں تو شاید کوئی بھی فلم نہیں دیکھے گا، اس لیے گینگسٹروں کے متعلق فلموں کو بھی گلیمر دکھانا پڑتا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔‘ ان کا ماننا ہے کہ اب گینگسٹر اور گلیمر کا کاک ٹیل بھی ناظرین کو اتنا متوجہ نہیں کرتا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button