انڈیا اور پاکستان تجارت بحالی میں رکاوٹ کہاں ہے؟

باخبر سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت 2019 میں پاکستان کی جانب سے معطل کیا جانے والا دو طرفہ تجارت کا سلسلہ بحال کرنے کا شدت سے خواہاں ہے اور اسلام آباد کی طرف سے گرین سگنل کے انتظار میں ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈیا چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تین برس سے معطل تجارتی روابط بحال ہوں جس میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے، اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے بیک چینل رابطے جاری ہیں تاہم اس حوالے سے ٹھوس پیش رفت تب ہی سامنے آئے گی جب پاک بھارت سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال ہوں گے۔
ہاد رہے کہ انڈیا نے اگست 2019 میں جموں کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی جس کے ردعمل میں پاکستان نے اسکے ساتھ تجارت معطل کر دی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے اپنے ہائی کمشنرز کو واپس بلا لیا تھا اور سفارتی تعلقات محدود کر دیے تھے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈیا کی اس خواہش کا مقصد تجارتی فائدے سے زیادہ خیر سگالی ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ تجارت سے انڈیا کو اپنی کُل تجارت کا ایک فیصد پوٹینشل ہی حاصل ہو سکتا ہے مگر اس سے خطے میں رابطے بڑھیں گے۔ دوسری طرف گزشتہ ماہ سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بات زیر غور ہے، اس وقت ٹماٹر، پیاز درآمد کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے ساتھ تجارت کھولنے سے متعلق وزیراعظم سے بھی بات کروں گا، فیصلے میں د وسے چار دن لگیں گے تاہم ایسا نہیں ہو سکا تھا۔
پاکستان نے رواں سال کے آغاز میں نئی دہلی میں اپنے ہائی کمیشن میں ٹریڈ منسٹر بھی تعینات کیا تھا۔ تاہم اس ماہ کے آغاز میں وزرات خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے انڈیا سے سبزیاں درآمد کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ رابطہ کرنے پر بھی دفتر خارجہ نے انڈیا کے ساتھ تجارت شروع کرنے کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔دفاعی ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کو انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال کرنے پر اعتراض نہیں کیونکہ یہ پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق یہ وقت خطوں کے ساتھ مل کر ترقی کرنے کا ہے اور انڈیا کے ساتھ تجارت سے پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ بھی بڑھے گا۔ انہوں نے مثال دی کہ چین اور انڈیا کے درمیان شدید اختلافات اور سرحد پر کشیدگی کے باوجود تجارت جاری رہی کیونکہ اس میں دونوں ممالک کا مفاد ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تجارت بحال ہونے سے پاکستان کو بھی معاشی فائدہ ہوگا کیونکہ ایک انڈین ریاست کے گورنر تو باقاعدہ بیان دے چکے ہیں کہ انہیں کراچی کی بندرگارہ سے سامان منگوانا، ممبئی کی بندرگاہ سے بھی سستا پڑتا ہے۔تاہم تجارت کے مطابق تعلقات کی بحالی ایک سیاسی فیصلہ ہے اور اسے سوچ سمجھ کر قومی اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ اس معاملے پر وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر کا کہنا یے کہ انڈیا سے سبزیاں درآمد کرنے کا فیصلہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی طور پر ہونا ہے اور جب ایسا ہوگا تو اس کا اعلان باقاعدہ طور پر کر دیا جائے گا۔اس وقت انڈیا کے ساتھ تجارت معطل ہے مگر معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت مکمل طور پر کبھی رکی ہی نہیں۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے جو سامان پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے ذریعے پاکستان آتا تھا اب وہ متحدہ عرب امارات کے راستے پاکستان پہنچتا ہے جو زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔
پاکستانی ادارہ برائے شماریات کے مطابق جولائی 2021 سے مارچ 2022 میں انڈیا نے پاکستان کو 0.0021 ملین ڈالرز کی ادویات، فارماسوٹیکل سامان اور قیمتی پتھر برآمد کیے ہیں اور پاکستان نے اسی دورانیے میں انڈیا کو 28 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کی ہیں، جن میں کیمیکلز اور ادویات کا سامان سرفہرست ہیں۔

Back to top button