امریکہ اور ایران کی جنگ کی پاکستان پہنچنے کا خطرہ؟

 

 

 

 

معروف صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے پاکستان کے لیے ایک نہایت مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ امریکی اتحادی ہونے کا دعوے دار پاکستان اب سعودی عرب اور ایران کے درمیان پھنس گیا ہے اور اگر یہ جنگ جاری رہی تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

 

رؤف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اُس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سے تعاون چاہتا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس طے پایا تھا، اس معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سعودی عرب پر حملے جاری رکھتا ہے تو اس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کو سعودی عرب کی درخواست پر جنگ میں شامل ہونا پڑ سکتا ہے۔ انکار کی صورت میں پاکستان اگرچہ جنگ سے بچ سکتا ہے لیکن اسے سعودی عرب جیسے قابلِ اعتماد اتحادی کے ساتھ طویل عرصے پر محیط تعلقات کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہو گا۔

 

روف کلاسرا کے مطابق اگر پاکستان امریکہ اور ایران کی جنگ میں شامل ہوتا ہے تو ایران پاکستان کو بھی ہدف بنا سکتا ہے، جیسا کہ وہ مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستوں پر حملے کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو جوابی کارروائی کرنا پڑے گی اور یوں یہ جنگ براہ راست پاکستان تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ سفارتی سطح پر ایران کو قائل کرے کہ وہ سعودی عرب پر حملوں سے گریز کرے۔ تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں ایرانی قیادت شدید غصے اور دباؤ میں ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات کی گنجائش کم نظر آتی ہے۔

 

روف کلاسرا نے کہا کہ ایک امریکی اخبار کے مطابق امریکی ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی پر آمادہ کرنے والوں میں سعودی عرب کا بھی کردار بتایا گیا تھا، تاہم سعودی حکومت نے اس تاثر کی تردید کر دی ہے۔ سینیئر صحافی کے مطابق ایران کی وہ اعلیٰ قیادت جس کے ساتھ پاکستان کے روابط تھے اور جن کے ذریعے سفارتی بات چیت ممکن تھی، حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہو چکی ہے۔ ان کے بقول ایران میں اس وقت ممکنہ طور پر واضح "یونٹی آف کمانڈ” بھی موجود نہیں اور مختلف گروہ اپنی اپنی سطح پر فیصلے کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں ہمیشہ عرب اور عجم کی صدیوں پرانی کشمکش میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم اس پالیسی کے نتیجے میں اکثر ایسا ہوا کہ دونوں فریق مکمل طور پر مطمئن نہیں ہو سکے۔

 

روف کلاسرا کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی سہارا ہے، جبکہ ایران بھی اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان میں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد آباد ہیں جن کے جذبات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے خلاف کسی جنگ میں پاکستان براہ راست شامل ہوتا ہے تو اس کے داخلی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں اور ملک کے اندر کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران شدید جانی نقصان کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے عوام اور قیادت سخت ردعمل کی کیفیت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بقول ایران اس وقت شاید اس ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ اگر وہ خود تباہی کا سامنا کر رہا ہے تو مخالفین کو بھی اس سے محفوظ نہیں رہنے دے گا۔

ایران پر حملوں کے بعد مسلم ورلڈ کی تباہی یقینی کیوں ہے؟

روف کلاسرا نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کوئی نئی بات نہیں بلکہ گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے دونوں ممالک مختلف خطوں میں پراکسی جنگوں کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں۔ تاہم موجودہ بحران میں خطرہ یہ ہے کہ یہ پراکسی جنگیں براہِ راست فوجی تصادم میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان ایران کو سعودی عرب پر حملوں سے روکنے میں ناکام رہتا ہے تو اسلام آباد کو ایک مشکل انتخاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: یا تو وہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو کر جنگ میں شامل ہو، یا پھر اپنے ایک دیرینہ اتحادی کو کھونے کا خطرہ مول لے۔ ان کے مطابق یہی صورتحال پاکستان کے لیے اس بحران کو انتہائی حساس اور پیچیدہ بنا رہی ہے۔

Back to top button