اُشنا شاہ کو شادی برقرار رکھنے والی کہانیاں کیوں ناپسند ہیں؟

اداکارہ اُشنا شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں شادی برقرار رکھنے والی کہانیاں بالکل پسند نہیں، ’اللہ کرے میری شادی میری موت تک چلے لیکن خدا نہ کرے اگر یہ شادی نہیں چلتی تو کیا میں بطور انسان نامکمل ہوجاؤں گی؟ اداکارہ نے گالفر حمزہ امین سے رواں برس 23 فروری میں شادی کی تھی۔حال ہی میں اشنا شاہ نے صحافی ملیحہ رحمٰن نے پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے ڈراموں پر عورت کے تشدد پر تنقید اور فلسطین پر کھل کر بات کرنے کے حوالے سے گفتگو کی اور بتایا کہ انہیں ڈراموں میں ’ہر حال ہی میں شادی برقرار‘ رکھنے والی کہانیاں نہیں پسند، یہ بات اس لیے بُری لگتی ہے ’کیونکہ میرا تعلق بھی ایسے گھرانے سے ہے جہاں میرے والدین کی علیحدگی ہوچکی ہے، جب ہم کہتے ہیں کہ گھر نہیں ٹوٹ سکتا ہے، طلاق کا سوال پیدا نہیں ہوتا، مانتی ہوں کہ طلاق اللہ کو ناپسند ہے لیکن یہ حق بھی اللہ نے کسی وجہ سے عورت کو دیا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ڈراموں میں عورت پر جنسی تشدد کرکے پیغام دیا جاتا ہے کسی بھی حالت میں گھر نہیں توڑنا، طلاق نہیں لینا، یہ چیز مجھے سخت ناپسند ہے اور نفرت ہے کیونکہ ایسے ڈراموں سے ہم اُن طلاق یافتہ عورتوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ آپ اچھی عورتیں نہیں ہیں۔اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنی شادی سے بہت خوش ہیں، ’شادی کو تقریباً ایک سال ہونے والا ہے، اللہ کرے میری شادی میری موت تک چلے لیکن خدا نہ کرے اگر یہ شادی نہیں چلتی تو کیا میں بطور انسان نامکمل ہوجاوں گی؟ غزہ میں ہونے والی تباہی پر سماجی پلیٹ فارم پر کھل کر بات کرنے کے حوالے سے اشنا شاہ نے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں کھلے عام آواز اٹھائیں گی تو انہیں شیڈو بین کردیا جائے گا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے اشتہارات دینا بند ہوجائیں گے، ریوینیو کم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ میری پرورش کینیڈا میں ہوئی، میں جتنی بھی کینیڈین بن جاؤں لیکن میں ایک پاکستانی عورت ہی کہلاؤں گی۔وہ اب انگریزی میں قرآن پاک کا ترجمہ بھی پڑھتی ہیں، فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے اسی وجہ سے میں نے عمرہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں کئی لوگوں کو جانتی ہوں جو پورے کپڑے پہن کر بھی اچھے انسان نہیں ہیں، آپ کے کپڑے آپ کو اچھا یا بُرا انسان نہیں بناتے، کپڑے بہت نجی چوائس ہیں جو ایک انسان اور اس کے رب کے درمیان معاملہ ہے، لیکن میں خود یہ بات مانتی ہوں کہ حجاب پہن کر مجھے اچھا لگا۔مسلمان ہونے کے ناطے مجھے اپنے مذہب کی نمائندگی کرکے فخر محسوس ہوا۔
