آرمی چیف دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ایران کے تعاون کے خواہاں

چیف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مبینہ طور پر ایرانی سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے بلوچ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ایران سے تعاون کا کہا ہے۔
آرمی چیف نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں فرنٹیئر کور کے گشت پر ہوئے حملے کے تناظر میں ایران کی مسلح افواج کے چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل محمد باقری سے ملاقات کی۔مذکورہ حملے میں میجر ندیم بھٹی سمیت 6 فوجی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ پاک ایران سرحد سے 14 کلومیٹر دور ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم دونوں آرمی چیفس کی بات چیت کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعقات عامہ کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
تاہم ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی اسلامک ریپبلک ایجنسی (ارنا) نے رپورٹ کیا کہ دونوں جنرلوں نے فوجی پیش رفتوں، سرحدوں کی سیکیورٹی اور کورونا وائرس بحران کے حوالے سے بات چیت کی۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے مشترکہ سرحدوں پر دہشت گردی کی روک تھام اور سکیورٹی پر زور دیا۔ انہوں نے ایرانی جنرل کو حکومت پاکستان کی جانب سے غیر مجاز سرحدی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
جنرل باقری نے آرمی چیف سے بات کرتے ہوئے شر پسندوں کے خلاف تعاون اور دہشت گرد گروہوں کو روکنے اور سرحدوں پر ’مشترکہ دشمنوں‘ کو روکنے کے لیے سرحدوں پر سکیورٹی اقدامات پر زور دیا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی آرمی چیف نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے کا کہ ایران کو پاکستانی فوجی حکام کی جانب سے ایرانی سرحدی محافظین کی محفوظ رہائی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے کی توقع ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانی سرحدی محافظین سرحدی علاقوں میں موجود ایک ایرانی دہشت گرد تنظیم جیش العدل کی تحویل میں ہیں۔ نومبر 2018 سے پاکستان نے 12 ایرانی محافظین کی رہائی کے لیے ایران کی مدد کی ہے جنہیں اکتوبر 2018 میں میر جاوہ میں ایک بارڈر پوسٹ کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ایران اور پاکستان کے مابین 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو کرِمن، گینگز، عسکریت پسندوں اور منشیات اسمگلروں سے بھرا ہوا ہے۔سرحدی علاقوں میں آپریٹ کرنے والے دہشت گرد گروہ ماضی میں متعدد حملے کرچکے ہیں۔
چنانچہ سرحدی سلامتی دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں پریشانی کا باعث ہے اور دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی وجہ سے دہشت گرد گروہ سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button