اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اٹارنی جنرل کے متنازعہ بیان کی بنیاد پروکلا کی ملک گیر تنظیم پاکستان بار کونسل نے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان اور وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکر دی ہے
یاد رہے کہ اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور نے 18فروری کے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں عدلیہ پر گھناؤنا الزام عائد کیا تھا۔اٹارنی جنرل آف پاکستان کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے الزام لگایا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے میں اس کیس کی سماعت کرنے والے دس رکنی بینچ میں شامل کچھ ججز نے اپنے ساتھی جج کی معاونت کی تھی. سپریم کورٹ نے انیس فروری کی سماعت میں اٹارنی جنرل سے عدلیہ پر لگائے گئے گھناؤنے الزام کا تحریری ثبوت یا پھر معافی نامہ طلب کیا ہے۔عدالتی حکم میں قرار دیا گیا اٹارنی جنرل کا الزام ایک جج پر نہیں بلکہ پوری عدلیہ پر ہے۔
پاکستان بار کونسل کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست میں اٹارنی جنرل کیپٹن انور منصوراور وزیر قانون فروغ نسیم کو فریق بنایا گیا ہے۔ بار کونسل نے توہین عدالت کی درخواست میں اٹارنی جنرل کی طرف سے عدلیہ پر لگائے گئے گھناؤنے الزام کی تفصیل بھی شامل کی ہے۔ بار کونسل نے عدلیہ کے گھناؤنے الزام کو دلیل بناتے ہوئے موقف اختیار ہے کہ اٹارنی جنرل کے اس الزام سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی جاسوسی کا عمل اب بھی جاری ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے وکیل کے ذریعے یہ بات سپریم کورٹ کے سامنے رکھ چکے ہیں کہ اُن کی اور اُن کے اہل خانہ کی جاسوسی کروائی گئی۔ پاکستان بار کونسل کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں مزید کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے جان بوجھ کرکھلی عدالت میں عدلیہ پر گھناؤنا الزام لگایا،اگر اس گھناؤنے الزام میں ذرا برابر بھی سچائی ہوتی تو اٹارنی جنرل ایک سو تینتیس دن تک خاموش نہ بیٹھتے کیونکہ مقدمہ گذشتہ سال آٹھ اکتوبر سے زیر سماعت ہے۔
درخواست گزار کا مزید کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل کا عدلیہ پر لگایا گیا الزام سپریم کورٹ کو دباؤ میں لانے، دھمکانے اوربلیک میل کرنے کی کوشش ہے، جب اٹارنی جنرل کی طرف سے عدلیہ سے متعلق تضحیک آمیز بات کی گئی تو اُس وقت وزیر قانون فروغ نسیم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،تاہم وزیر قانون نے نہ اٹارنی جنرل کو ایسی بات کرنے سے روکا اور نہ ہی مداخلت کی۔ پاکستان بار کے مطابق اٹارنی جنرل صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اپنے تحریری جواب (ری جوائینڈر) میں سپریم کورٹ کے ایک جج کے دو ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ ایسے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ مرضی کے مطابق فیصلہ نہ آنے پر ججز کی تضحیک کرتے ہیں۔
درخواست گذار نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اٹارنی جنرل انور منصور،وزیر قانون فروغ نسیم اور اثاثہ جات ریکوری یونٹ(اے آر یو) کے چیئرمین شہزاد اکبر سمیت وفاقی حکومت کے کئی نمائندے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ پر ذہنی مریض اور نااہل ہونے جیسے گھناؤنے الزامات عائد کر چکے ہیں،اپنی مرضی کا فیصلہ نہ ملنے پر اٹارنی جنرل،وزیر قانون فروغ نسیم،چیئرمین اے آر یو سمیت وفاقی حکومت کے نمائندگان پریس کانفرنس اور بیانا ت کے ذریعے عدلیہ پر ڈھونس جمانے جیسے کئی حربے آزما چکے ہیں۔
پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جائے، وفاقی حکومت کے ان لوگوں کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کی جائے جنہوں نے اٹارنی جنرل کو عدلیہ کیخلاف گھناؤنا الزام عائد کرنے کیلئے کہا۔
قبل ازیں پاکستان بار کونسل کی طرف سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اٹارنی جنرل سے استعفی کا مطالبہ کیا تھا،اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل کا قاضی فائز عیسی کیس میں بیان اور رویہ قابل مذمت ہے.
پاکستان بار کونسل کی طرف سے جاری کیے گے اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل حکومت کے کہنے پر عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں, اٹارنی جنرل عدالت سے تحریری معافی مانگنے کے ساتھ عہدے سے استعفی دیں حکومتی اقدامات کے ماسٹر مائنڈ فروغ نسیم ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جاری کے گئے اعلامیہ میں اٹارنی جنرل کےججز پر الزامات کو توہین عدالت قراردیتے ہوئے اٹارنی جنرل سےغیر مشروط معافی مانگنے اور اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا. اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے ججز پر 18 فروری کے روز الزامات عائد کیے تھے، یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین لاء افسر نے عدالت پر بغیر دستاویزی ثبوت کے الزامات عائد کئے. سپریم کورٹ بار نے کہا کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button