اٹارنی جنرل انور منصور کی سپریم کورٹ کے 10 ججوں پربہتان تراشی

اٹارنی جنرل آف پاکستان کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے الزام لگایا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے میں اس کیس کی سماعت کرنے والے دس رکنی بینچ میں شامل کچھ ججز نے اپنے ساتھی جج کی معاونت کی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے الزام کا ثبوت فراہم کریں یا پھر سپریم کورٹ کے جج حضرات پر ایک بے بنیاد الزام لگانے پر باضابطہ معافی مانگیں۔ اٹارنی جنرل ابھی تک معافی مانگنے سے انکاری ہیں لیکن سپریم کورٹ نے ان کو وقت دیا ہے تاکہ وہ حتمی فیصلہ کر سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اٹارنی جنرل نے اپنا الزام واپس نہ لیا تو سپریم کورٹ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز بھی کر سکتی ہے۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان کے الزام کا مقصد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ کو دباؤ میں لانا ہے تاکہ اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کیا جا سکے۔
19 فروری کے روز ریفرنس پر سماعت کے دوران عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر اٹارنی جنرل آئندہ سماعت تک اپنے اس دعوے سے متعلق شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہے تو پھر وہ عدالت سے تحریری طور پر معافی مانگیں گے۔
واضح رہے کہ اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور نے 18 فروری کے روز اپنے دلائل شروع کرنے سے پہلے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے علم میں آیا ہے کہ کچھ معزز ججز نے صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی رکوانے کے لیے درخواست کی تیاری میں درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی معاونت کی تھی۔ اٹارنی جنرل کے اس بیان کے بعد دس رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس مقبول باقر نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا تھا کہ وہ اس کو رپورٹ نہ کریں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے بارے میں بنائے گئے قوانین سے متعلق بھی عدالت کو مطمئِن کریں۔
یاد رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس کی کارروائی روکنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہا یے۔ 19 فروری کے روز سماعت کے دوران بینچ میں موجود تمام ججز کے چہرے پر سنجیدگی سے ایسا لگتا تھا کہ ججز اٹارنی جنرل کے لگائے گئے الزامات سے خوش نہیں ہیں۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرون ملک اپنے بیوی بچوں کے نام جائیدادوں کو تسلیم کیا ہے اور اُنھوں نے ان جائیدادوں کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرکے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ اگر فرض کریں کہ جسٹس قاضی فائز عسیٰ نے اپنے اثاثوں میں ان جائیدادوں کو ظاہر کردیا ہوتا تو کیا پھر بھی سپریم کورٹ کے جج کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کردیا جاتا، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا تھا۔
جسٹس فیصل عرب نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کی طرف سے انکم ٹیکس کے محکمے کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس کا جواب دئیے بغیر ہی ان کے خلاف ریفرنس کیوں دائر کردیا گیا۔ اس کا اٹارنی جنرل نے کوئی جواب نہ دیا۔ تاہم اٹارنی جنرل نے بینچ میں موجود ججز کا دھیان اس نکتے سے ہٹانے کے لیے اپنے دلائل میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے بیرون ملک جائیدادوں کو خریدنے کے لیے منی لانڈرنگ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وہ عدالت کو ان قوانین کے بارے میں بتائیں کہ ایک شوہر اپنے بیوی بچوں کے اثاثوں کو کیسے اپنے گوشواروں میں ظاہر کرسکتا ہے؟
جب بینچ میں موجود ججز نے اس معاملے پر بھی اٹارنی جنرل کو عدالت کو مطمئِن کرنے کے بارے میں کہا تو وہ اس نکتے پر بھی عدالت کو مطمئِن نہ کرسکے۔ بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت گذشتہ کئی ماہ سے ان درخواست کو سن رہی ہے اور اس بینچ میں شامل ججز پوری تیاری کرکے آتے ہیں لیکن اپ نے کوئی تیاری ہی نہیں کی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف صدارتی ریفرنس میں شواہد موجود ہونے چاہیں۔ اُنھوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ ’گذشتہ دو روز سے اِدھر اُدھر کی ہانک رہے ہیں اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ وقت ضائع کررہےہیں لیکن یہ معاملہ اب مزید نہیں چلے گا۔
