اٹھارویں ترمیم کا واویلا کرکے خود خلاف ورزی کرنے کا رویہ ٹھیک نہیں

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کورونا وائرس پر بات کرنے کے بجائے حکومت کو تنقید بنایا گیا جبکہ سیشن سے جو توقعات تھیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ‘اسمبلی میں بیماری کو ہدف بنانے کے بجائے حکومت کو نشانہ بنایا گیا جس سے اس اجلاس سے جو توقع تھی وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں بہت ساری چیزوں کے علاوہ اللہ کا شکر بھی بجا لانا چاہیے کیوں کہ بہت سی مشکلات کے باوجود ہمارے ملک میں بیماری کا پھیلاؤ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح نہیں ہے’۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ‘اسپین میں 30 ہزار اور امریکا میں 80 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں لیکن ہمیں اللہ کا شکر کرنا چاہیے گوکہ ایک موت بھی تکلیف دہ ہے تاہم یہاں 700 اموات ہیں یہ بھی بہت زیادہ ہے اتنا نہیں ہونا چاہیے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘تنقید کرنے والوں نے کیااس چیز کی پروا کہ لوگ لاک ڈاؤن کے اثرات عام آدمی پر کیا ہوں گے، اور روزانہ مزدوری پر جانے والے، دکاندار کے حالات کی پروا کی’۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے شروع میں کہا تھا کہ بیماری کا مقابلہ کریں گے اور ہم مقابلہ کررہےہیں، تعلیمی ادارے، شادی ہالز ٹرانسپورٹ سب کچھ بند کردیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری سوچ تھی کہ معیشت اور لوگوں کے روزگار کے لیے کچھ نہیں کیا تو حالات بہت برے ہوں گے کیوں کہ ترقی یافتہ ممالک میں جلسے جلوس ہورہے ہیں کیوں کہ لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں دیکھیں تو وہاں بھی احتجاج ہورہا ہے، اگر یورپ میں دیکھیں وہاں بھی احتجاج ہورہا ہے، بھارت میں لوگ سڑکوں میں چلتے چلتے مرگئے اس لیے کہ وہ غریب تھے، یہ آفت غریبوں پر آئی ہے کیونکہ ان کی روزگار کو زیادہ متاثر کیا ہے۔
وفاقی حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ہم سب کو ساتھ لے کر چلے، وزیراعظم نے قومی رابطہ کمیٹی بنائی جس میں تمام وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو شامل کیا پھر ایک اور کمیٹی کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر بنائی اور روز اس کا اجلاس ہوتا ہے اور صوبائی نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر رابطہ ہورہا ہے اور جائزہ لیا جارہا ہے لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ کنفیوژن ہے، کیا غریب کا خیال رکھنااور جس کے پس کھانے کو نہیں ہے اس کا خیال رکھنا کنفیوژن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘غریب عوام کے حوالے سے یہ جو بے حسی ہے اس پر افسوس کرنا چاہیے، ہمیں کہا گیا کہ صوبوں کی مدد نہیں کی گئی، ایک طرف اٹھارویں ترمیم ہے جو آئین کا حصہ ہے اسی لیے اس کی قدر کرتے ہیں لیکن کہا گیا کہ خبردار اٹھارویں ترمیم کا ذکر بھی نہ چھیڑیں’۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ سندھ نے جو آردیننس منظور کیا اس میں ایسے چیزیں ہیں جس کا تعلق وفاقی حکومت سے ہے، بجلی کی قیمت کم کرنا، اٹھارویں ترمیم غور سے پڑھیں تو بجلی صوبائی معاملہ نہیں ہے۔
سندھ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق نے مدد کی اورچیزیں بھیجوائیں لیکن آپ کی ذمہ داری ہے، ایک طرف اٹھارویں ترمیم کا واویلا اور دوسری طرف خود اٹھارویں ترمیم سے تجاوز، یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں ہم نے کوشش کی سب کو ساتھ لے کر چلیں اور ساتھ لے کر چلے، اسکول بند کرنے، امتحانات کے حوالے سے فیصلے مل کر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے 15 دن بعدہم نے ٹیلی اسکول شروع کیا جو روزانہ 10 گھنٹے بچوں کو لیکچر دیے جاتے ہیں اور والدین کو آگاہ کیا۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ ‘اب ہم ریڈیو اسکول بھی شروع کررہے ہیں اور ریڈیو کے ذریعے بھی تعلیم دی جائے، ہم اس مشکل وقت کو ایک موقع سمجھتے ہوئے فاصلاتی تعلیم کو بہتر کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘خدارا ہر چیز کو گندی سیاست کی نذر نہ کریں، ہم نے سب چیزوں کو توازن کے ساتھ چلانا ہے، ہمیں اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہے اور صحت کی طرف توجہ دینی پڑے گی’۔شفقت محمود نے کہا کہ زندگی کے شعبہ جات کو کھولنا ہے لیکن لوگوں کے زیادہ جمع ہونے پر خیال کرنا ہے اسی لیے اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔
