اٹھانے سے انکار کرنے والے شاعر فرہاد کے اٹھائے جانے کہانی

اٹھانے سے انکار کرنے والے شاعر فرہاد کے اٹھائے جانے کہانی ،معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے ملک میں جاری جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس معاشرے میں کسی شاعر یا ادیب یا صحافی کی گستاخی برداشت نہ کی جائے اور اسے زندان میں ڈال دیا جائے وہ معاشرہ بالاخر خود بھی تباہ ہو جاتا یے۔ اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ 29 مئی 2024ء کو میں اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچا جہاں آزاد کشمیر کے ایک شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کیلئے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں سماعت تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ دوہفتے قبل احمد فرہاد کو اسلام آباد سے نامعلوم افراد ان کے گھر کے باہر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ شاعر موصوف اٹھانے سے انکاری ہیں اور اسی وجہ سے اٹھائے گئے تھے۔ احمد فرہاد کی اہلیہ سیدہ عروج زینب نے ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے شوہر کی بازیابی کیلئے درخواست دائر کی۔اسلام آباد پولیس نے احمد فرہاد کی گرفتاری سے انکار کر دیا۔عدالت نے سیکرٹری دفاع سمیت کچھ خفیہ اداروں کے افسران کی جواب طلبی کر لی جس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سیخ پا ہوگئے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ اس دوران عدالت نے مجھے اپنا معاون مقرر کر دیا اور پوچھا کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی رپورٹنگ کے مثبت اور منفی پہلو کون سے ہیں اور کیا قانون ان مقدمات کی رپورٹنگ سے روکتا ہے یا نہیں ؟عدالتی معاون مقرر ہونے کے بعد ہر سماعت میں میری موجودگی لازمی تھی۔ میں اگلی سماعت پر دوبارہ عدالت پہنچا تو دو ریٹائرڈ فوجی افسران نے مجھے احمد فرہاد کیس سمیت چار مختلف مقدمات کی تفصیل فراہم کی جس میں حاضر سروس فوجی افسران عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ یہ دونوں ریٹائرڈ فوجی افسران بتا رہے تھے کہ جس طرح فوج پاکستان کا ایک بہت اہم ادارہ ہے اسی طرح عدلیہ بھی پاکستان کا ایک اہم ادارہ ہے ۔اگر پاکستان کا کوئی شہری لاپتہ ہو جائے تو ان دونوں اداروں کو آپس میں لڑنے کی بجائے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے کیونکہ قانون بھی یہی کہتا ہے۔ انہوں نے مجھے آرمی ایکٹ کی ان دفعات سے آگاہ کیا جو فوج کو پولیس سے تعاون کا پابند بناتی ہیں اور ماضی قریب کے عدالتی فیصلوں کے حوالے بتائے جن میں فوج نے عدلیہ کےساتھ بھرپور تعاون کیا۔
حامد میر کے بقول میں دعا کر رہا تھا کہ آج اٹارنی جنرل احمد فرہاد کا پتہ بتا دیں اور ریاستی اداروں میں ٹکرائو کی صورتحال پیدا نہ ہو ۔گیارہ بجے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل کے ساتھ ساتھ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی عدالت میں موجود تھے ۔اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا کہ احمد فرہاد کے خلاف آج ہی ایک ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور وہ آزاد کشمیر کے علاقے دھیر کوٹ کی جیل میں بند ہے ۔یہ سنتے ہی جج صاحب سمیت ہم سب کے چہروں پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔جج صاحب نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ یہ کام دو ہفتے پہلے کر دیتے تو معاملہ ختم ہو جاتا۔ احمد فرہاد کے اہلخانہ کا ان سے رابطہ قائم ہو چکا ہے اور اب وہ لاپتہ نہیں رہے ۔احمد فرہاد کی بازیابی کا کریڈٹ جسٹس محسن اختر کیانی کو جاتا ہے جنہوں نے بڑی جرات، حوصلے اور تدبر سے ایک لاپتہ کشمیری شاعر کو اس کے خاندان سے دوبارہ ملوایا ہے ۔اس سلسلے میں احمد فرہاد کی اہلیہ اور انکی وکیل ایمان مزاری بھی داد کی مستحق ہیں جن پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ بیان دیدیں کہ احمد فرہاد اپنی مرضی سے غائب ہو گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔بہر کیف جب احمد فرہاد کی اہلیہ دھیرکوٹ پہنچیں تو بتایا گیا کہ وہ مظفرآباد پولیس کے پاس ہیں تو یہ باہمت خاتون مظفر آباد پہنچ گئیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ امید کی جانی چاہئے کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ مل کر پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم کریں گی اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
