اپنی شرارتوں سے مخالف ٹیم کی توجہ ہٹانے کے ماہر میانداد

پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے مستند بلے باز سمجھے جانے والے کرکٹر جاوید میانداد ہمیشہ میدان میں اور اس سے باہر اپنی بے ضرر شرارتوں کے باعث مشہور رہے ہیں، وہ اپنے فقروں سے مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کی توجہ ہٹانے میں مہارت رکھتے تھے، انکی بڑی وجہ شہرت 18 اپریل 1986ء کو بھارت کے خلاف ایک میچ کی آخری گیند پر ایک زور دار چھکا لگاکر پاکستان کو جتانا بھی ہے۔
12 جون 1957 کو کراچی میں پیدا ہونے والے جاوید میانداد نے ہوش سنبھالا تو والد میانداد نور محمد اور بڑے بھائی بشیر میانداد کو کرکٹ کے جنون میں مبتلا پایا اور پھر وہ خود اس کھیل کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے کہ والد اور بھائی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید، جاوید میانداد کے بچپن کے دوست ہیں۔ وہ جاوید میانداد کو ایک ایسے بچے کے طور پر جانتے ہیں جو اپنی بے ضرر شرارتوں کی وجہ سے مشہور رہا۔
ہارون رشید بتاتے ہیں ’بچپن ہی سے جاوید غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ میں پہلے شاہین جمخانہ کی طرف سے کھیلتا تھا پھر میں نے مسلم جمخانہ میں شمولیت اختیار کی جہاں میانداد کھیلتے تھے۔ ابتدا میں تو وہ اتنے چھوٹے تھے کہ ان سے صرف فیلڈنگ کراتے تھے۔‘ ہارون رشید کہتے ہیں ’جب ہم ان کی بلڈنگ کی چھت پر کھیلا کرتے تھے تو پڑوسی ہمارے شور سے پریشان ہوتے تھے اور ہمیں منع کرتے تھے جس پر جاوید کو بہت غصہ آ جاتا اور وہ اس پڑوسی کے دروازے پر کوئی نہ کوئی چیز رکھ کر آ جاتے کہ یہ ہمیں کیوں منع کرتے ہیں۔‘ ہارون رشید کا کہنا ہے ’جب ہم پاکستانی ٹیم میں آ گئے تو اس وقت بھی جاوید کی شرارتوں میں کمی نہیں آئی بلکہ جب ہم جہاز میں سفر کر رہے ہوتے تو وہ کچھ ایسی آوازیں نکالا کرتے کہ قریب سے گزرنے والے اسٹیورڈ اور پرسر یہ سمجھتے کہ کوئی کیڑا یا مینڈک ان کے کوٹ یا شرٹ میں آ گیا ہے اور وہ پریشان ہو کر کوٹ اور شرٹ اتار کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے۔‘
جاوید میانداد اپنے بارے بتاتے ہیں کہ ’میں گلی محلے میں کھیلنے والا اسٹریٹ کرکٹر تھا۔ والد مسلم جمخانہ کے سیکرٹری تھے وہ مجھے اپنے ساتھ لے جاتے جہاں سینیئر کھلاڑی میچ کھیلا کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر مجھے فیلڈنگ کےلیے میدان میں اترنا پڑتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ میں مسلم جمخانہ کی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ میرے کپتان مسرور مرزا تھے۔ جن کے محمد برادران سے بہت اچھے تعلقات تھے۔‘ جاوید میانداد کہتے ہیں میرے والد کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ میں اپنی وکٹ جلد گنوا دوں۔ یہی سوچ میرے والد کے دوست اے آر محمود کی بھی ہوتی تھی جو بہت اچھے کوچ تھے۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ کون سا اسٹروک کب کھیلنا ہے اور کب نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میں اپنے بڑے بھائی بشیر میانداد کو کریڈٹ دوں گا کہ انہوں نے کرکٹ کی گیند سے میرا خوف ختم کیا اور اعتماد سے بیٹنگ کرنے کی خوب پریکٹس کرائی۔ میری عمر اس وقت دس سال تھی اور میرے ہاتھ میں صرف بیٹ ہوا کرتا تھا پیڈ یا گلوز نہیں ہوتے تھے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر آصف اقبال 1975 میں ورلڈ کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جس میں اٹھارہ سالہ جاوید میانداد بھی شامل تھے تاہم آصف اقبال کا جاوید میانداد کے ساتھ پہلا باضابطہ رابطہ اکتوبر 1976 میں اس وقت ہوا جب یہ دونوں لاہور ٹیسٹ کھیل رہے تھے جو جاوید میانداد کا اولین ٹیسٹ بھی تھا۔ آصف اقبال کہتے ہیں ’55 رنز پر ہمارے چار بیٹسمین آؤٹ ہو چکے تھے اور پھر میری جاوید کے ساتھ 281 رنز کی پارٹنرشپ ہوئی تھی۔ ہم دونوں نے سنچریاں بنائی تھیں۔ جاوید میانداد، خالد عباداللہ کے بعد دوسرے پاکستانی بیٹسمین بنے تھے جنہوں نے اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری اسکور کی۔ اس اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے جاوید مجھے جس طرح سمجھا رہے تھے مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہا ہوں اور جاوید کئی ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہوں۔‘
آصف اقبال کہتے ہیں ’وکٹوں کے درمیان دوڑنے کی بہترین انڈر اسٹینڈنگ میری جاوید کے ساتھ رہی وہ کسی دوسرے بیٹسمین کے ساتھ نہیں ہوئی۔ 1978 میں انڈیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں بھی جاوید میانداد کے ساتھ دوڑ کر ہم نے اتنے رنز بنائے تھے جتنے چوکے چھکوں سے بھی نہیں بنے تھے۔‘
آصف اقبال کہتے ہیں ’میانداد میدان میں جس طرح کی شرارتیں کرتے تھے اس کی وجہ سے وہ شائقین میں بہت مقبول ہوگئے تھے۔ وہ فیلڈ میں ہر کھلاڑی کا حوصلہ بڑھاتے رہتے تھے۔ اسی طرح ڈریسنگ روم میں بھی وہ ہنسنے ہنسانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ان کے آنے سے پہلے ڈریسنگ روم کا ماحول بہت زیادہ سنجیدہ ہوتا تھا ان کے آنے کے بعد اس میں خوشگوار تبدیلی آئی تھی۔‘
آصف اقبال نے بتایا ’جب میانداد انگلینڈ میں پہلی بار کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے آئے تھے تو انگریزوں کو انہیں میانداد کہنا ذرا مشکل ہوتا تھا لہٰذا وہ انہیں مم اینڈ ڈیڈ کہہ کر پکارتے تھے۔‘
انڈیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر سنیل گاوسکر جاوید میانداد کے بہت بڑے مداح ہیں۔ وہ نہ صرف ان کی کرکٹ کی صلاحیتوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں بلکہ ان کی بذلہ سنجی کو بھی ہمیشہ پسند کرتے رہے ہیں۔ گاوسکر کہتے ہیں کہ انڈین ٹیم نے 1979 کے دورۂ بھارت میں ظہیر عباس کو قابو کرنے کےلیے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی لیکن جاوید میانداد کےلیے اس طرح کی حکمت عملی وضع کرنا مشکل تھا کیوں کہ وہ بہت ورسٹائل کرکٹر تھے۔ گاوسکر کہتے ہیں کہ وکٹوں کے درمیان دوڑنے اور باؤنڈری کی طرف جاتی گیند کو تیزی سے روکنے میں جاوید میانداد کو کمال مہارت حاصل تھی اسی لیے وہ ان سے مذاقاً کہا کرتے تھے کہ فیلڈ میں بجلی کے پاؤں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
جاوید میانداد کہتے ہیں ’بیٹنگ ہو یا فیلڈنگ میں چپ نہیں رہتا تھا اور بولتا رہتا تھا۔ آسٹریلوی ٹیم یہاں آئی ہوئی تھی۔ میں نے اپنی عادت کے مطابق بیٹنگ کے دوران آسٹریلوی کرکٹرز سے بات کرنے کی کوشش کی تو ڈیوڈ بون اور دوسرے کھلاڑیوں نے منہ پھیر لیے۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’ڈین جونز سے میری اچھی دوستی تھی۔ وہ ایک میچ پہلے تک مجھ سے بات کر رہے تھے لیکن پھر وہ بھی خاموش نظر آئے تو میں نے لاہور سے کراچی کی فلائٹ کے دوران ان سے پوچھا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ تو ڈین جونز نے جواب دیا کہ جب میں نے تم سے بات کی تھی تو مجھ پر میری ٹیم نے جرمانہ عائد کر دیا کیوں کہ ہم سب نے میٹنگ میں یہ طے کیا تھا کہ میانداد کی کسی بات کا جواب نہیں دینا ہے کیوں کہ وہ ہماری توجہ ہٹا دیتا ہے۔‘
