اپنی نماز ادائیگی کی پبلیسٹی میں نہیں کرتا، فینز کرتے ہیں

سابق سٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ فی الحال ان کا سیاست میں آنے کا کوئی ارداہ نہیں اور فی الوقت وہ صرف سماجی خدمت پر اہ ی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں جس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔ آفریدی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں اپنی نمازوں کی تشہیر کرنا بالکل بھی پسند نہیں لیکن ان کے فینز ایسا کر دیتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈٰیا صارفین کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ آفریدی کو مستقبل کے سیاسی گھوڑے کے طور پر تیار کیا جارہا ہے کیوںکہ ماضی میں اسی طرح پہلے عمران خان کی نیک نامی اور پرہیز گاری کے بھی چرچے کیے گئے تھے اور انہوں نے بھی سیاست میں آنے سے پہلے سماجی فلاح کا ایجنڈا ہی اپنایا تھا۔
خیال رہے کہ کرکٹ کی گراونڈ سے سیاست کے میدان میں اتر کر اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے وزیراعظم بن جانے والے عمران خان کی بطور حکمران ناکامی کے ابھرتے ہوئے تاثر کے بعد کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کا نام مستقبل کے ڈارک ہارس کے طور پر زیر بحث ہے۔ سوشل میڈیا پر آفریدی کی تصاویر وائرل ہیں جس میں انہیں فلاحی کام کرنے کے علاوہ سڑک کنارے گاڑی روک کر نماز ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے لیکن کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیسے کوئی فوٹوگرافر ہر لمحے شاہد آفریدی کے ساتھ موجود ہوتا ہے جو ان کی نماز ادا کرنے تک کی تصاویر بھی بنا لیتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کار یہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمینٹ شاہد آفریدی کو کس مقصد کیلئے تیار کر رہی ہے کیونکہ کپتان کی جدوجہد کے دور میں ان کو بھی اسی طرح پروموٹ کیا گیا تھا؟
حالیہ چند مہینوں میں آفریدی کی ایسی تصاویر کے پھیلاؤمیں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں کہیں وہ کسی بے گھر شخص کا حال احوال پوچھتے نظر آتے ہیں تو کہیں کسی بچے کے جوتے کے تسمے باندھتے ہوئے۔ ایک تصویر میں تو وہ اپنی ایک مہنگی سپورٹس کار کے ساتھ سڑک کنارے بڑے خضوع وخشوع سے نماز پڑھتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس تصویر پر کئی لوگوں نے ان کی ستائش کی تو کچھ نے سوال اٹھایا کہ آخر خدا اور اس کے بندے کے مابین اس انتہائی ذاتی نوعیت کے عمل کی تصویر کھنچوانے اور سوشل میڈیا پر ڈالنے کی کیا تک ہے؟
بہت سے سوشل میڈٰیا صارفین انہیں نیا وزیرِ اعظم قرار دے رہے ہیں تو بعض کے خیال میں ابھی آفریدی تیاری کے مراحل میں ہیں لیکن آفریدی خود بار بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ سیاست میں نہیں آنا چاہتے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرمیں نے اپنی نماز پڑھنے کی تصویر نہیں لگائی کیونکہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ لیکن اگر میرے فینزخود سے نکال کر تصویریں لگا دیتے ہیں تو میں ان کو نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں تصویروں سے جتنا چڑتا ہوں شاید ہی کوئی اور اسٹار چڑتا ہوگا لیکن مجھے وہ آدمی مل نہیں رہا جس نے یہ تصاویر کھینچی ہیں۔
آفریدی کے بقول جو سیاست میرے دادا اور پردادا نے کی ہے، مجھے وہ سیاست بہت پسند ہے، وہ بہت سادہ سی سیاست ہے کہ عوام کی خدمت کرنا اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور حق دار کو اس کا حق دینا۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ کسی نیک کام کرنے کے لیے کسی کرسی کی ضرورت نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ کام بھلے تھوڑا ہو لیکن معیاری کام ہو۔ سیاست میں آنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آفریدی کا کہنا تھا کہ فی الحال میرا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن کل کیا ہوگا یہ اللہ جانتا ہے کیونکہ میں زیادہ دور کی منصوبہ بندی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو اللہ نے بڑا موقع دیا ہے، ان کو کارکردگی دکھانی چاہیے۔ اگر کسی ٹیم میں اتحاد نہ ہو تو وہ کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔ عمران خان کو اپنی ٹیم کو متحد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آفریدی کے بقول عمران خان بڑے فیصلے لینے والے شخص ہیں، انہیں نتائج کی پروا کئے بغیر تگڑے فیصلے کرنے چاہئیں۔
