اپنے شوہر کے ہاتھوں نورجہاں کس کرکٹر کے ساتھ پکڑی گئیں؟

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلا رن سکور کرنے اور پہلی سنچری بنانے والے سٹائلش بلے باز نذر محمد اپنے پورے کیریر میں صرف پانچ ٹیسٹ میچ ہی کھیل پائے جس کی بنیادی وجہ نورجہاں کے خاوند کا وہ چھاپہ تھا جس کے دوران ان کا بازو ٹوٹ گیا اور کیریئر ختم ہو گیا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ 1953 میں ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ ایک دوست کے گھر ڈیٹ کے دوران ان کے شوہر شوکت رضوی نے چھاپہ مار ڈالا اور اپنی جان بچانے کے لیے نذر محمد کو گھر کی 25 فٹ اونچی کھڑکی سے کودنا پڑا۔ اس دوران وہ اپنا بازو تڑوا بیٹھے اور یوں ہمیشہ کے لیے کرکٹ کے میدانوں سے آوٹ ہوگئے۔
یاد رہے کہ بعدازاں نذرمحمد کی کمی انکی اگلی جنریشن یعنی انکے بیٹے مدثر نذر نے پوری کی جو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ایک مستقل حصہ بن کر کئی سال کرکٹ کھیلتے رہے۔
کہتے ہیں کہ سنہ1947 میں برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی نذر محمد کی بیٹنگ کا شہرہ ہوگیا تھا۔ نذر محمد کا شمار ان سٹائلش بیٹسمینوں میں ہوتا تھا جو بولر کو بالکل خاطر میں نہ لاتے اور اپنے نیچرل انداز میں کھیلتے۔ 1952 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سٹیٹس ملا تو امید تھی کہ اسے نذر محمد کے تجربے اور صلاحیت سے فائدہ پہنچے گا۔ حنیف محمد کی دریافت سے انھیں ایک اچھا اوپننگ پارٹنر بھی میسر آگیا تھا۔ سنہ 1952 میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم دورہ ہندوستان پر روانہ ہوئی۔ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں پاکستان ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ اپنے ملک کی طرف سے نذر محمد نے پہلی گیند کھیلی، پہلا رن بنایا۔ لیکن میچ پاکستان ہار گیا۔ پھر لکھنؤ میں ہونے والا دوسرا میچ پاکستان ایک اننگز سے جیت گیا اور یوں ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کرلی۔ نذر محمد نے پاکستان کی طرف سے پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا اور بیٹ بھی کیری کیا۔ انہوں نے ایک اور منفرد ریکارڈ یہ بنایا کہ میچ میں تمام وقت گراﺅنڈ میں موجود رہنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بنے۔ نذر محمد کے بیٹ کیری کرنے کے 30 برس بعد ان کے فرزند مدثر نذر نے ہندوستان کے خلاف سنچری بنائی اور باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بیٹ بھی کیری کیا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی اور باپ بیٹے نے یہ اعزاز حاصل نہیں کیا اور یہ ورلڈ ریکارڈ آج بھی قائم و دائم ہے۔
پاکستان کی ہندوستان کے خلاف سیریز کا آخری ٹیسٹ کلکتہ میں ہوا جس کی پہلی اننگز میں نذر محمد نے 55 اور دوسری اننگز میں 47 رنز بنائے۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ یہ ان کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوگا۔ اس وقت یہی نظر آرہا تھا کہ ٹیم کو ایک لمبا عرصہ ان کا ساتھ میسر رہے گا لیکن ایک عجیب حادثے نے ان کا سفر کھوٹا کردیا۔اور وہ صرف پانچ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرسکے۔
کرکٹ کے نامور مبصر اور لکھاری ڈاکٹر نعمان نیاز نے اپنی کتاب ‘THE FLUCTUATING FORTUNES’ میں لکھا ہے کہ نذر محمد کے ساتھ حادثہ پیش نہ آتا تو وہ دس سال مزید پاکستان کے لیے کھیل سکتے تھے۔ نذر محمد کے ساتھ جو حادثہ ہوا اس کا تعلق کرکٹ سے نہیں عشق کے میدان سے تھا۔ وہ کوئی عام عورت نہ تھی کہ جس پر نذر محمد مرمٹے تھے بلکہ وہ اپنے وقت کی کامیاب ترین اداکارہ اور گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں تھیں۔ کہتے ہیں کہ اس معرکۂ عشق میں دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔ کرکٹ میں نذر محمد کے کمالات اپنی جگہ لیکن ان کی اپنی آواز بھی کم سریلی نہیں تھی۔ دورہ ہندوستان میں انھوں نے ایک محفل میں آواز کا جادو جگایا تو معروف گلوکار طلعت محمود نے بھی ان کی گائیکی کو سراہا۔ کہا جاتا ہے کہ نورجہاں کے ان کی طرف کھنچنےکی ایک وجہ ان کی آواز بھی تھی۔ ممتاز موسیقار فیروز نظامی ان کے بھائی تھے، اس لیے فلم نگری کی فضاء ان کے لئے اجنبی نہ تھی۔
خوبرو نوجوانوں سے دوستی کی شوقین نور جہاں کے ساتھ، نذر محمد کے مراسم شاہ نور اسٹوڈیو میں پنجابی فلم ’چن وے‘ کی فلم بندی کے دوران استوار ہوئے، جہاں ان کا آنا جانا رہتا۔ یہ فلم نور جہاں کے شوہر شوکت حسین رضوی بنا رہے تھے۔ یہ 1953 کا سال تھا۔ اس فلم کے مکمل ہونے کے بعد بھی دونوں پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے۔ اسی دوران لاہور میں سیاسی صورتحال کی وجہ سے ہنگامے شروع ہوگئے۔ حالات اتنے بے قابو ہوئے کہ مارشل لاء لگانا پڑا۔ شہر میں کرفیو بھی لگ گیا۔ نور جہاں نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے دورانِ کرفیو نقل وحرکت کے لئے خصوصی اجازت نامہ حاصل کر رکھا تھا اور دوسری طرف نذر محمد بھی کرکٹ سلیبریٹی تھے اس لیے انہیں بھی کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ عشق کی آگ میں جلنے والے یہ دو پریمی کرفیو کی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے اسلامیہ پارک میں واقع ایک دوست کے گھر ملاپ کے لیے اکٹھے ہوگئے۔ اس ملاپ کی سن گن شوکت حسین رضوی کو بھی تھی، اپنے ذرائع سے یہ بات کنفرم کرلینے کے بعد انھوں نے اپنی بیوی کے عاشق پر فیصلہ کن وار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ممتاز صحافی علی سفیان آفاقی مرحوم اپنی کتاب ’فلمی الف لیلہ‘ میں اس معاشقے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک روز میڈم نور جہاں ان سے ملاقات کے لیے گئی ہوئی تھیں کہ کسی کھوجی نے شوکت صاحب کو خبر دے دی۔ شوکت رضوی آگ بگولا ہو کر مخبر کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ دیکھا تو میڈم نور جہاں وہاں موجود تھیں مگر نذر محمد کا نام و نشان تک نہ تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ شوکت صاحب کے گرجنے کی آواز سنی تو نذر محمد نے مکان کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی اور اپنا ایک بازو تڑوا بیٹھے۔ اس واقعے کے بعد مکان کے باہر خوب تماشا لگا لیکن کریسنٹ فلمز کے میاں احسان، نور جہاں کو وہاں سے لے گئے اور یوں یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا۔
میڈم نور جہاں نے اپنی صفائی میں شوکت رضوی سے یہ کہا کہ وہ اپنی عزیز سہیلی سے ملنے کے لیے آئی تھیں لیکن شوکت رضوی مطمئن نہ ہوئے۔ انھوں نے بُرا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور غصے میں نور جہاں کو وہیں چھوڑ کر واپس چلے آئے۔ اس واقعے کے اگلے ہی روز پراسرار طور پر نذر محمد کا بازو ٹوٹ جانے کی خبر بھی عام ہو گئی۔ اگرچہ میڈم نور جہاں تو اس واقعے کی تردید ہی کرتی رہیں مگر شوکت صاحب کو یقین نہ آیا۔ وہ غصّے میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے واپس لوٹ گئے اور سب کو بتایا کہ وہ نور جہاں کی صورت تک نہیں دیکھنا چاہتے، اسی معاشقے کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔
شوکت حسین رضوی نے بعد ازاں اپنے ایک انٹرویو میں خود بھی بتایا تھا کہ انھوں نے اپنی محبوب بیوی نور جہاں کے ساتھ اس کے عاشق نذر محمد کو رنگے ہاتھوں پکڑا۔ کہتے ہیں کہ مجھے وہاں دیکھ کر نذر محمد گھبرا کر کھڑکی سے باہر کود گیا جو زمین سے تقریباً 25 فٹ اونچی تھی۔ شوکت رضوی کے بقول ’ اس وقت اگر میرے پاس پستول ہوتا تو میں نور جہاں اور نذر دونوں کو گولی مار دیتا۔
دوسری جانب کھڑکی سے کودنے کے بعد نذر محمد کی جان تو بچ گئی مگر کرکٹ کیریئر تباہ ہوگیا۔ اس طرح پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک مایہ ناز کھلاڑی سے محروم ہو گئی۔ بدنامی کے ڈر سے نذر محمد ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بجائے جراحوں اور پہلوانوں کے چکّر میں رہے جس کی وجہ سے بازو کی ہڈّی ہمیشہ کے لیے خراب ہو گئی اور وہ پھر کرکٹ نہ کھیل سکے۔ بعد ازاں نذر محمد نے انگلینڈ میں سپیشلشٹ ڈاکٹر سے بھی علاج کرایا لیکن بازو اس قابل نہ ہوسکا کہ وہ کرکٹ جاری رکھ سکتے۔
کرکٹ حلقوں کے خیال میں اگر سٹائلش بلے باز نذر محمد عین کیریئر کے عروج پر نورجہاں کے ساتھ عشق کی پینگیں نہ بڑھاتے تو شاید کھڑکی سے کود کر بازو تڑوانے کی نوبت نہ آتی اور وہ ایک لمبے عرصے تک کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر کے ملک کے لئے مزید کامیابیاں سمیٹنے کا باعث بنتے۔ تاہم بعدازاں ان کے صاحبزادے مدثر نذر نے پاکستان کی نمائندگی کی اور پھر قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی بنے۔
