اپنے منہ میاں مٹھو بننا کوئی اسلم بیگ سے سیکھے


معروف لکھاری اور کئی مشہور کتابوں کے مصنف محمد حنیف نے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کی حال ہی میں سامنے آنے والی سوانح عمری کو اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور خود پسندی کا ایک حسین امتزاج قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں محمد حنیف کہتے ہیں کہ کتاب کے ایک صفحے پر اسلم بیگ فرماتے ہیں کہ روس کی شکست و ریخت میں اس ناچیز کا بھی حصہ ہے۔ تھوڑا آگے چل کر شکایت کرتے ہیں کہ حکومت نے میری سیاسی سرگرمیوں سے گھبرا کر میرا سرکاری باورچی مجھ سے چھین لیا تھا۔ یاد رہے کہ ضیا کی موت کے بعد اقتدار نہ سنبھالنے، الیکشن میں دھاندلی نہ کرانے اور اپنی مرضی سے ریٹائر ہونے کے دعووں کرنے والے جنرل بیگ نے بعد ازاں ایک غیرسرکاری تنظیم بنائی تھی ’فرینڈز‘ کے نام سے۔ لیکن بقول انکے جنرل مشرف اُن کی مقبولیت سے اتنا گھبرا گئے کہ اس کی فنڈنگ بند کروا دی اور سب دوست فرینڈز کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔
حنیف کے مطابق انہیں جنرل اسلم بیگ کی کتاب کا نام سن کر تھوڑی حیرت ہوئی۔ کتاب کا ٹائیٹل ہے ’اقتدار کی مجبوریاں‘۔ حنیف کہتے ہیں کہ مجھے حیرت اس لے ہے کہ اسلم بیگ کی وجہ شہرت تو ہے ہی یہ کہ وہ باوجود ایک سنہری موقع ملنے کے اقتدار پر قابض نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ دہائیوں سے قوم کو مسلسل یہی بتاتے رہے ہیں کہ دیکھو میں مارشل لا لگا سکتا تھا لیکن میں نے نہیں لگایا۔ میں اقتدار سنبھال سکتا تھا لیکن نہیں سنبھالا۔
حنیف کہتے ہیں کہ اگر میری یادداشت صحیح ساتھ دیتی ہے تو اقتدار نہ سنبھالنے پر انھیں اور ان کے ساتھ پوری افواج پاکستان کو بے نظیر بھٹو نے تمغہ جمہوریت بھی دیا تھا۔ لیکن تب بھی کسی نے کہا تھا کہ بی بی پتا نہیں ان کو تمغہ لگا رہی ہے یا جُگت۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل بیگ کو تمغہ جمہوریت اس لئے دیا گیا تاکہ وہ اقتدار پر قابض ہونے کے اپنے ارادے سے باز رہیں۔ لیکن اپنی کتاب کے شروع میں ہی اسلم بیگ نے یہ وضاحت کر دی ہے کہ اقتدار کی مجبوریاں دراصل جنرل ضیا الحق کے الفاظ ہیں جو انھوں نے اس وقت کہے جب جنرل بیگ انھیں قائل کر رہے تھے کہ وہ مارشل لا اٹھا کر جمہوریت بحال کر دیں۔ جنرل ضیا نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا مجھے پھانسی لگواؤ گے، جنرل ضیا اسلم بیگ کی بات نہیں مانے اور وہ یہ سنہرے الفاظ کہہ کر چل دیے کہ میں تو اپنے جہاز میں جا رہا ہوں۔ جنرل ضیا کا انجام سب کے سامنے ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اسلم بیگ کی کتاب کا دو لائنوں میں خلاصہ کر دیں تو وہ یہی ہو گا کہ جس نے بھی جنرل اسلم بیگ کی بات نہیں مانی اس کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ اس میں بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، سپریم کورٹ کے کئی جج، اصغر خان، روس اور امریکہ بھی شامل ہیں اور جنرل مشرف بھی جنھوں نے ایک میٹنگ میں جب جنرل بیگ کا خطاب سُنا تو ایسی گھگھی بندھی کہ آج تک بندھی ہوئی ہے۔
حنیف کہتے ہیں کی پوری کتاب میں اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے اسلم بیگ نے عوامی قیادت پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی تھی جس کی بینظیر بھٹو کی جماعت کے ساتھ سیٹ بقول انکے ایڈجسٹمینٹ بھی ہو گئی تھی۔ لیکن جیالے نہیں مانے۔ دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی اتحاد بنے لیکن جب وہ اجلاس میں اپنے نظریات بیان کرتے تو باقی سیاسی رہنما سیاست کی بات کرنے لگتے۔ سیاست سے مایوس ہو کر انھوں نے اخبارات میں مضمون لکھنے شروع کیے، مشرف پھر گھبرا گیا تو وہ بھی بند کروا دیے۔ جنرل بیگ کو اپنی ذات، اپنے ملک، اپنے ادارے اور اپنی تزویراتی گہرائی سے زیادہ اگر کسی سے محبت ہے تو وہ افغان طالبان ہیں۔ وہ ان کو اسلام کی نشاطِ ثانیہ اور دنیا میں مسلمانوں کے عروج کا نقطہ آغاز دیکھتے ہیں۔ اگرچہ ان میں چرچل والی خصوصیات ہیں لیکن ان کا خواب ملا عمر بننا ہے۔
حنیف کے بقول ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل بیگ کی زندگی کا سب سے شاندار لمحہ وہ تھا جب رچرڈ آرمیٹاج ان سے ملنے ان کے گھر آئے۔ یہ وہی آرمیٹاج تھے جنھوں نے مشرف کو دھمکی دی تھی کہ پاکستان پر بمباری کر کے پتھر کے زمانے میں پہنچا دوں گا۔ رچرڈ آرمٹیاج دست بستہ حاضر ہوئے کہ ہمارے طالبان سے مذاکرات شروع کروا دو۔ جنرل بیگ نے آئی ایس آئی والے مشہور کرنل امام کو گھر بلا کر رچرڈ بھائی سے ملوا دیا۔ لیکن کرنل امام کو اکیلے میں یہ مشورہ بھی دیا کہ یہ بندہ بھی خطرناک ہے اور ہمارے سرحدی علاقوں میں بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
لیکن کرنل امام چل پڑے مذاکرات کروانے اور کبھی واپس نہ آئے۔ بقول حنیف مجھے شاید آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا کہ جس نے جنرل اسلم بیگ کی بات نہیں مانی اس کا انجام کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی مجبوری کے تحت آپ کو بیگ کے اقتدار کی مجبوریاں پڑھنی پڑ جائے تو میری طرح شاید آپ کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہو کہ اللہ وہ دن ہم سب پر لائے جب ہم جنرل بیگ کی طرح اپنے باس کو کہہ سکیں اللہ حافظ، میں تو اپنے جہاز پر جا رہا ہوں۔ یہاں حنیف کا اشارہ اپنی کتاب دی ایکسپلوڈنگ مینگوز کی طرف ہے۔

Back to top button