اپوزیشن اتحاد میں ٹوٹ پھوٹ کی اصل ذمہ دار کون سی جماعت ہے؟

چھ ماہ پہلے پی ڈی ایم کے قیام کے وقت تو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے جوش و جذبے سے بھری پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ایسا طوفان اٹھانے والی ہے کہ حکومت کا بچنا مشکل ہو جائے گا، پر طوفان تو اٹھا لیکن پی ڈی ایم کے اپنے اندر ہی، جس سے اسکی اپنی کشتی اب بھنور میں پھنسی اور ڈوبتی نظر آتی ہے۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ تحریک انصاف کے خلاف قائم ہونے والا یہ سیاسی اتحاد اے این پی کے نکلنے کے بعد اور کتنے دن چلے گا، لیکن عمومی تائثر یہی ہے کہ یہ اتحاد اب آخری دموں پر ہے اور اسکا شیرازہ بکھرنے والا ہے۔
دراصل پی ڈی ایم کے قیام کی محرک پیپلز پارٹی تھی، جس کی قیادت آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہے۔ کون نہیں جانتا کہ زرداری صاحب کا طرز سیاست ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے یکسر الگ ہے۔ وہ مزاحمت اور ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں اور مفاہمتی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ زرداری شطرنج کے کھلاڑی کی طرح چالیں چلتے ہیں اور مہروں کے ذریعے اپنے مخالفین کو چت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اور آصف زرداری نے اب بھی یہی کیا ہے، جس پر نواز لیگ کا ناراض ہونا حیران کن ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حیرانی تو نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن پر ہونی چاہیئے جنھوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ آصف زرداری اور پیپلز پارٹی ان کے سخت گیر موقف فوج مخالف بیانیے کے ساتھ زیادہ عرصہ چل پائیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شاید یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ نیب کے مقدمات کا گھیرا حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے ایسی زنجیر ثابت ہو گا جس میں وہ بندھی رہیں گی، لیکن اب لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے لیے راستہ نکال لیا ہے اور وہ جس گرفت میں تھی وہ خاصی ڈھیلی ہو چکی ہے۔
پی ڈی ایم کی اہم ترین رکن جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں فاصلوں کی بات تو بہت دنوں سے کی جا رہی تھی، لیکن گزشتہ چند روز میں یہ فاصلے اتنی تیزی سے سامنے آئے اور اپوزیشن اتحاد کی جماعتیں اس پھرتی سے ایک دوسرے کے مقابل آئیں کہ وہ تجزیہ کار بھی حیران رہ گئے جو پی ڈی ایم میں دراڑیں پڑنے کا امکان بار بار ظاہر کر چکے تھے۔ سینیٹ کے الیکشن تک ایسا لگتا تھا کہ جیسے حزب اختلاف کی جماعتیں دیوار کی طرح ایک دوسرے سے جڑی کھڑی ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ کی اسلام آباد کی نشست پر کام یاب ہونا پی ڈی ایم کے باہمی اتحاد کا مظہر بن کر سامنے آیا، اور کہا جانے لگا کہ یہ پی ڈی ایم میں آصف زرداری کے اس بیانے کی جیت ہے جسکے مطابق حکومت کے خلاف جنگ پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے اور اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکرائے بغیر لڑی جائے۔ تاہم چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں جب حزب اختلاف اپنے زیادہ ووٹ رکھنے کے باوجود سات ووٹ مسترد ہونے کی وجہ سے ہار گئی تو اس سے ایک بار پھر نواز شریف کے بیانے کو تقویت ملتی نظر آئی، اور یہ تائثر زور پکڑ گیا کہ اب پیپلز پارٹی پوری شدت کے ساتھ نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخاکف بیانیے کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ لیکن جو ہوا وہ اس کے برعکس تھا۔
پی ڈی ایم کے اجلاس میں نواز شریف کے مطالبے پر زرداری نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے صاف انکار کر دیا اور انکے اصرار پر تکرار کے بعد انھوں نے میاں صاحب کو پاکستان واپس آ کر استعفے وصول کرنے کا چیلنج دے ڈالا۔ بس پھر کیا تھا، زردسری کا یہ مطالبہ طعنہ بن کر نون لیگی قیادت کے دل کو لگا جس کے بعد دونوں طرف سے ایک دوسرے سے ناراضگی گرماگرم بیانات کے ذریعے سامنے آنے لگی۔ مولانا فضل الرحمٰن ابھی اس حدت کو کم کرنے اور نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو دوبارہ قریب لانے کے لیے جتن کر ہی رہے تھے کہ پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو اے این پی، جماعت اسلامی اور دو آزاد ارکان کی مدد سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف منتخب کروا دیا۔ یوں آصف زرداری نے ثابت کر دیا کہ ملکی سیاست میں سیاسی گروں اور حربوں کا ان سے بڑا ماہر کوئی نہیں۔ تاہم نون لیگ نے بھی آخری حد تک جاتے ہوئے نہ صرف یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کر دیا بلکہ مولانا فضل الرحمن کو ساتھ ملا کر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شو کاز نوٹسز بھی جاری کروا دیے۔
اسکے نتیجے میں 6 اپریل کو لڑکھڑاتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کو ایک بڑا جھٹکا تب لگا جب عوامی نیشنل پارٹی نے شوکاز نوٹس کے ردعمل میں پی ڈی ایم سے الگ ہونے کا اعلان کردیا۔
دوسری طرف اتحاد کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی بھی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر شوکاز نوٹس ملنے پر شدید برہم ہے اور کوئی بھی فیصلہ کر سکتی یے۔گویا سات ماہ قبل اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں تشکیل پانے والے اتحاد کے باقاعدہ خاتمے کا آغاز ہو گیا ہے۔
اپنی پریس کانفرنس میں اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب اس اتحاد کا نام پی ڈی ایم نہیں رہا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور مسلم لیگ نواز کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے پیپلزپارٹی اوراے این پی کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے تھے اور ان سے وضاحت مانگی تھی کہ اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے یوسف رضا گیلانی کو نامزد کرتے ہوئے انہوں نے پی ڈی ایم کے معاہدے کی خلاف ورزی کیوں کی اور حکومتی سینیٹرز کی مدد کیوں لی۔
تاہم این پی کا موقف تھا کہ نون لیگ نے پی ڈی ایم میں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور مولانا فضل الرحمان کو اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کے لیے استعمال کر رہی ہے لہذا اب اس اتحاد میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخواہ کے صدر ایمل ولی خان سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ کچھ جماعتیں پی ڈی ایم پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ ایمل ولی خان نے پی پی پی چیئرمین کو پی ڈی ایم سے الگ ہونے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی جماعت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسری جماعت کو شوکاز نوٹس جاری کرے۔ بلاول بھٹو نے شو کاز نوٹسز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کی کچھ جماعتیں اپوزیشن کے خلاف ہی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں جس کا فائدہ حکومت کو پہنچے گا۔
سیاسی تجزیہ کار اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ نواز نے استعفوں اور اپوزیشن لیڈر کے معاملے کو درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا سیاسی اتحاد ایک ڈھیلا ڈھالا الائنس ہوتا ہے جس میں باہمی تعاون کا کم سے کم ایجنڈا ہوتا ہے۔ ایسے اتحاد کی رکن جماعتیں جب ایک دوسرے کو شوکاز نوٹسز دینا شروع کر دیں تو پھر اتحاد نہیں چل سکتا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’جب نواز شریف خاموشی سے ملک سے باہر چلے گئے تھے تو اس وقت کون سی مشاورت ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں حکومت ہونے کے باعث پیپلز پارٹی اس سسٹم میں واحد سٹیک ہولڈر ہے اس لیے اس نے استعفوں کے معاملے میں درست موقف اختیار کیا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق پی ڈی ایم کے اجلاس میں آصف زرداری کی جانب سے نواز شریف کی ملک واپسی کے مطالبے سے معاملات خراب ہوئے اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا موقع مل گیا۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ نواز لیگ نے بھی جمیعت علماء اسلام کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شو کاز نوٹسز جاری کر کے دیوار کے ساتھ لگا دیا جس کا نتیجہ پی ڈی ایم اتحاد کے بکھرنے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جسکا نقصان اپوزیشن کو ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button