اپوزیشن اتحاد کا وجود دوبارہ خطرے میں پڑ گیا

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے معاملے پر پی ڈی ایم کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری جنگ بالآخر پیپلز پارٹی نے جیت لی ہے اور یوسف رضا گیلانی قائد حزب اختلاف مقرر ہوگئے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے اس عمل سے پی ڈی ایم کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ مسلم لیگ نواز نے گیلانی کے انتخاب کو اپوزیشن اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دے دیا ہے۔
یاد ریے کہ 26 مارچ کو پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں 30 ارکان کی حمایت کے ساتھ یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے درخواست جمع کروائی تھی جبکہ مسلم لیگ ن نے اس سے پہلے 28 ارکان کی حمایت حاصل کرنے کا دعوی کیا تھا۔ مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے یوسف رضا گیلانی کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صادق سنجرانی کے پاس درخواست جمع کروانے کا مطلب انہیں سینٹ کا چیئرمین تسلیم کرنا ہے حالانکہ وہ ابھی تک متنازعہ ہیں اور یوسف رضا گیلانی خود ان کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سب سے پہلے سینیٹ سیکریٹریٹ میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کی درخواست سنجرانی کو دی جس کے بعد یوسف رضا گیلانی نے اپنی درخواست جمع کروائی اور اکثریت ثابت کرنے کی وجہ سے ان کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گیلانی کی جانب سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ لینے ان کا سینٹ چیئرمین کے خلاف کیس مزید کمزور ہو گیا ہے کیونکہ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ابھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا تھی۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ سے بھی کوئی توقع نہیں تھی اس لیے انہوں نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ حاصل کرنے کو ہی غنیمت جانا۔
گیلانی نے دیگر سینیٹرز کے ہمراہ 26 مارچ کے روز چیئرمین سینیٹ کے پاس 30 سینیٹرز کے دستخطوں پر مبنی درخواست جمع کروائی جس میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کو اپوزیشن کے اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے لہٰذا سید یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف مقرر کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے درخواست جمع کرانے کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’گیلانی اسی کے پاس عرضی لے کر پہنچ گئے جس کے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو انہوں نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی کی یہ حرکت اپوزیشن اتحاد کو ایک بڑا دھچکا پہنچانے کے مترادف ہے جس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کے لیے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ اتنا ہی ناگزیر تھا تو گیلانی نواز شریف سے بات کرتے، وہ خوشی سے انہیں یہ سیٹ دے دیتے، لیکن پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر ہونے والے فیصلوں کے خلاف جا کر پیپلزپارٹی نے اتحاد کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب سید یوسف یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے سید قاسم گیلانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ اسی جماعت کا حق بنتا تھا جس کے سب سے زیادہ حمایتی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ نواز لیگ کو دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ قاسم گیلانی نے بتایا کہ ’پیپلز پارٹی کے اپنے 21، اے این پی کے دو، جماعت اسلامی کے ایک، فاٹا کے دو اور سینیٹر دلاور خان کی سربراہی میں بننے والے چار آزاد ارکان کے نئے گروپ نے یوسف رضا گیلانی کی حمایت کر دی تھی جس کے بعد اب یہ عہدہ انہی کا حق بنتا تھا۔
دوسری جانب ایوان بالا میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کا بھی دعویٰ تھا کہ انھیں 28 ارکان سینیٹ کی حمایت حاصل ہے جبکہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے 26 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ کے 28 حمایتی سینیٹرز میں اس کے اپنے 17، جے یو آئی ف کے 5، بی این پی مینگل کے 2 اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے 4 ارکان شامل تھے۔ تاہم گیلانی کی جانب سے 30 سینیٹرز کی حمایت ثابت ہو جانے کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ان کی بطور قائد حزب اختلاف تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔
یاد ریے کہ 99 ارکان کے ایوان بالا میں اپوزیشن ممبران کی تعداد 58 ہے جبکہ حکومتی اراکین کی تعداد 41 ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں چیئرمین کے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی 48 جبکہ اپوزیشن کے یوسف رضا گیلانی 42 ووٹ حاصل کر سکے تھے جبکہ سات ووٹ مسترد کر دیے گئے تھے۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی کو 54 جبکہ ان کے مدمقابل پی ڈی ایم کے غفور حیدری 44 ووٹ حاصل کر سکے تھے۔
بتایا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنوانے کے لئے بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ سے ایک فارورڈ بلاک بنوایا جس نے گیلانی کی حمایت کردی۔ پی پی پی ذرائع نے بتایا کہ یوسف رضا گیلانی کی حمایت میں دستخط کرنے والے اراکین فاروڈ بلاک میں سینیٹر ہدایت اللہ، ہلال الرحمٰن، مشتاق احمد اور نوابزادہ ارباب عمر فاروق شامل ہیں۔ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ اس معاملے پر ایس ان اقبال کا کہنا ہے کہ معاملہ اصل میں اصول کا تھا اور اکثریت کا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مانا کہ پیپلزپارٹی سینٹ میں سب سے بڑی جماعت تھی لیکن پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ نواز لیگ کو دیا جائے گا اس لئے اصولی طور پر یہ نون لیگ کا حق بنتا تھا جس نے سینٹ کے الیکشن میں گیلانی کو ووٹ دے کر کامیاب کروایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اس یوٹرن سے پی ڈی ایم اپوزیشن اتحاد کا وجود اب خطرے میں پڑ گیا ہے۔
یاد ریے کہ ایوان بالا میں اپوزیشن جماعتوں میں پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 21 ہے۔ شیری رحمٰن کے مطابق گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے کے لیے جماعت اسلامی کے ایک، سابق فاٹا کے 2 اور دلاور خان کے آزاد گروپ کے 4 اراکین کی حمایت حاصل تھی اس لیے 30 اراکین سینیٹ کے دستخط سے درخواست جمع کروائی گئی جس کے بعد گیلانی کو قائد حزب اختلاف بنا دیا گیا۔
دوسری جانب اس حوالے سے جب اخبار نویسوں نے یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ کتنے ارکان نے میری حمایت کے لیے دستخط کیے، مجھے شیری رحمٰن نے یہاں بلایا تھا اور ساری کارروائی پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی۔
پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) سینیٹ اپوزیشن لیڈر کے لیے اعظم تارڑ کو نامزد کرنے کے بعد اس پر اصرار نہ کرتی تو شاید پیپلز پارٹی نواز لیگ کے لیے یہ سیٹ چھوڑنے پر راضی بھی ہو جاتی۔ لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ بتائے جانے کے باوجود کہ اعظم نذیر تارڑ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کی وکالت کرتے رہے ہیں، نواز لیگ نے ان ہی کے نام پر اصرار کیا جس کے بعد یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ احسن اقبال کے کہنے کے مطابق پی ڈی ایم کے اتحاد کو لگنے والا یہ بڑا دھچکا اس کے خاتمے پر منتج ہوتا ہے یا نہیں؟
