اپوزیشن جماعتیں عوام متحد، نااہل عمران خان کو جانا ہو گا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر مڈٹرم انتخابات یا ان ہاؤس تبدیلی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔ اپوزیشن اورپورا ملک ایک پیج پر ہے، عمران خان کو جانا پڑے گا
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا اپوزیشن رہبر کمیٹی یا اے پی سی میں جو فیصلہ ہوگیا، ہم اس کے مطابق چلیں گے اور جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے تو تمام صوبے کے عوام ایک پیج پر ہے اس لیے اپوزیشن کو جلد از جلد عوام کی امید پر پورا اترتے ہوئے ان کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کو جانا پڑے گا’۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے فیصلوں کے مطابق چلیں گے۔ مڈٹرم الیکشن سمیت جو فیصلہ ہوا عمل کریں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کو اب جانا ہوگا۔ عید کے بعد ملاقاتوں کے ثمرات نظر آئیں گے۔ حکومت نے عوام کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
کورونا وائرس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘پاکستانی میڈیا اور بعض سیاسی جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی صحت پر سیاست کی جو قابل مذمت ہے’۔پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک کے خلاف پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی نے الزام سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رحمٰن ملک نے یقیناً وزات داخلہ کمیٹی کی حیثیت سے امریکی بلاگر سے ملاقات کی ہوگئی لیکن وہ الزام کی بابت ضرور استفسار کریں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ناجائز اور نااہل حکومت کو جانا ہوگا۔ عید کے بعد رہبر کمیٹی تجاویز مرتب کرے گی۔ رہبر کمیٹی کی تجاویز کو اے پی سی میں رکھا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘اگر ایک پارٹی کی تیاری دوسرے کے مقابلے میں کم ہوئی تو ہم توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اور ایک دوسرے پر تنقید نہیں کریں گے’۔
انہوں نے کہا کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی مشاورت کے بعد ایجنڈا طے کرے گی اور اس کے بعد اے پی سی حکمت عملی مرتب کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مسلسل دو برس سے ایک بات بڑی وضاحت سے کہہ رہے ہیں کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا جو واپس کیا جائے، ایک حقیقی مینڈیٹ کے ساتھ قوم کا نمائندہ نمائندگی کرے۔انہوں نے کہا کہ دوبرس میں ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے، شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد و تاجر چیخ رہے ہیں، ہماری ترجیح ملکی معیشت کا اٹھانا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس حکومت کو جائز ہی نہیں سمجھتے، ہم نے پہلے دن سے موجودہ حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کی کیونکہ یہ اب نااہل بھی ہے۔اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ‘ایک بار کہہ دیا کہ یہ حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی اسے ہم سے جائز نہیں منوا سکتا جبکہ اب وقت آگیا ہے کہ ان حکمرانوں سے حساب لیا جائے’۔
