اپوزیشن جو مرضی کر لے،کرسی چھوڑ دونگا این آر او نہیں دونگا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرسی چھوڑنی پڑی چھوڑ دوں گا لیکن کرپشن معاف نہیں کروں گا اور نہ ہی این آر این او دوں گا۔ قانون توڑنے والوں کیخلاف مقدمہ درج ہوں گے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے جو مرضی کر لیں، این آر او نہیں ملے گا، لاہور میں تیزی سے کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں، آرگنائزر اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔ جلسے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون توڑنے والوں کیخلاف ایف آئی آر کاٹی جائے گی۔ اپوزیشن کے جلسوں سے پریشر میں نہیں آؤں گا، پی ڈی ایم کے جلسوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، ہم نے اپنے جلسے کینسل کر دیئے ہیں۔ پارٹی میں کسی کو اجازت نہیں دی کہ جلسے کریں۔
کراچی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں جو پارٹی جیتی ہے وہ حکومت بناتی ہے اور وہ اپنے ووٹ بنک کے لیے اندرون سندھ کام کرتے ہیں وہ کراچی کے لیے کچھ نہیں کرتے جس کے باعث شہر قائد پیچھے رہ جاتا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب کراچی پیکیج لے آئے ہیں۔ اس عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ سیوریج، پانی، نالے سمیت دیگر مسائل حل ہوں گے، مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان، گلگت، سابقہ قبائلی علاقے بہت پیچھے رہ گئے تھے، گلگت کو صوبائی درجہ دے دیا ہے، قبائلی علاقے کے پی کے میں ضم ہو گئے ہیں۔ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام کر رہے ہیں، مزید پیسے لگائیں گے، جنوبی تربت اس کی مسائل ہے، بلوچستان میں ضرورت سے زیادہ پیسے لگائیں گے۔
بلدیاتی پروگرام کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ شہروں کی علیحدہ سٹی ڈسٹرکٹ حکومت ہونی چاہیے، شہروں کا اپنا بلدیاتی نظام ہو کر تو شہر ترقی کریں گے، جیسا نظام لندن، پیرس، نیو یارک میں ہے ایسا نظام پاکستان میں بھی لا رہے ہیں۔سیاسی درجہ حرارت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کہتی ہے این آر او دو، فٹیف کے دوران 34 ترامیم اس کی مثال ہے۔ اپوزیشن اس معاملے پر بہت تنگ کیا۔ کہتے تھے کہ جب تک شقیں تبدیل نہیں کرو گے ہم فٹیف پر سپورٹ نہیں کریں گے۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس ملک کے ساتھ سب سے بڑی بدقسمتی ہے سابق صدر نے اپنی کرسی بچانے کے لیے آصف زرداری، نواز شریف کو این آر او دیا، زرداری کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں ایک ارب روپے خرچ کیا مگر وہ کیس ختم ہو گیا۔ اگر انہیں معاف کرنا ہے تو سب سے پہلے جیلوں میں غریب لوگوں کو باہر نکالوں،تعلیمی پروگرام سے متعلق انہوں نے کہا کہ سرگودھا میں ایک یونیورسٹی بنائی جائے گی جو پی ایچ ڈی کروائے گی، القادر یونیورسٹی میں تصوف اور روحانیت کی تعلیم دی جائیگی۔ اس یونیورسٹی میں داتا صاحبؒ، بابا بلھے شاہؒ ، بابا فرید الدین گنج شکر ؒ اور دیگر صوفیا کو پڑھایا جائیگا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے یکساں نصاب کیلئے بہت محنت کی ہے۔ کوشش کررہے ہیں کہ یکساں نصاب بہت جلد لاگو کیا جائے۔ یکساں نصاب ہمیں 70سال قبل لاگو کرنا چاہیے تھا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں موبائل فون کے غلط استعمال نے تباہی مچا دی ہے، بچے وہ چیزیں دیکھ رہے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا، ہم ترک ڈرامے اس لئے لائے ہیں کہ اس میں اسلامی تعلیمات ہیں۔ آپ لوگوں پر پابندی نہیں لگا سکتے ان کو متبادل تفریح مہیا کرسکتے ہیں۔ کوشش کریں گے کہ ایسی چیزیں بنائیں جو معاشرے کو اوپر لے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو معاشرہ اپنی اقدار اوپر لے جاتا ہے وہ کامیاب رہتا ہے۔ آپ ایک بدکردار اور نیک آدمی کو برابر تصور نہیں کرسکتے، کچھ صحافی عدالت میں چلے گئے اور استدعا کی سابق وزیراعظم نواز شریف کو تقریر کا موقع دیں۔ لیگی قائد کو عدالت نے سزا دی، بہت سے کیسز ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو آزادی اظہار کا موقع فراہم کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن صرف احتساب کرکے ختم نہیں کی جاسکتی، پورا معاشرہ کردار ادا کرتاہے۔ مغربی معاشرے کے اندر کرپٹ لوگوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ دنیا میں بہت سے بڑے لوگوں نے کرپشن میں پکڑے جانے پر خودکشی کرلی۔ انہیں پتہ تھا کہ معاشرے میں اب ان کی جگہ نہیں ہے۔اسحق ڈار کے انٹرویو سے متعلق انہوں نے کہا کہ آپ نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو دیکھ لیا کہ اس نےانٹرویومیں کیا باتیں کیں؟ پبلک فنڈ چوری کرنے والا میڈیا اور پارلیمان میں نہیں جاسکتا، یہاں جھوٹ بول کر لوگ دندناتے پھر رہے ہیں۔
اپنی ذاتی زندگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ میری زندگی کا تجربہ باقیوں سے مختلف ہے، میں 18 سال کی عمر میں برطانیہ چلا گیا، مجھے نوجوانی میں دو مختلف ثقافتوں میں زندگی گزارنے کا تجربہ ہوا، تجربے سے ہی میرے اندر تبدیلی آئی۔عمران خان کاکہنا تھا کہ ہمیں علامہ اقبالؒ کی تعلیمات کی طرف جانا ہوگا، ہمارے پاس دوراستے ہیں اچھائی یا برائی کا راستہ، پچھلے چالیس کے اندرمغرب کا فیملی سسٹم ٹوٹا، مغرب میں پاپ سٹارزنے منشیات کوفیشن بنادیا تھا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈرگز اور نشے وغیرہ سے عارضی خوشی یا اطمینان ہوتا ہے، دائمی خوشی آپ کو روحانیت سے میسر آسکتی ہے۔ اندر کی خوشی اور اطمینان اللہ کی طرف سے آتا ہے اسے آپ بیان نہیں کرسکتے۔
