شہبازشریف کے حاضری سے استثنیٰ کیخلاف نیب کی استدعا مسترد

لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو مستقل حاضری سے استثنیٰ کا فیصلہ فوری معطل کرنے کی نیب کی استدعا مسترد کر دی ہے اور شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 مارچ کو جواب طلب کر لیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 17 جنوری کو احتساب عدالت نے شہباز شریف کو مستقل حاضری سے معافی دے دی۔ عدالت نے نیب وکیل سے استفسار کیا کہ کیا شہباز شریف کی عدم موجودگی میں ٹرائل رک گیا ہے۔ نیب وکیل نے کہا کہ حاضری معافی کی درخواست دینے کے لیے ملزم کا عدالت میں موجود ہونا ضروری ہے۔ شہباز شریف نے جب حاضری معافی کی درخواست دی وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ ان کو علاج کے لیے حاضری معافی دی گئی تھی لیکن اب اپوائنٹمنٹ کی تاریخ بھی گزر چکی ہے۔
نیب وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ شہباز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں دو ریفرنسز کا ٹرائل جاری ہے۔ جن میں آشیانہ اقبال ریفرنس اور رمضان شوگر مل ریفرنس زیر سماعت ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے قانون کے برعکس شہباز شریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواست منظور کی۔ شہباز شریف آشیانہ ریفرنس اور رمضان شوگر مل ریفرنس میں مرکزی ملزم ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کا شہباز شریف کو مستقل حاضری معافی دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو ٹرائل جوائن کرنے کا حکم دے۔عدالت نے نیب کی درخواست مسترد کر دی اور شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 مارچ کو جواب طلب کر لیا۔
یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے حاضری سے مستقل استثنیٰ کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا تھا. لاہور کی احتساب عدالت میں 17 جنوری کو چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی تھی، اس دوران عدالت نے آشیانہ اور رمضان شوگرملز کیس میں شہبازشریف کی مستقل حاضری معافی کی درخواست منظور کی تھی.
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف اپنے بڑے بھائی اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے ہمراہ لندن روانہ ہوئے تھے اور جب سے وہ لندن میں ہی مقیم ہیں۔
