اپوزیشن کا عدم اعتماد کے لیے نمبرز گیم پوری ہونے کا دعویٰ


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عثمان بزدار کی قربانی دے کر قاف لیگ کو ساتھ ملانے کے باوجود اپوزیشن قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے نمبرز گیم پوری کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیر کو قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی، جس پر بحث جمعرات کو کرائی جائے گی۔ تاہم تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد ملکی سیاست میں تب بڑی ہلچل مچ گئی جب کپتان کو نیپیاں بدلوانے والا وزیراعظم قرار دینے والے چوہدری پرویز الٰہی نے اچانک بنی گالہ پہنچ کر پنجاب کی وزارت اعلی قبول کرلی اور اپوزیشن کو دھوکا دے دیا۔ دوسری جانب قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ نے استعفی دے کر اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کر دیا، اس کے فوری بعد حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی نے اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اپوزیشن اور حکومت دونوں اپنی کامیابی کے دعوے کرنے میں مصروف ہیں، تاہم کل تک مضبوط نظر آنے والی اپوزیشن کا دعوی ہے کہ وہ اب بھی مضبوط ہے اور اس کے پاس عمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلیے نمبرز گیم مکمل ہے۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں دعوی کر رہے ہیں کہ سات سیٹوں کے ساتھ فیصلہ کن حیثیت رکھنے متحدہ قومی موومنٹ ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ حکومتی اتحاد میں شامل ایم کیو ایم اس وقت حکومت اور۔اپوزیشن دونوں سے ملاقاتوں میں مصروف ہے لیکن کوئی فیصلہ نہیں کر پائی جبکہ تخن سیٹوں والی جی ڈی اے کی حمایت حکومت کے ساتھ ہے۔ اس وقت وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اپوزیشن کو 172 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے۔ ایوان میں نمبرز گیم پر نظر ڈالی جائے تو اپوزیشن اتحاد میں مسلم لیگ ن کے 84، پیپلزپارٹی کے 56، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 اور اے این پی کا 1 جبکہ دو آزاد امیدوار شامل ہیں جن کی تعداد 162 بنتی ہے۔ عوامی جمہوری اتحاد کے سربراہ شاہ زین بگٹی، بلوچستان عوامی پارٹی کے چار اور طارق بشیر چیمہ کے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کے اعلان کے بعد اس وقت اپوزیشن اتحاد کی تعداد 168 ہو چکی ہے۔ تاہم اس اتحاد میں اپوزیشن کے دو ارکان کی عدم دستیابی کا امکان ہے جن میں سے ایک آزاد رکن علی وزیر جیل میں ہیں جب کہ پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم بیرون ملک موجود ہیں اور حکومت نے ان کی وطن واپسی پر گرفتاری کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکومت نے ان کا نام ناظم جوکھیو کیس میں ای سی ایل میں ڈال رکھا ہے جس کے باعث ان کا بیرون ملک سے واپسی کا امکان کم ہے۔ یوں اپوزیشن کے حمایتی اراکین کی تعداد 166 رہ جاتی یے۔ اس کے علاوہ حکومتی بنچز پر موجود سندھ سے آزاد ارکان علی نواز شاہ آصف زرداری کے ساتھ ملاقات کر چکے ہیں اور انہوں نے اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اسی طرح گوادر سے آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے بھی اپوزیشن کے ساتھ جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یوں اپوزیشن اتحاد کی موجودہ تعداد 168 بنتی ہے۔
اس ساری صورتحال میں ایم کیو ایم پاکستان کی پوزیشن تحریک عدم اعتماد کامیاب یا ناکام بنانے میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر ایم کیو ایم اپوزیشن کے ساتھ چلی جائے تو اسکے حمایتی اراکین کی تعداد 175 ہوجائے گی اور عمران گھر چلے جائیں گے۔ حکومتی اتحادی ایم کیو ایم نے تاحال اپوزیشن کے ساتھ جانے یا حکومت میں ہی رہنے کا کوئی اعلان نہیں کیا لیکن اس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ ایم کیوایم اپوزیشن کے ساتھ چلی جائے۔ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما وسیم اختر نے بتایا کہ 28 مارچ کو حکومتی وفد کے ساتھ ملاقات میں بھی ہم نے اپنے مطالبات دہرائے اور پوچھا کہ کیا ان کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی یقین دہانی موجود ہے، تاہم حکومتی وفد نے کہا کہ ہمیں 24گھنٹے دیں، ہم دوبارہ آپ سے ملیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم نے سندھ کی گورنر شپ کے علاوہ پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت بھی مانگ لی ہے اور کراچی میں اپنے بند دفاتر کھلوانے کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔ وفاقی حکومت کے لیے ان مطالبات کو تسلیم کرنا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں۔ تاہم بند دفاتر کھلوانے کا مطالبہ ایسا ہے جس حکومت تسلیم کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہے کیونکہ اس کا تعلق فوج سے ہے۔ ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ کرنے میں زیادہ فائدہ ہے کیونکہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی ہمارے مطالبات تسلیم کروانے کے حوالے سے زیادہ موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو پہلے ہی ایم کیو ایم قیادت سے ملاقاتوں میں تمام مطالبات منظور کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور اب صرف ایک تحریری معاہدے کا انتظار ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن قیادت تحریک عدم اعتماد کی کامیابی بارے اس لیے پر امید ہے کہ اس کے پاس پی ٹی آئی کے تقریبا دو درجن منحرف اراکین قومی اسمبلی کی حمایت بھی موجود ہے۔ واضح رہے کہ حکومتی جماعت پارٹی پالیسی کے خلاف جانے کا اعلان کرنے پر 13 ارکان قومی اسمبلی کو شوکاز نوٹسز جاری کر چکی ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے منحرف اراکین کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کے بعد اٹارنی جنرل عدالت میں واضح طور پر بیان دے چکے ہیں کہ منحرف اراکین کا ووٹ ڈالا بھی جائے گا اور شمار بھی کیا جائے گا جس کے بعد ان کی نااہلی کا عمل شروع ہوگا۔ لہذا اپوزیشن قیادت کو یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اس کی دائر کردہ عدم اعتماد کی تحریک تقریبا 200 ووٹوں سے کامیاب ہو جائے گی۔

Back to top button