اپوزیشن کو استعفوں سے حکومت گرانے کا اتنا یقین کیوں ہے؟


اپوزیشن اتحاد کے منتخب اراکین کی جانب سے استعفے پارٹی سربراہان کے پاس جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اپوزیشن کے استعفوں سے کیا حکومت کو کوئی فرق پڑے گا اور اسکا خاتمہ ممکن ہو گا۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اپوزیشن حلقے کہتے ہیں کہ استعفوں سے حکومت کو سو فیصد فرق پڑے گا اور یہ اس پر ایک کاری وار ثابت ہو گا جس کا نتیجہ اسکے خاتمے کی صورت میں نکلے گا۔ اپوزیشن حلقے یاد دلاتے ہیں کہ جب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کسی معاملے پر ناراض ہو کر اسمبلی اجلاس کا واک آوٹ کرتی ہے تو حکومتی وفد فوری طور پر انہیں منا کر واپس لے جاتا ہے۔ لہذا جہاں 160 اراکین اسمبلی استعفے دے کر پارلیماینٹ سے باہر جا رہے ہو وہاں حکومت کو فرق کیوں نہیں پڑے گا۔
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو 31 دسمبر تک استعفے متعلقہ پارٹی سربراہان تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔ حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے 9 دسمبر کو اس سلسلے میں اعلان کے بعد اپوزیشن اراکین کی جانب سے استعفے پارٹی سربراہان کے پاس جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا یے کہ پی ڈی ایم کے استعفوں سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد کی صورت میں قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلیوں میں موجود تقریباً پانچ سو اراکین کے استعفے آئندہ چند ہفتوں میں متعلقہ سپیکرز کے پاس جمع کروائے جائیں گے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں اراکین کے مستعفی ہونے کی صورت میں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں غیر فعال اور کیا وفاقی اور صوبائی حکومتیں قائم رہ پائیں گی؟ ماہرین کہتے ہیں کہ حزب اختلاف کے استعفوں کی صورت میں پارلیمنٹ مفلوج ہو جائے گی اور اتنی بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی کے مستعفی ہونے پر ضمنی الیکشن کروانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس صورت میں اگر معاملہ زیادہ لٹکا تو پھر اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک واضح موقف اختیار کرنا پڑے گا تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جاسکے۔
لیکن معروف آئینی ماہر اور پیپلز پارٹی کے ناراض رہنما بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں موجود حزب اختلاف کے تمام اراکین کے مستعفی ہو جانے کی صورت میں بھی وفاقی حکومت اور ایوان فعال رہے گا۔ زمان پارک لاہور میں عمران خان کے ہمسائے میں مقیم اعتزاز احسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ‘اگر عمران خان موجودہ اسمبلی میں 172 اراکین کی حمایت ثابت کرلیتے ہیں تو وہ وزیر اعظم ہیں۔ اتنے اراکین موجود ہوں تو ان کی حکومت برقرار رہے گی۔’ یاد رہے کہ آئین کے تحت وزیر اعظم کو اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے قومی اسمبلی میں سادہ یعنی 51 فیصد اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 342 ہے اور وزیر اعظم عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے صرف 172 اراکین کی حمایت درکار ہے جبکہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد تقریباً 180 ہے۔
اعتزاز کہتے ہیں کہ دوسری طرف پی ڈی ایم میں شامل حزب اختلاف کی 11 جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد بمشکل 160 بنتی ہے اور ان اراکین کے استعفوں کی صورت میں عمران خان حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا۔
سپریم کورٹ کے وکیل کامران مرتضیٰ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ آئین کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو استعفیٰ دینے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استعفوں کی صورت میں حکومت کے پاس ضمنی انتخابات کا آئینی آپشن موجود ہو گا، تاہم ان کے خیال میں: ‘جب اتنی بڑی تعداد میں اراکین قومی اسمبلی استعفے دیں گے تو وفاقی حکومت پر اس کا بہت بڑا اور برا سیاسی اثر ہو گا اور وفاقی حکومت کے لیے اس سیاسی دباؤ کو برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔’ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ کے استعفوں کے نتیجے میں خالی ہونے والی سیٹوں کے لیے ضمنی انتخابات کروانے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔
بقول اعتزاز احسن قومی اسمبلی کو چلانے کے لیے محض اتنے اراکین کی ضرورت ہے جو کورم قائم رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ‘قومی اسمبلی کا کورم قائم رکھنے کے لیے ایوان میں 84 اراکین چاہیے ہیں اور اتنے ایم این ایز کی موجودگی کی صورت میں ایوان کا کاروبار نہیں رکے گا جبکہ کورم کم بھی ہو اور کوئی رکن اس کی نشاندہی نہ کرے تو آئین کے تحت کارروائی چلائی جا سکتی ہے۔’ کامران مرتضیٰ نے بھی اس موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا: ‘اگر ایوان میں کُل رکنیت کا ایک چوتھائی حصہ موجود ہو تو کورم پورا سمجھا جاتا ہے اور اسمبلی کی کارروائی ہو سکتی ہے۔’ قومی اسمبلی کو غیر فعال بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے کم از کم 259 اراکین مستعفی ہو جائیں، جس کے باعث 83 ایم این ایز رہ جائیں گے جو کسی اجلاس کا کورم قائم رکھنے کے لیے ناکافی ہیں۔ تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس 259 اراکین کی حمایت موجود نہیں ہے،  جن کے استعفوں کے ذریعے ایسی کوئی صورت حال پیدا کی جا سکے۔
سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبائی اسمبلیوں اور حکومتوں کا معاملہ بھی وفاق ہی کی طرح ہے۔ کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے ایوان کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے جو پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ کو حاصل ہے۔ صوبائی اسمبلیوں میں بھی کورم قائم رکھنے کے لیے کل رکنیت کے ایک چوتھائی اراکین کی موجودگی درکار ہوتی ہے اور سندھ کے علاوہ باقی تینوں وفاقی اکائیوں کی کسی اسمبلی میں حزب اختلاف کے پاس ایم پی ایز کی اتنی تعداد نہیں کہ استعفوں کی صورت میں کورم کا مسئلہ کھڑا ہو سکے۔
تاہم سندھ میں دوسرے صوبوں سے مختلف اور دلچسپ صورت حال دیکھنے کو ملے گی، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جو وفاق میں حزب اختلاف اور پی ڈی ایم کا حصہ ہے۔ پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق اسمبلیوں سے استعفوں کی صورت میں سندھ میں حزب اختلاف کی بجائے حکومتی یعنی پیپلز پارٹی کے اراکین سپیکر کو استعفے دیں گے اور اسمبلی میں صرف اپوزیشن اراکین رہ جائیں گے، جن کا تعلق وفاق کی سطح پر حکومتی جماعتوں سے ہوگا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ڈی ایم نے اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے استعفے سپیکرز کے پاس جمع کرانے سے متعلق زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے 9 دسمبر کو پی ڈی ایم کے مرکزی قائدین کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ 31 دسمبر تک اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اپنے اپنے استعفی پارٹی رہنماؤں کے پاس جمع کروا دیں، تاہم انہوں نےیہ  نہیں بتایا کہ یہ استعفے اسمبلی سپیکرز کے حوالے کب کیے جائیں گے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کے استعفوں سے متعلق فیصلے کا ایک مقصد آئندہ سال مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے سینیٹ کے انتخابات ہوئے تو وہ ‘جعلی الیکشن’ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں سے سینیٹ کے انتخابات کو روکنے کے لیے الیکٹورل کالج کو توڑنا ہوگا اور سینیٹ کے الیکٹورل کالج کو توڑنا وہ ‘جمہوری اور آئینی عمل کا حصہ’ تسلیم کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰں نے مزید کہا: ‘سینیٹ کا الیکٹورل کالج توڑنے کے لیے سکیم بنائی جا رہی ہے اور آئینی ماہرین سے بھی اس پر مشاورت کریں گے۔’
یاد رہے کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اراکین کے  انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج قومی اور چار صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے یعنی ایم این ایز اور چاروں صوبوں کے ایم پی ایز سینیٹرز کا انتخاب کرتے ہیں اور اپوزیشن نہیں چاہتی کہ اگلے الیکشن موجودہ اسمبلیوں کے ذریعے ہو اور تحریک انصاف اکثریت حاصل کر لے۔ لہذا اپوزیشن اتحاد کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات سے پہلے ہی کپتان حکومت کو گھر بھیج دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button