اپوزیشن کی جانب سے فوجی قیادت کی وارننگ نظر انداز؟

20 ستمبر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس نے پاکستانی فوجی قیادت کی وارننگ کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا بلکہ اسے ملکی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کر دے۔
اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد سے چند روز قبل 16 ستمبر کو اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر مبنی فوجی قیادت نے اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی لیڈرشپ سے ملاقات کی اور انہیں دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سیاست آپ کا کام ہے لہٰذا آپ سیاست کریں لیکن فوج کو سیاست میں گھسیٹنے سے باز رہیں۔ فوجی قیادت نے اپوزیشن رہنماؤں سے یہ بھی کہا کہ فوج ہر حکومت کے ساتھ چلتی ہے کیونکہ یہ اسکا فرض ہے۔ آج اگر عمران خان وزیراعظم ہیں تو ہمیں ان کا ہر حکم بجا لانا ہے اور کل اگر آپ میں سے کسی کی پارٹی کی حکومت ہوگی تو ہم اس کا ساتھ دیں گے۔
تاہم اس ملاقات کے چند روز بعد ہی 20 ستمبر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں ہونے والی تقاریراوراسکے مشترکہ اعلامیے نے ثابت کیا کہ اپوزیشن کی قیادت نے فوجی قیادت کے مشورے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے نہ صرف پاکستانی سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر کھلی تنقید کی بلکہ یہ الزام بھی دہرایا کہ 2018 کے الیکشن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کھلی دھاندلی کی تاکہ عمران خان کو وزیراعظم بنوایا جا سکے۔ ویسے بھی یہ حقیقت پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک کے وجود میں آنے کے بعد سے 73 سالوں میں میں پاکستانی سیاست میں فوج کا کیا کردار رہا ہے۔ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قیام پاکستان سے اب تک ملک کی تگڑی ترین سیاسی جماعت پاکستان آرمی ہی رہی یے جس نے جب چاہا اپنی مرضی سے اقتدار پر قبضہ کیا اور جب چاہا منتخب وزیراعظم کو نکال باہر کیا۔ اسی لئے پاکستان کی 73 سالہ یاسی تاریخ میں ایک منتخب وزیراعظم کے اقتدار کا اوسط دورانیہ 5 برس کے بجائے دو برس رہا جبکہ آرمی چیف کے اقتدار کا اوسط دورانیہ 9 برس رہا۔
اب اگر پاکستانی سیاست میں فوج کی ایسی تاریخ ہو گی تو پھر آرمی چیف کی جانب سے یہ کہنا بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے کہ افواج پاکستان کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے اور ان کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر افواج پاکستان کا کوئی سیاسی کردار نہیں تو پھر فوجی قیادت نے کس قانون کے تحت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کو میٹنگ کے لئے بلایا جبکہ یہ کام ملک کے منتخب وزیراعظم کا ہوتا ہے۔ ویسے بھی نہ صرف بانی پاکستان محمد علی جناح نے فوج کو سیاست میں ملوث ہونے سے منع کیا تھا بلکہ پاکستانی آئین بھی انہیں اس کام کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن جو لوگ آیئن پامال کرنے کے جرم میں عدالت سے سزا پانے کے باوجود قانون کی گرفت میں نہیں آتے وہ بھلا آئین کی پاسداری کیوں کریں گے؟
یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی میں ‘پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ اجلاس نے اپنی قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کرے۔ 16ستمبر کو ہونے والی اس ملاقات میں اپوزیشن کے تقریباً 15 رہنماؤں نے شرکت کی جن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اسد محمود، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمٰن اور کچھ حکومتی وزرا نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے کچھ رہنماؤں کے مطابق اجلاس کے طے شدہ اصولوں کے مطابق اسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کرنا تھا۔ تاہم یہ خبر بھی عسکری ذرائع سے ہی لیک ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے کے لیے تھی مگر یہ میٹنگ اس وقت مختلف شکل اختیار کر گئی جب اس میں گلگت بلتستان انتخابات، قومی احتساب بیورو سمیت دیگر سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ تاہم اپوزیشن نے اس موقع کو دیگر معاملات پر اپنے تحفظات پیش کرنے کے لیے استعمال کیا بالخصوص فوج کی سیاست میں مبینہ مداخلت اور احتساب کے بہانے اس کے رہنماؤں پر ظلم و ستم کے الزامات وغیرہ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس ملاقات کے وقت اور اسے منظر عام پر لانے کو اپوزیشن کی ملٹی پارٹیز کانفرنس سے منسلک کیا ہے جس میں نواز شریف نے فوج پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ ‘یہ ریاست کے اندر ریاست نہیں رہی بلکہ ریاست سے بالا ریاست بن گئی ہے’۔
حزبِ مخالف کی جماعتوں کی کانفرنس میں تحریک انصاف کو برسرِ اقتدار لانے میں فوجی اسٹیبلیشمنٹ کے مبینہ کردار پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بغیر لگی لپٹی رکھے کُھل کر اور واضح الفاظ میں بات کی گئی تھی۔ اس کے اگلے ہی روز مقامی ذرائع ابلاغ پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پارلیمانی لیڈروں سے ملاقات کی خبریں نشر ہو گیئں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس ملاقات کے دوران فوج کی جانب سے سیاسی رہنماؤں کو یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ’فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ان خبروں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں کی فوجی نمائندوں سے یہ ملاقات گذشتہ ہفتے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قانون پاس ہونے کے بعد منعقد ہونے والے عشائیے پر ہوئی تھی۔‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملاقات کی یہ خبر سامنے لا کر چند حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کے سخت اعلامیے کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں اور عسکری قیادت ایک پیچ پر ہے۔
صحافی و تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے دوران سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور جمعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر واضح انداز میں بات کی جس سے عام لوگوں میں اسٹیبلیشمنٹ کے کردار سے متعلق شکوک وشہبات جنم لے رہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ حالیہ قوانین پاس ہونے سے متعلق ملٹری اسٹیبلیشمنٹ کو کس حد تک یقین تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس ہو جائے گا تو اُن کا کہنا تھا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے تمام معاملات کو دیکھ لیا تھا اور اُنھیں اس بل کے پاس ہونے کا یقین تھا، تبھی تو آرمی چیف نے پارلیمانی رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا تھا۔ گیارہ سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کے بارے میں عارف نظامی کا کہنا تھا کہ اس اعلامیے میں جتنے بڑے دعوے کیے ہیں تو اب اُن دعوؤں کی پاسداری کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کو کچھ کر کے دکھانا ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ جس طرح نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بولے ہیں اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے، جو کہ اس آل پارٹیز کانفرس کی میزبان تھی، کُھل کر بات نہیں کی۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت تو ایک طرف اسٹیبلیشمنٹ کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ حزب مخالف کی جماعتیں کبھی اکھٹی نہ ہوں کیونکہ اسٹیبلیشمنٹ ہمیشہ سے ’ڈیوائڈ اینڈ رول‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ استعفوں کے آپشن کو اعلامیے میں شامل کر کے پاکستان مسلم لیگ نواز اور جمعیت علمائے اسلام نے سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو راضی کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔ عارف نظامی کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے اعلامیے میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے اگر حزب مخالف کی جماعتیں ان میں سے 50 فیصد باتوں پر ہی عمل کر لیں تو وہ وزیر اعظم کو اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں، اور ایسا ہونے کی صورت میں ریاستی ادارے بھی وزیر اعظم پر دباؤ بڑھائیں گے۔
دوسری طرف اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے باہمی مشاورت سے کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ اپنی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں سے بھی مذاکرات کرکے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں اسمبلیوں سے استعفے دینے پر متفق تھیں تاہم پی پی پی کو بھی راضی کر لیا گیا۔ ذرائع کامکہنا یے کہ شاید پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ذہن میں یہ ہوگا کہ اگر اُنھوں نے سندھ حکومت چھوڑ دی اور انتخابات ہو بھی گئے تو وہ شاید صوبہ سندھ سے باہر نہ نکل سکیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اسمبلیوں سے استعفے ایک آخری آپشن کے طور پر استعمال کیے جائیں گے لیکن اس سے پہلے تمام جماعتیں ملک کے تمام بڑے شہروں میں جلسے کریں گی جس میں حزب مخالف کی جماعتوں کی قیادت شرکت کرے گی۔
مقامی صحافی شاکر سولنگی جنہوں نے اے پی سی کو تمام دن کور کیا، کا کہنا تھا کہ جس طرح سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے بارے میں بات کی اور جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حزب مخالف کی جماعتیں اس مرتبہ کچھ کرنے کا عز م لیے ہوئے ہیں۔ شاکر سولنگی کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بارے میں بلاول بھٹو زرداری تیار نہیں تھے اور اُنھوں نے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ ان کی جماعت یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی نہیں ہوں گے تاہم جے یو آئی کے سربراہ کے اصرار پر وہ اس نقطے پر بھی راضی ہوگئے اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے کو آخری آپشن کے طور پر استعمال کرنے کا برملا اظہار کیا۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کی جانب سے فوجی قیادت کو سیاست میں نہ گھسیٹنے کے مشورے کو نظرانداز کرنے پر اب اسٹیبلشمنٹ کیا سٹریٹیجی تیار کرتی ہے۔ اگر اس حوالے سے پاکستانی عوام سے پوچھا جائے تو فوجی قیادت کو یہی مشورہ ملے گا کہ بہترین سٹریٹجی فوج کو سیاست سے ہمیشہ کے لئے دور کر دینا ہو گی جس میں سب کا بھلا ہے۔
