اگر جسٹس فائز جانبدار ہیں تو کیا چیف جسٹس گلزار غیر جانبدار ہیں؟

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف کیس سننے پر پابندی لگانے کے فیصلے نے چیف جسٹس کی اپنی جانبداری پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ان پر حکومت کی بے جا سائیڈ لینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے کیس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فریق نے نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے خود شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنتے ہوئے کسی ساتھی جج کی جانبداری پر سوال اٹھایا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ جسٹس فائز عیسی سے اس بارے میں کوئی وضاحت آنے سے پہلے ہی چیف جسٹس گلزار نے نہ صرف انہیں وزیر اعظم کے خلاف مقدمات کی سماعت سے روک دیا گیا بلکہ عدالتی روسٹر میں ترمیم کرتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئندہ ہفتے کسی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے اور صرف چیمبر کا کام دیکھیں گے۔ لیکن ایسا کرنے پر چیف جسٹس گلزار احمد کو اب سوشل میڈیا پر حکومت کی سائڈ لینے اور جانبداری برتنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار اللہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی محروم رعایا کے لیے جیسی کیسی بھی سہی ایک عدلیہ ہی امید کا آخری سہارا ہے۔ اگر اس کو بھی رفتہ رفتہ مسمار ہونا ہے تو پھر یہ رعایا اور کہاں دیکھے، کیا کرے ، کہاں جائے؟
وہ کہتے ہیں کہ جب عدلیہ کا وقار باہر سے بھی حملوں اور مداخلت کی زد میں ہو، جب جج حضرات ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور عسکری مداخلت کا کھلے عام یا ڈرائنگ روم میں مرثیہ کہیں اور پھر اس طرح کے واقعات سے بھی عدلیہ کا وقار داؤ پر لگنے لگے تو دل کا بیٹھنا تو بنتا ہے۔ وسعت کہتے ہیں کہ پچھلے سات عشروں میں نظریہ ضرورت سے لے کر جسمانی حملوں تک عدلیہ پر ایسے ایسے وار ہو چکے ہیں کہ اب عدلیہ کو چھینک بھی آئے تو بائیس کروڑ سائلوں کا پتہ پانی ہونے لگتا ہے۔ عدلیہ پر جب بھی کسی فوجی آمر یا سویلین تانا شاہ کی جانب سے حملہ ہوا تو ہر بار زخمی ہونے کے باوجود وہ اٹھ کھڑی ہوئی مگر قلعے کا دروازہ اگر اندر سے کھل جائے تو محاصرہ کرنے والوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔
وسعت اللہ کے مطابق عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے پچھلا ہفتہ کچھ اچھا نہیں گزرا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکلا نے تجاوز زدہ چیمبرز ڈھانے پر ضلعی انتظامیہ کے بجائے اپنے ہی چیف جسٹس کا گھیراؤ کر لیا، بدتمیزی کی اور توڑ پھوڑ مچائی۔ اگرچہ دو درجن وکلا کے خلاف مجرمانہ کیس درج ہو گئے۔ مگر ان پرچوں سے ماتھے کا دھبہ تو مٹنے سے رہا۔ شاید تاریخ میں پہلی بار کسی اعلیٰ عدالت کے محاصرہ گزیدہ سربراہ کو وکلا گردی پر اپنے صدمے کا اظہار ایک خط کی شکل میں کرنا پڑ گیا۔ پر یہ سانحہ تو ہونا تھا کیونکہ وکلا نے اپنی مرضی کے خلاف جانے والے زیریں عدالتوں کے متعدد ججوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ شرمناک یے۔ ایک واقعے میں تو جج صاحب کے کپڑے اتارنے کی کوشش بھی کی گئی، اسکے علاوہ بھی کئی بار ججوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن مجال ہے کہ اس عرصے میں کسی مجرم کو کسی اعلی عدالت نے ازحود نوٹس لے کر قرار واقعی سزا دی ہو۔ چنانچہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گذشتہ ہفتے جو کچھ ہوا وہ عدلیہ کی جانب سے اپنی ہی برادری کے ایک اہم جزو کی لاقانونیت سے اغماض برتنے کا منطقی نتیجہ تھا۔ کون جانے کہ اگلی واردات کب کس کے ساتھ ہو جائے۔
اس واقعے کے بعد خبر آئی کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی جانب سے ان کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے خود کو اچانک اس مقدمے کی سماعت سے عین اس وقت علیحدہ کر لیا جب وہ فیصلہ لکھنے کے مرحلے میں تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرا یہ اقدام بدقسمتی ہے مگر خود کو مقدمے کی سماعت سے علیحدہ کرنے کے فیصلے کی وجوہات میں کھلے عام نہیں بتانا چاہتا۔‘ اب یہ کیس نیا بنچ سنے گا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ ان پر مرضی کا فیصلہ لکھوانے کے لیے خفیہ قوتوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جارہا تھا۔
پھر یہ خبر آئی کہ سینیٹ کے انتخابات سے پہلے خطیر ترقیاتی فنڈز ارکانِ پارلیمان کو دینے کے وزیرِ اعظم کے مبینہ فیصلے کے ازخود نوٹس کی سماعت سے سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی کو چیف جسٹس گلزار احمد نے اس بنا پر روک دیا ہے کہ جسٹس قاضی خود ایک مقدمے میں وزیرِ اعظم کے مقابل فریق ہیں۔ لہذا وزیرِ اعظم کے کسی اقدام کے خلاف شنوائی میں ان کا بیٹھنا مناسب نہ ہوگا۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ’جسٹس فائز عیسیٰ انصاف کے تقاضوں اور غیرجانبداری کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات نہ سنیں۔‘
مگر واقعہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اس فیصلے کے بعد رجسٹرار کے نام خط میں سوال اٹھایا کہ انھیں سماعت سے روکنے کے حکم کی نقل ان تک پہنچنے سے پہلے میڈیا کے ہاتھ کیسے لگ گئی؟ جسٹس فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط میں چیف جسٹس کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کیس کے فیصلے سے متعلق متعدد سوالات اٹھا دیے۔ خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس کا حکم نامہ مجھے کیوں نہیں بھیجا گیا؟ کیوں اس فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا موقع فراہم نہیں کیا گیا؟ جسٹس فائز عیسیٰ نے مؤقف اپنایا ہے کہ 11 فروری کی سماعت کا فیصلہ مجھے بھیجنے سے پہلے میڈیا کو کیسے جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ میں حیران ہوں ابھی تک مجھے آرڈر کی فائل موصول کیوں نہیں ہوئی۔‘ جسٹس فائز عیسیٰ نے خط میں کہا کہ ’طے شدہ اصول ہے کہ بینچ سربراہ نے فیصلہ لکھنے کے بعد دیگر ججز کو کاپی بھیجنا ہوتی ہے، بینچ کے جونیئر ممبر جسٹس اعجاز الاحسن کو کاپی فراہم کی گئی مگر مجھے نہیں۔ خط کے متن کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سے سوال پوچھا کہ ’برائے مہربانی بتایا جائے مجھے حکم نامہ کیوں نہیں بھیجا گیا؟ کیوں دیگر ججز کو فیصلے کی کاپی بھیجنے کے اصول پر عمل نہیں کیا گیا؟جسٹس عیسیٰ نے یہ بھی پوچھا کہ ’فیصلہ میڈیا کو جاری کرنے کا آرڈر کس نے دیا؟ معزز جج نے رجسٹرار آفس کو مقدمے کی فائل فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ دوسری جانب چیف جسٹس نے فائز عیسی کے اس خط کے بعد عدالتی روسٹر میں ترمیم کر دی ہے اور جسٹس عیسیٰ آئندہ ہفتے کسی بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے، وہ صرف چیمبر کا کام دیکھیں گے۔
اس معاملے میں وسعت اللہ خاں یاد دلواتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں سپریم کورٹ کے ایک چار رکنی بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ اگر مقدمے کے کسی فریق کو کسی جج کی غیر جانبداری پر شک ہو تو یہ فیصلہ صرف وہی جج کر سکتا ہے کہ اسے انصاف کے تقاضے کے پیشِ نظر بنچ سے الگ ہو جانا چاہیے یا سماعت جاری رکھنی چاہیے۔ اسی طرح کا اعتراض جب ارسلان افتخار کے کیس میں مدعی کی جانب سے اٹھایا گیا تو چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے بیٹے کے مقدمے کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ مگر جسٹس قاضی فائز عیسی کے کیس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فریق نے نہیں بلکہ چیف جسٹس نے فائز عیسی کی مبینہ جانبداری پر سوال اٹھایا اور جسٹس عیسی کی جانب سے اس بارے میں کوئی وضاحت آنے سے پہلے ہی انھیں مقدمے کی سماعت سے روک دیا گیا۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے خود اپنی غیر جانبداری پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
