اگر میں ملک میں رہتا تو محب وطن شہری شہید ہوتے

افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ میرے لیے ملک چھوڑنا ضروری تھا اگر میں ملک میں رہتا تو محب وطن شہریوں کا خون بہتا جو میں نے چاہتا تھا۔
ملک چھوڑنے کے بعد اشرف غنی نے سوشل میڈیا پر بیان دیا ہے کہ انہوں نے خونی سیلاب روکنے کے لیے افغانستان چھوڑا ہے اگر میں ملک میں رہتا توکابل تباہ ہو جاتا۔ جس کی وجہ سے بڑی انسانی تباہی ہوتی۔
اشرف غنی نے کہا کہ میں نے افغانستان کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے 20 سال وقف کیے ہیں اپنے پیارے ملک کو چھوڑنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ طالبان نے بندوق اور تلوار سے جنگ جیتی ہے تاہم اب طالبان عوام کی جان ومال کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔
دوسری جانب گزشتہ روز برطانوی میڈیا کے مطابق عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے والے افغان صدر اشرف غنی افغانستان چھوڑ چکے ہیں اور وہ تاجکستان پہنچ گئے ہیں۔
تاجک میڈیا نے بھی اشرف غنی کی آمد کی تصدیق کردی تھی۔ تاجک میڈیا کے مطابق اشرف غنی کے ساتھ حمداللہ محب اور صدارتی آفس کے ڈی جی بھی تاجکستان پہنچے ہیں۔
افغان حکومت کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے بھی اشرف غنی کےافغانستان چھوڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے عوام پرسکون رہیں۔
