اگر کرونا صرف پاکستان میں پھیلتا تو ہم کیا سوچتے؟

اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک کو کرونا وائرس کی وباء کا سامنا ہے جس کے باعث کئی ہزار اموات ہو چکی ہیں اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں. دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ بالواسطہ طور پر اس وائرس کے پھیلنے کے سبب متاثر ہو رہآ ہے اور دنیا کا نظام تہس نہس ہوکر رہ گیا ہے۔
سیاسی وتجارتی تعلقات اور ہر قسم کے روابط محدود ہو کر رہ چکے ہیں، ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دینے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان حالات میں پوری انسانیت خطر ناک دور سے گزر رہی ہے، گزشتہ کئی صدیوں میں دنیا کو اس طرح کے بحران کا سامنا نہیں ہوا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر لیکن موجودہ صورت حال جنگی تباہ کاری سے کئی گنا زیادہ سنگینی اختیار کر چکی ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے کرونا کے پھیلاؤ اور اس کو روکنے میں بڑی بڑی طاقتوں کی بے بسی اور کمزوری ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے- اس وقت امریکہ جیسی سپر پاور کے حالات ہم سب کے رونگھٹے کھڑے کرنے کےلیے کافی ہیں جہاں ہر ایک منٹ میں ایک سے زیادہ افراد موت کے منہ میں جارہے ہیں اور جہاں قبرستانوں میں جگہ کم پڑنے کے سبب اجتماعی قبریں بنائی جا رہی ہیں۔
برطانیہ جیسے ملک کا وزیر اعظم بورس جانسن بھی اس کا شکار ہو چکا ہے اور وہاں ہزاروں مریض وینٹی لیٹرز پر اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔ دکانوں سے راشن ختم ہو چکا ہے میڈیکل اسٹورز میں دوائیں موجود نہیں ہے۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کی شدت کے سامنے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کی بے بسی دیکھ کر ہم پاکستانیوں کو جو سبق ملے ہیں وہ اگر کوئی سو سال تک بھی ہمیں بتاتا رہتا تو ہمیں سمجھ نہیں آسکتا تھا-
بالفرض اگر یہ وبا ء صرف پاکستان میں پھیلتی تو دنیا کے تمام بڑے ممالک ہمیں اچھوت بنا ڈالتے۔ ہم پر تجارتی پابندیاں عائد کر دیتے، پاکستانیوں کو اپنے ملک سے باہر نکال پھینکتے۔ علاج کے نام پر ہماری امداد بھیک کے انداز میں کرتے اور اس تمام بیماری کی ذمہ داری ہماری کمزور معاشی حالت اور صفائی کی بدتر صورت حال کو قرار دے دیتے۔
اقوام متحدہ میں ہمارے ملک کو تنہا کرنے کی قراردادیں پاس ہوتیں اور ہمارے پڑوسی ملک بھی ہم سے تجارت کرنے کے بجائے اپنی سرحدیں بند کر ڈالتے۔
خدانخواستہ ہماری عوام جب بھوک اور بیماری سے تڑپتی تو وہ اس کی ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے کہ ہماری حکومت نا اہل ہے۔ وہ کہتے کیونکہ ہم تیسری دنیا کے ملک کے رہائشی ہیں اسی وجہ سے ہماری حکومت ہونا کا پھیلاو روکنے میں ناکام رہی اور اسی وجہ سے لوگ اس طرح مر رہے ہیں، راشن کی کمی پر ہم کہتے کہ ہماری حکومت نے راشن چھپا رکھا ہے وینٹی لیٹرز کی کمی کو ہم رشوت ستانی قرار دیتے۔
آج ہم امریکہ اور دنیا کے دوسرے ممالک سے بہت بہتر حالت میں ہیں ہمارے اسٹورز میں غذائی اجناس کی کمی نہیں ہے اور اس کے باوجود مخیر حضرات ہاتھوں میں راشن لیے گھوم رہے ہیں کہ کہیں کوئی بھوکا نہ رہ جائے۔ فلاحی تنظیمیں ٹرک بھر بھر کے مختلف علاقوں میں راشن پہنچارہی ہیں، لوگ خود سے زیادہ دوسروں کےلیے پریشان ہیں۔ یہی وہ خصوصیات ہیں جو پاکستانی قوم کو دوسرون سے ممتاز کرتی ہیں۔
