اگلے متوقع چیف جسٹس اعجاز الاحسن نے استعفی کیوں دیا؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کے اگلے چیف جسٹس اعجاز الاحسن کا اچانک استعفیٰ دینا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ کوئی بھی جج کبھی بھی چیف جسٹس بننے سے دس ماہ پہلے مستعفی نہیں ہوتا۔
مبصرین کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نوازشریف کو سزا دلوانے کے مرکزی کردار تھے،ان پر الزام ہے کہ انھوں نے متنازع فیصلے کیے اور مالی مفاد حاصل کیے ان کے خلاف وکلاء درخواستیں دائر کر رہے ہیں،وہ پاناما میں مانیٹرنگ جج تھے ممکن ہے وہ اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ ان کے خلاف بھی ریفرنس آسکتا ہے اس لیے انہوں نے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا،2016-17 میں جب پاناما کی نااہلی کا سلسلہ شروع ہوا تو ان سب بینچز میں جسٹس اعجاز الاحسن کا اہم کردار تھا۔
دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ کیا جسٹس اعجاز الاحسن نے جمعرات کو اس خوف سے استعفیٰ دیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان کیخلاف مبینہ طور پر گرینڈ حیات ہوٹل کیس میں کارروائی کر سکتی ہے؟ دو مختلف ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گرینڈ حیات ہوٹل کیس میں متنازع کردار کی وجہ سے انہوں نے غیر متوقع طور پر استعفیٰ دیا۔
انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس اعجاز کیخلاف بھی کارروائی کرنے جا رہی تھی لیکن متعلقہ حلقوں سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو پائی۔ دوسرے ذریعے نے جسٹس اعجاز کے استعفے کی یہی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں جسٹس اعجاز کے کردار کے حوالے سے متعلقہ مواد مختلف اداروں سے چند ماہ قبل جمع کر لیا گیا تھا۔ اب کارروائی ہونے جا رہی تھی کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کارروائی کے آغاز سے پہلے ہے استعفی دے دیا۔
خیال رہے کہ گرینڈ حیات ہوٹل کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جنوری 2019ء میں گرینڈ حیات ہوٹل کی لیز بحال کی تھی۔ یہ لیز سی ڈی اے نے بائی لاز کی خلاف ورزیوں پر منسوخ کر دی تھی۔ اس تین رکنی بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل تھے جو جج بننے سے قبل میسرز بی این پی کی وکالت کرتے تھے۔
اس کمپنی کو ساڑھے 13؍ ایکڑ زمین ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں گرینڈ حیات ہوٹل کی تعمیر کیلئے الاٹ کی گئی تھی۔ لیکن کمپنی نے ہوٹل کی بجائے 40؍ منزلہ پرتعیش اپارٹمنٹ کمپلیکس تعمیر کیا اور ہرے بھرے علاقے کو رہائشی اور تجارتی علاقے میں تبدیل کر دیا۔ یہ اپارٹمنٹس با اثر یعنی ہائی پروفائل شخصیات کو فروخت کیے گئے۔
سپریم کورٹ بینچ نے جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ سے ایک ہفتہ قبل مختصر آرڈر جاری کرتے ہوئے لیز بحال کی تھی۔ میسرز بی این پی پر کوئی طریقہ وضع کیے بغیر ساڑھے 17؍ ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ اس پر سی ڈی اے کے وکیل نے بینچ میں جسٹس اعجاز کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا تھا اور میسرز بی این پی کے وکیل کی حیثیت سے ان کے کمپنی کے ساتھ سابق تعلق کی نشاندہی بھی کی تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بینچ کے سربراہ کی حیثیت سے اس اعتراض کو مسترد کر دیا اور کہا کہ جسٹس اعجاز کے میسرز بی این پی کے ساتھ پرانے تعلق کا اس کیس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اس وقت دی نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، میسرز بی این پی کا قیام 2005ء میں گرینڈ حیات ہوٹل کی تعمیر کیلئے زمین کی نیلامی سے بہت کم وقت قبل ہی عمل میں آیا تھا۔ قبل ازیں، اس کمپنی کے تین پارٹنرز تھے جن میں جھگڑا ہو گیا تھا اور اس کے بعد یہ کمپنی ایک ہی مالک کی ملکیت میں آ گئی۔ مبینہ طور پر کمپنی نے ایک ارب روپے کی ادائیگی کی تھی وہ بھی 2012ء میں کی گئی تھی۔ اس ادائیگی کو کئی مرتبہ ری شیڈول کیا گیا اور اس کے بعد 2016ء میں لیز منسوخ کر دی گئی۔ سی ڈی اے نہیں چاہتا تھا کہ پلاٹ کی لیز بحال ہو لیکن سی ڈی اے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ کیا سی ڈی اے 13؍ سال سے سو رہا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی لیز کی منسوخی کو برقرار رکھا تھا اور ایف آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ زمین لیز پر دینے اور قواعد میں نرمی کرنے اور بولی کے بعد کی تبدیلیوں میں کمپنی کو حق دینے کے ذمہ دار اہلکاروں کیخلاف کارروائی کرے۔ میسرز بی این پی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم ہونے والے بینچ میں چیلنج کیا تھا۔ اس بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل تھے۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کے مطابق دو ججوں کے استعفے کے بعد ملک میں جیوڈیشل ایمرجنسی کی صورتحال نظر آرہی ہے، عدلیہ میں پچھلے دو سال سے پولرائزیشن نظر آرہی تھی جس کے اثرات آنا شروع ہوگئے ہیں، جسٹس مظاہر علی نقوی پر استعفے کیلئے دباؤ نظر آرہا تھا، جسٹس اعجاز الاحسن کے اچانک استعفے سے نظر آرہا ہے کہ کچھ چیزیں صحیح نہیں ہیں، سپریم کورٹ کے دو ججوں کے استعفوں کے محرکات عوام کیلئے جاننا بہت ضروری ہے، سپریم کورٹ خود کو پولرائزیشن سے نکالے اور سیاسی معاملات کیلئے آئینی عدالت بنائی جائے۔
