اگلے وفاقی بجٹ سے عوام کی کتنی چیخیں نکلنے والی ہیں

وفاقی حکومت آئندہ ماہ کے آغاز میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ پیش کرنے والی ہے اور ماہرین نئی حکومت کے پہلے بجٹ کو ملک معاشی حالات کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں جس سے مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر مزید ٹیکسز کا بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت کو کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ مکمل طور پر ختم کرنا ہوگی۔

بجٹ کی تیاری ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ایک اور پروگرام میں جانے کے لیے مذاکرات کررہی ہے۔کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں مزید پیش رفت کو قانون سازی اور پارلیمنٹ سے کئی اقدامات کی منظوری سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ان اقدامات میں توانائی، پینشن، سرکاری کاروباری اداروں میں اصلاحات کے نفاذ، بجلی گیس کے نرخ، پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس کے نفاذ اور ٹیکس سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔

حکومت کو آئی ایم ایف کے مطالبے پر پاکستان کے بجٹ خسارے اور آمدن بڑھانے کے لیے ٹیکس میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کرنا ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں کئی ٹیکسز میں اضافہ اور بعض نئے ٹیکس لگنے کا بھی امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق آٹو سیکٹر میں ایڈوانس ٹیکس کے نفاذ کی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت گاڑی کی مالیت پر 10 فی صد نیا ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔اسی طرح دو ہزار سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر پہلے سے موجود سالانہ ایڈوانس ٹیکس فائلرز کے لیے پانچ لاکھ روپے کیا جارہا ہے جب کہ نان فائلرز کے لیے یہ ٹیکس 24 فی صد مقرر کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے حکومتی ریونیو میں تو اضافہ ہوگا مگر اس سے ملک میں گاڑیوں کی فروخت مزید کم ہو جائے گی۔

اسی طرح کریڈٹ کارڈز پر بیرونی ادائیگیوں پر نان فائلرز کے لئے 20 فی صد ٹیکس عائد کیا جارہا ہے جو کہ اچھی تجویز ہے اور اس سے نان فائلرز کی بیرونی اخراجات کی حوصلہ شکنی ہو گی۔اسی طرح اگر آپ ملک سے باہر بزنس کلاس میں سفر کررہے ہوں گے تو آپ کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے بجائے اب فکس ٹیکس دینا ہوگا جو روٹس کی مناسبت سے طے کیا جائے گا۔اس پر کم سے کم ٹیکس 75 ہزار روپے سے ڈھائی لاکھ روپے تک رکھنے کی تجویز ہے۔

اسی طرح ایک تجویز کے مطابق بینکوں سے کیش نکالنے پر نان فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے اور اب اس کے لئے نئی شرح اعشاریہ نو فیصد مقرر کی جارہی ہے۔ جو پہلے اعشاریہ چھ فی صد تھی۔ اسی طرح وفاقی حکومت نے زرعی آمدنی، نان کارپوریٹ کاروبار، سروس پروائڈرز بلڈرز اور کنسٹرکشن فرمزپر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح ایک اور تجویز کے تحت بجلی کے دو لاکھ سے زائد والے بلز پر نان فائلرز صارفین کے لیے ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 20 فی صد تک کی جارہی ہے۔دوسری جانب حکومت نے بجلی اور گیس کے ایسے نان فائلرز صارفین پر بھی ٹیکس کی شرح 30 فی صد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کمرشل اور انڈسٹریل کنکشنز رکھتے ہیں۔

بجٹ کے لیے سیلز ٹیکس کے ساتھ ایکسٹرا سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔شادی ہالز کا بل دو لاکھ روپے سے زائد ہونے کی صورت میں 25 فی صد میرج ہالز ٹیکس بھی لینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی کے ساتھ اب حکومت نے ایک بارپھر 18 فی صد جنرل سیلز ٹیکس لاگو کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔حکومت نے اپنی آمدن بڑھانے کے لیے اس بار ادویات پر بھی 10 سے 18 فی صد جنرل سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

ادھر رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے حکومت کئی تجاویز پر سوچ بچار کررہی ہے۔ایک تجویز کے مطابق زرعی زمین اور پراپرٹی پر اعشاریہ پانچ فی صد ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور شہری علاقوں میں 450 گز سے زائد کی پراپرٹی فروخت کرنے پر نان فائلرز کو ساڑھے 10 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

Back to top button