ایئر مارشل ارشد ملک نے پی آئی اے کو کیسے تباہ کیا ہے؟

یہ بات شاید اب نئی نسل کو عجیب لگے کہ پچھلے کچھ برسوں سے تباہی کے دہانے پر کھڑی قومی ایئرلائن پی آئی اے نے نہ صرف دنیا کی کئی بڑی ایئرلائنز کی بنیاد رکھی بلکہ پاکستان میں پولٹری انڈسٹری بھی شروع کی۔ جی ہاں ساٹھ کی دہائی میں قومی ایئرلائن نے کینیڈا کی کمپنی شیور کے ساتھ مل کر پی آئی اے شیور پولٹری فارمز کی بنیاد رکھی۔ یہ پاکستان کا پہلا پولٹری فارم تھا جسے پی آئی اے نے اس لیے بنایا تاکہ اس کے جہازوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو کھانے میں ایک سائز کے چکن پیس اور معیاری انڈے مل سکیں جو مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھے۔ اس وقت پولٹری کو صحت بخش اور پکانے میں آسان سمجھا جاتا تھا۔
آج پی آئی اے کے حالات یہ ہیں کہ شدید مالی بحران کا شکار ادارے نے اپنے 13500 میں سے 5500 ملازمین کو رضا کارانہ ریٹائرمنٹ سکیم کے ذریعے قبل از وقت ملازمت چھوڑنے کا آپشن دے دیا ہے۔ اصل منصوبہ یہ ہے کہ پی آئی اے ملازمین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لائی جائے۔ اس لئے ان 5500 پی آئی اے ملازمین میں سے جو ریٹائرمنٹ نہیں لیں گے ان کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ پی آئی اے ایک قابل فخر اثاثے سے ایک سفید ہاتھی میں کیسے تبدیل ہوا۔ یہ ایک افسوسناک داستان ہے جسے بیان کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کی پرچم بردار ایئرلائن پی آئی اے یوں تو باضابطہ طور پر 1955 میں بطور کمرشل ایئرلائن وجود میں آئی مگر اس کی بنیاد بانی پاکستان محمد علی جناح نے 1946 میں ہی رکھ دی تھی جب انہوں نے ایک صنعت کار ایم اے اصفہانی کو ہدایت کی کہ وہ مستقبل کے پاکستان کے لیے ایک ایئرلائن بنائیں۔ چنانچہ کلکتہ میں اورینٹ ایئرویز قائم کی گئی تاکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کو فضائی راستے سے جوڑا جا سکے۔ گو کہ اس ایئرلائن نے بھی ابتدائی چند برسوں میں خاصی ترقی کی اور چند نئے جہاز بھی اپنے بیڑے میں شامل کیے مگر پی آئی اے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پرائیویٹ ایئرلائن ایک نئے ملک کی ضروریات کے لیے کافی نہ تھی۔ اس لیے جنوری 1955 میں حکومت پاکستان نے پی آئی اے کے نام سے اپنی قومی ایئرلائن کی تشکیل کا فیصلہ کیا جس کے بعد اورینٹ ایئرلائن اپنے اثاثوں اور ملازمین سمیت اس میں ضم ہو گئی۔ اور ایم اے اصفہانی پی آئی اے کے پہلے چیئرمین بن گئے۔
اسی سال پی آئی اے نے لندن کے لیے براستہ روم اور قاہرہ پراوزوں کا سلسلہ شروع کیا اور چند برسوں میں ہی پی آئی اے بین الاقوامی روٹس سے منافع کمانا شروع ہو گئی۔ لیکن پی آئی اے نے بطور کمپنی صحیح اُڑان اس وقت بھرنا شروع کی جب 1959 میں ایئر کموڈور نور خان کو اس کا مینجنگ ڈائریکٹر لگایا گیا۔ نور خان کی قیادت میں یہ ایئرلائن دنیا کی صف اول کی ہوائی جہاز کمپنوں میں شمار ہونا شروع ہو گئی۔ ان کا دور پی آئی اے کی تاریخ میں ’سنہرے دور‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اسی دوران پی آئی اے نے جہازوں کی مرمت کے لیے کراچی میں ہی انجینئرنگ سروس شروع کی جس سے خطے کی دوسری ایئرلائنز بھی مستفید ہوتی تھیں۔ آنے واکے وقتوں میں پی آئی اے نے کئی ایسے منفرد اعزازات اپنے نام کیے جو پاکستان جیسے نئے ملک کے لیے بڑے فخر کا باعث بنے۔
1960 میں پی آئی اے جیٹ طیارہ بوئنگ 707 آپریٹ کرنے والی براعظم ایشیا کی پہلی ایئرلائن بن گئی۔ پہلی جیٹ پرواز لندن، کراچی، ڈھاکہ کے درمیان تھی۔ اگلے سال پی آئی اے کی سروس نیویارک پہنچ گئی۔ چند برسوں میں پی آئی اے نے مشرقی پاکستان میں ہیلی کاپٹر سروس بھی شروع کر دی جو صوبے کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے ملاتی تھی۔ اس سروس سے پہلے سال میں ہی 70 ہزار مسافر مستفید ہوئے۔ 1962 میں پی آئی اے کے پائلٹ کیپٹن عبداللہ بیگ نے لندن سے کراچی جیٹ طیارہ چھ گھنٹے، 43 منٹ اور 51 سیکنڈ میں لا کر تیز رفتار پرواز کا ریکارڈ قائم کیا جو پاکستان کے لیے اپنی نوعیت کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ اسی طرح اپریل 1964 میں پی آئی اے نان کمیونسٹ دنیا کی پہلی ایئرلائن بن گئی جس کے طیارے نے چین میں لینڈ کیا۔
پی آئی اے نے فرانس کے مشہور ڈیزائنر پیئر کارداں سے اپنی ایئر ہوسٹسز کا یونیفارم ڈیزائن کروایا تو ایوی ایشن انڈسٹری میں دھوم مچ گئی اور پی آئی اے کے اس اقدام کو دنیا بھر میں سٹائل اور فیشن کے اہم قدم کے طور پر سراہا گیا۔ پی آئی اے نے اسی عرصے میں پاکستان کا پہلا پولٹری فارم قائم کیا جس میں کینیڈا کی پولٹری کمپنی شیور اس کی پارٹنر تھی۔ پی آئی اے اور شیور کے فارمز سے مرغیاں اور انڈے نہ صرف پی آئی اے کے جہازوں میں سپلائی ہوتے تھے بلکہ دوسری ایئرلائنز اور پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی فروخت ہوتے۔ یہ فارمز نوے کی دہائی میں بند ہوگئے۔
60 کی دہائی میں ہی پی آئی اے کے جہازوں کے نئے فلیٹ اور ماڈرن عملے نے دنیا بھر کی نئی ایئرلائنز کو اس جانب متوجہ کیا۔ سعودی عرب، سنگاپور، جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی جانب سے پی آئی اے کو تربیت یافتہ عملے یا جہازوں کی فراہمی کی درخواست کی گئی جس سے پاکستان کا امیج مزید بہتر ہوا۔
بھٹو دور کے دوران ستر کی دہائی میں پی آئی اے کے جہاز اور انجینئرنگ کی سہولیات یوگوسلاویہ، مالٹا، شمالی کوریا اور چین تک کو مہیا کی گئیں۔ 1976 میں پی آئی اے کی آمدنی 13 کروڑ ڈالر سے زائد تھی۔ اس زمانے میں پی آئی اے سو سے زیادہ روٹس پر پروازیں چلاتی تھی۔ عروج کے اسی دور میں پی آئی اے نے پاکستان اور بیرون ملک اثاثے بنائے جن میں نیویارک کے مشہور علاقے مین ہیٹن میں واقع روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا ہوٹل سکرائب بھی شامل ہیں۔
پی آئی اے کی کامیابیوں کے دنوں میں اس کا خطے میں کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔ خلیجی ممالک میں کوئی بڑی ایئرلائن نہ تھی۔ اس لیے خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقی روٹس پر اس کا ہی راج تھا جس کی وجہ سے اس کا بزنس بہت منافع بخش تھا۔ پی آئی اے کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر مشرف رسول کہتے ہیں کہ ماضی میں جب پی آئی اے منافع بخش ادارہ تھی تو مارکیٹ کھلی تھی اور صرف امیر کبیر لوگ ہی فضائی سفر کرتے تھے تو ایئرلائن اس وقت اور اس کلاس کی مناسبت سے کامیاب تھی مگر اب دور بدل چکا ہے ۔ اب ایئر لائن کو کمرشل بنیادوں پر انتہائی مقابلے کی فضا میں چلانا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق پی آئی اے ستر کی دہائی کے آخر تک بہتر کارکردگی دکھاتی رہی۔ مگر اسی کی دہائی میں جب مقابلہ بڑھ گیا اور خطے کی دیگر ایئر لائنز نے بہتر سروس کے ساتھ مارکیٹ کا شیئر حاصل کرنا شروع کیا تو پی آئی اے بدلتے حالات کا ادراک نہ کر سکی اور پیچھے رہ گئی۔ حتیٰ کہ 1985 میں جس ایمرٹس ایئر لائن کو لانچ کرنے کے لیے پی آئی اے نے جہاز اور عملہ فراہم کیا تھا آج وہ دنیا کی بہترین ایئر لائنوں میں شمار ہوتی ہے جبکہ پی آئی اے اس وقت 480 ارب روپے کے قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہر سال خسارے میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس سال مارچ میں موجودہ سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک کی برطرفی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ گزشتہ نو سالوں میں پی آئی اے کے بارہ سی ای اوز کو تبدیل کیا گیا۔ موجودہ انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایئر لائن کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے اس میں ضرورت سے زیادہ سٹاف رکھا گیا ہے اور دنیا میں کہیں بھی جہازوں کے مقابلے میں ملازمین کا تناسب اتنا زیادہ نہیں ہے۔
پی آئی اے ملازمین کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں رہنے والے موجودہ سی ای او ارشد ملک ایئر فورس کے حاضر سروس آفیسر تھے مگر اس سال جولائی میں ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد حکومت نے انہیں پی آئی اے میں برقرار رکھا ہے تاکہ وہ اپنی پالیسی جاری رکھ سکیں۔ ایئر لائن کی موجودہ اعلیٰ مینیجمنٹ میں سولہ میں سے نو کا تعلق ایئر فورس سے ہے لہذا پی آئی اے ملازمیں میں یہ تاثر عام ہے کہ اس قومی ایئرلائن کی بربادی میں ایئر فورس والوں کا مرکزی کردار ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر ایئر مارشل نور خان نے پی آئی اے کو بین الاقوامی سطح کا قومی ادارہ بنایا تھا تو اسکی وجہ انکا ویژنری ہونا تھا جبکہ موجودہ پی آئی اے سربراہ ایئر مارشل ارشد ملک چونکہ ایک نااہل آدمی ہیں اس لیے انہوں نے پی آئی اے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے قریبی رشتہ دار ہونے کا دعوی کرنے والے ارشدملک کی من مانیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے صرف اس وجہ سے پی آئی اے کے ہیڈ آفس کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے چونکہ وہ خود اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔
اس سال کراچی پی آئی اے حادثہ، پائلٹوں کے جعلی لائسنسوں اور سیفٹی سسٹم کی شکایات پر یورپی ممالک کی جانب سے لگنے والی پابندی کے بعد تو ایئر لائن صرف چند ممالک اور اندرون ملک پروازوں تک محدود رہ گئی ہے۔
پی آئی اے کے سابق مارکیٹنگ ڈائریکٹر ارشاد غنی ایئر مارشل ارشد ملک کے اس فارمولے سے اختلاف کرتے ہیں کہ 13500 پی آئی اے ملازمین میں سے 5500 کو نوکریوں سے نکال کر پی آئی اے کو خسارے سے نکالا جائے۔ انکے مطابق پی آئی اے میں ہزاروں ملازمین اسکے عروج کے دور میں بھی رہے ہیں کیونکہ یہ وہ ایئرلائن ہے جس کا اپنا گراؤنڈ سٹاف ہے، اپنا انجینئرنگ سٹاف ہے اور بہت سارے ایسے آپریشنز ہیں جو دوسری ایئرلائنز ٹھیکے پر دیتی ہیں جبکہ پی آئی اے یہ سب خود کرتی ہے۔ دوسرا ملازمین کی تنخواہوں کا بجٹ کبھی بھی پی آئی اے کے اخراجات کا 20 فیصد سے زائد نہیں رہا جبکہ دنیا کی بڑی ایئرلائنز ملازمین پر بجٹ کا 30 فیصد یا اس سے زائد خرچ کرتی ہیں۔
ارشاد غنی کے مطابق پی آئی اے کے زوال کا اصل سبب اس کا مقابلے کے لیے تیار نہ ہونا تھا۔ جب علاقائی سطح پر ہوا بازی کی صنعت میں مقابلہ سخت ہونا شروع ہوا تو پی آئی اے اس کے مطابق خود کو نہ ڈھال سکی۔ ’پی آئی اے کے افسران مارکیٹ پر اجارہ داری کے ایسے عادی تھے کہ ان کا رویہ ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کی طرح کا ہوتا تھا۔ وہ اپنے دفتر سے باہر کسی سے ملنا توہین سمجھتے تھے۔ لوگ انہیں آکر ملتے تھے۔ مگر ایسا کب تک چلتا؟ دوسری ایئرلائنز نے کرایہ کم کیا، سروس بہتر کی اور دوران فلائٹ بہترین تفریحی سروس مہیا کر کے پی آئی اے کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ اچھی سروس میں فلائٹس کی فریکوئنسی اور ٹائمنگ بھی شامل ہے۔ جہاں ایمرٹس ھفتے میں سات دن تک سروس مہیا کرتی ہے وہاں پی آئی اے ھفتے کی ایک فلائٹ سے مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟‘
پی آئی اے کے سابق سی ای او مشرف رسول کے مطابق کامیاب ایئرلائنز میں جدید سوچ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ کمرشل ایئرلائنز کو صرف ڈسپلن سے کامیاب نہیں کیا جا سکتا بلکہ ملازمین کو نئے خیالات شیئر کرنے کے قابل کرنا ہوتا ہے۔ ان کو اپنی صوابدید استعمال کرنے کی اجازت دینا ہوتی ہے کمرشل رسک لینا پڑتے ہیں۔ دوسری طرف ایئرلائن میں بیرونی مداخلت چاہے سیاسی ہو یا عدالتی اسے ختم کرنا ہوتا ہے۔ یہاں نیب، عدلیہ حکومت سب چھوٹی چھوٹی اناؤں کی وجہ سے ایئرلائن کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں جس سے وہ ایک کمرشل ادارے کے طور پر آگے نہیں بڑھ پاتی۔ مشرف رسول کے مطابق پی آئی اے ایک سمارٹ، ہلکی پھلکی اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھل جانے والی ایئرلائن نہیں بنے گی تو دنیا کی جدید ایئرلائنز سے مقابلہ نہیں کر سکے گی۔
مشرف رسول بھی اتفاق کرتے ہیں کہ پی آئی اے کے زوال کا بڑا سبب یہ ہے کہ یہ بروقت خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کر پائی۔ دوسری ایئرلائنز نے اپنی سروس بہتر کی اور نئی ٹیکنالوجی اور سہولیات متعارف کروائیں مگر پی آئی اے نے اس میں تاخیر کر دی۔ جدید منیجمنٹ سسٹم کو لانا ضروری تھا۔ پھر اپنی پیش کش کو بہتر کرنا تھا اور اسے اس قابل بنانا تھا کہ عالمی صارفین کو متوجہ کر سکے مگر یہاں صرف نیشنلزم کا استعمال کرکے اپنی کوتاہی پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ اس وقت دنیا کی متعدد ایئرلائنز نے قطر، ترکش اور لفتھانسہ ایئرلائنز نے اپنے جہازوں سے جھنڈے اتار کر قومی نشان لگائے تاکہ نوجوان گاہکوں کو متوجہ کر سکیں مگر یہاں پر ایسی کوشش پر نوٹس ہو جاتا ہے۔ ’پاکستان کی خدمت اور عزت صرف جہاز پر بڑا جھنڈا لگانے سے نہیں ہو گی بلکہ تب ہو گی جب ہماری ایئرلائن زیادہ منافع کمائے گی اور دنیا بھر کے لوگ اس پر سفر کرنے میں فخر محسوس کریں گے‘۔
پی آئی اے کے سابق سربراہ اعجاز ہارون کے مطابق اس وقت ادارے کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جو یہ نہیں جانتے کہ کمرشل ایئرلائن کیسے چلائی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں موجودہ انتظامیہ کی پوری ٹیم ایئرفورس کے بیک گرؤانڈ کی وجہ سے اس تجربے کی حامل نہیں جو کمرشل ایئرلائن چلانے اور اسے منافع بخش بنانے کے لیے درکار ہوتا ہے لہذا ادارہ تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے اور فیصلہ سازوں کا خیال ہے کہ آدھے ملازمین کو نکال کر پی آئی اے کو منافع بخش بنا لیا جائے گا۔ اعجاز ہارون پی آئی اے کے زوال کا سبب باہر سے لائے گئے لوگوں کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کو بہتر تب ہی بنایا جا سکتا ہے جب اسی کے ملازمین کو اس کے اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ پی آئی اے کے لوگوں نے دوسری ایئرلائنز کو لانچ کرنے میں مدد کی، اگر انہی وگوں کو بااختیار بنا کر موقع دیا جائے تو کیا وہ اپنی ایئرلائن نہیں چلا سکتے؟ اعجاز ہارون کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ کارپوریٹ کلچر سے یا ایئر فورس سے اعلٰی انتظامیہ لاتے ہیں تو وہ اس کے نظام کو نہیں سمجھ پاتے۔‘ اعجاز ہارون کے مطابق ادارے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ اس میں پروفیشنل لوگوں کو لایا جائے، اچھی ٹیم بنائی جائے اور سیاست ختم کی جائے۔ ادارے کا سربراہ کسی تعلق کو نہ دیکھے بلکہ ادارے کے مفاد کو دیکھے تو اسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔
