ایبٹ آباد کے اسپتال میں زیر علاج مریضوں کی بینائی کیسے گئی؟

آنکھوں کی بیماری میں مبتلا مریض افسر حسین کے مطابق انہوں نے ایک انجیکشن فروری کے مہینے میں آنکھوں میں لگوایا تھا۔ اب یہ دوسرا انجیکشن تھا۔ یہ انجیکشن لگوانے کے بعد واپس پہنچا تو بہت زیادہ جھنجلاہٹ اور بے چینی ہو رہی تھی۔ میں سپورٹس مین ہوں، حوصلہ کر کے کسی نہ کسی طرح سوگیا۔ صبح سو کر اٹھا تو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ جس پر چھوٹے بھائی کو بلایا اور اسپتال پہنچا۔ اب چند دنوں سے اسپتال ہی میں ہوں۔ کبھی ایک ٹیسٹ کرتے ہیں اور کبھی دوسرا مگر مجھے یہ نہیں بتاتے کہ کیا میں دوبارہ دیکھ سکوں گا یا نہیں؟
یہ کہنا تھا ایبٹ آباد میں قومی سطح کے سابق فٹبالر افسر حسین کا جنہوں نے عبدالقدیر خان ریسرچ لیبارٹری (کے آر ایل) کی فٹ بال ٹیم کی کئی سال قیادت کرنے کے علاوہ ملکی سطح کے دیگر کلب اور ڈپارٹمنٹ ٹیموں میں اپنے کھیل کے جوہر دکھائے تھے۔
افسر حسین کئی سال پہلے فٹ بال کو خیرباد کہہ چکے ہیں جس کے بعد اب وہ ایبٹ آباد میں ایک ایمبولینس ڈرائیور کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے بال بچوں کےلیے فٹ بال کا شوق قربان کر کے باعزت روزی کما رہا تھا۔ اب اگر میں دیکھ نہ سکا تو ڈرائیونگ کس طرح کروں گا۔ فٹ بال اور ڈرائیونگ کے علاوہ مجھے اور کچھ آتا بھی نہیں ہے۔‘ افسر حسین اس وقت ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد کے آنکھوں کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ وہاں پر وہ اکیلے نہیں بلکہ ایسے ہی آٹھ دیگر مریض زیر علاج ہیں جن کو چند دن پہلے ’ایوسٹن‘ کا انجیکشن لگایا گیا تھا اور اب یہ سب مریض آنکھوں کی بینائی بالکل ختم ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی ان مریضوں کی بینائی جانے کی وجہ کا قانونی طور پر تعین نہیں ہوا ہے۔
مریضوں کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت ایوب ٹیچنگ اسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ اس سارے واقعے کی تحقیقات ہورہی ہیں۔ جس کے بعد اسپتال خود ہی قانونی کاروائی کرے گا۔ ہم انتظار کررہے ہیں کہ اسپتال کب ہمیں کچھ بتاتا ہے۔ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو اس کے بعد ہم قانونی کاروائی کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد کے شعبہ ایمرجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید سرورکا کہنا تھا کہ ہم نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹوٹ ایکٹ 2015 کے تحت تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اسی ایکٹ کے تحت ہم اس پر قانونی کاروائی بھی کریں گے۔
ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن اورنگزیب نے بتایا کہ ’چند دن قبل ہمارے پاس آنکھوں کے وارڈ میں نو مریض آئے تھے۔ جن میں تین خواتین اور باقی چھ مرد تھے۔ یہ سب شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض تھے جس وجہ سے یہ بینائی کی کمزوری کی شکایت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ان سب مریضوں کا مکمل معائنہ ہوا اور مختلف قسم کے ٹیسٹ ہوئے جس کے بعد ان کےلیے تجویز کیا گیا کہ ان کو ایوسٹن کے انجیکشن کا کورس کروایا جائے۔‘ ان کے مطابق ’چند دن قبل آپریشن تھیٹر میں نو مریضوں کو انجیکشن لگایا گیا۔ یہ نو مریض آگلے دن دوبارہ اسپتال آئے اور یہ شکایت کی کہ ہمیں بہت کم نظر آرہا ہے اور شدید تکلیف بھی ہے۔ جس کے بعد ان کو اسپتال میں داخل کر کے علاج کیا گیا۔‘
روش پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر فرخ ریحان نے کہا کہ انہیں یہ سن کر بہت حیرانی ہوئی ہے اور وہ شاک میں ہیں کہ ایوسٹین کو آنکھوں کے علاج کےلیے استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ایوسٹین کو روش پاکستان نے اینٹی کینسر کے لیے متعارف کروایا ہے۔ اس کو کبھی بھی آنکھوں کا علاج میں استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔ فرخ ریحان کا کہنا تھا کہ جس دوائی کو آنکھوں کے استعمال کےلیے متعارف ہی نہیں کروایا گیا اس کو ڈاکٹر کیوں استعمال کررہے تھے۔ دوائی کے ساتھ موجود ہدایت نامے میں بڑا واضح ہے کہ یہ اینٹی کینسر ہے اور اس کو صرف اس ہی کےلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے آنکھوں کے شعبہ کے پروفیسر ڈاکٹر طارق مروت جنہوں نے امریکہ سے فیلو شپ بھی کررہی ہے کا کہنا تھا کہ وہ خود گزشتہ دس سال سے پشاور میں ایوسٹین استعمال کررہے ہیں۔ اس کے اچھے نتائج ہیں۔ اس کو پورے ملک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوسٹین پاکستان ہی میں نہیں بلکہ برطانیہ، سوئزلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی آنکھوں کے علاج کےلیے استعمال ہورہی ہے۔ میں خود امریکہ میں کام کرچکا ہوں۔ وہاں پر بھی اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر طارق مروت کا کہنا تھا امریکہ، برطانیہ، سوئز لینڈ کئی ممالک میں ایوسٹین اور اس کے مد مقابل ادوایات پر کی گئی سرچ موجود ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایوسٹین کے نتائج اچھے ہیں۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر آنکھوں کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اس کو پاکسستان اور دنیا بھر میں استعمال کرتے ہیں۔
ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد کے شعبہ ایمرجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید سرور کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کمپنی اس کو آنکھوں کے علاج میں استعمال کرنے کی سفارش نہیں کرتی ہے۔ مگر کئی تحقیقاتی اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر اس کو بہتر سمجھتے ہوئے اس کو استعمال میں لاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سادہ سی بات ہے کہ ڈاکٹر جس بھی دوائی کو مریض کےلیے مختلف تحقیقات، اپنی تجربے کی بنیاد پر بہتر سمجھیں گے اس کو تجویز کریں گے۔
اب ہمارے پاس ایوسٹین کا معاملہ یہ ہے کہ ہم اس انجیکشن کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں کہ اس میں کوئی انفیکشن وغیرہ تو نہیں تھا۔ جس وجہ سے نو مریض متاثر ہوئے ہیں۔ افسر حسین کا کہنا ہے کہ ’کچھ عرصے سے میں شوگر کا مریض بن چکا تھا۔ میری نظر بھی کمزور ہو رہی تھی۔ آنکھوں کے ڈاکٹر کو بتایا تو ان کا کہنا تھا کہ شوگر کے سبب نظر مزید کمزور ہوسکتی ہے۔ اس کے علاج کےلیے آنکھوں میں تین انجیکشن کا کورس کروانا ہوگا۔‘
افسر حسین کا کہنا تھا کہ ’پہلا انجیکشن فروری کے ماہ میں لگا، دوسرا مارچ میں لگنا تھا مگر لاک ڈاون کے باعث ڈاکٹروں نے جولائی کی تاریخ دے دی تھی۔ جب سے یہ دوسرا انجیکشن لگوایا ہے اس وقت سے میری دنیا اندھیر ہوچکی ہے۔‘ افسر حسین کہتے ہیں کہ ’یقین کریں مجھے اور میرے ساتھ دوسرے مریضوں کو ہر چند گھنٹوں بعد اتنی شدید تکلیف اور درد ہوتا ہے کہ ہماری چیخیں نکل جاتی ہیں۔ جس کے بعد عملہ ہمیں درد کش انجکیشن لگاتا ہے اور پھر ہم لوگ سو جاتے ہیں اور چند گھنٹے سکون سے گزرتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی ڈاکٹر معائنے کےلیے آتے ہیں ہمارا ایک نیا ٹیسٹ لیتے ہیں۔ نئی دوائی تجویز کرتے ہیں مگر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے تو کہتے ہیں کہ انفیکشن ہوگیا ہے جس کا علاج کر رہے ہیں۔‘ ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد میں آنکھوں ہی کے وارڈ میں زیر علاج ایک اور بزرگ مریض کا کہنا تھا کہ ’میری قسمت خراب تھی۔ نظر کی عینک لگی ہوئی تھی مگر ہر چند دن بعد اخبار پڑھنا مشکل ہو رہا تھا۔ بیٹا ڈاکٹر کے پاس لایا تو انہوں نے کہا کہ تین انجیکشن کا کورس کرنا ہوگا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’ابھی پہلا انجیکشن لگوا کر اپنے گھر پہنچا ہی تھا کہ پہلے شدید درد ہوا، اس کے بعد آہستہ آہستہ نظر آنا کم ہوئی اور چند گھنٹوں میں تو بالکل ہی کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ سوچتا ہوں کہ اگر بینائی واپس نہ آئی تو مجھ بوڑھے کو کون سنبھالے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’کل گیارہ مریضوں کو یہ انجیکشن لگا ہے۔ جن میں سے نو مریضوں نے بینائی کم ہونے کی شکایت کی ہے۔ ان میں سے صرف ایک مریض کو یہ انجیکشن پہلی مرتبہ لگا ہے جب کہ باقی آٹھ میں سے پانچ کو تیسری مرتبہ جب کہ تین کو دوسری مرتبہ لگا ہے۔‘
ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ طبی طور پر ’ہمارے علاج کا طریقہ کار غلط نہیں تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر اسپتال اور اس کے ماہر ڈاکٹروں کی تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہوتی اور ان کی جانب سے تجویز کردہ انجیکشن غلط ہوتا تو پھر آٹھ مریضوں کو پہلے ایک یا دو انجیکشن کے دوران کوئی شکایت ہونی چاہیے تھی۔ باقی دو مریضوں کو بھی شکایت ہونی چاہیے تھی۔‘ ڈاکٹر احسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ ہم نے ماہرین کا ایک بورڈ تشکیل دے دیا ہے جو تمام حقائق کو اکٹھا کر رہا ہے۔ وہ بورڈ جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کر دے گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’بورڈ اور لیبارٹری کی رپورٹ کے بعد جو بھی قصور وار ہوا اس کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گئی۔‘ ڈاکٹر احسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’ابھی ان مریضوں کا علاج چل رہا ہے۔ ان کے مختلف ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ہم ان کے مسقبل کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔‘
بین الاقوامی ادوایات ساز کمپنی روش پاکستان سمیت دنیا بھر میں تجارتی نام ایوسٹن سے ’بیویزسیزامیٹ‘ انجیکشن تیار کرتی ہے۔ پاکستان میں چار ملی لیٹر کے اس انجیکشن کی قیمت تقریباً 28 ہزار روپے ہے۔ عموماً یہ انجیکشن مہنگے میڈیکل اسٹورز ہی پر دستیاب ہوتا ہے اور زیادہ تر سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مفت میں فراہم کیا جاتا ہے۔
ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر شعبہ ایمرجنسی ڈاکٹر جنید کے مطابق یہ انجیکشن زیادہ تر کینسر کے مریضوں پر استعمال ہوتا ہے۔ مگر ان کے مطابق آنکھوں کی بیماری خاص کر شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض جن کی خون سپلائی کرنے کی رگیں زیادہ اچھی طرح کام نہ کر رہی ہوں ان پر بھی اس کا استعمال فائدہ مند رہتا ہے۔
ڈاکٹر جنید کے مطابق ’ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر میں آنکھوں کے مریضوں کےلیے طویل عرصے سے اس کا استعمال فائدہ مند پایا گیا ہے۔‘ ان کے مطابق یہ انتہائی حساس انجیکشن ہے جس کی تیاری ماہر ڈاکٹر اور فارماسسٹ کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔ اس کو آنکھوں کے مریضوں کو لگانے کا عمل بھی آپریشن تھیئٹر میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا موٹا آپریشن ہی ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس انجیکشن کی تیاری اور لگانے کے عمل میں معمولی سے غلطی بھی مریض کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر جنید کے مطابق اس لیے ’اس کو مریضوں پر استعمال کرتے وقت انتہائی احتیاط برتی جاتی ہے۔ یہی احتیاط ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد میں بھی برتی جاتی ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button