ایجنسیوں نے سفارت کاروں پر حملے کو گنڈاپور کی ناکامی قرار دے دیا

وفاقی تحقیقاتی اداروں نے خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں 22 ستمبر کو غیر ملکی سفارت کاروں کے ایک قافلے پر بم حملے کو وزیراعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور کی صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دے دیا ہے جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔ یاد رہے حملے کے فوراً بعد خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا تھا کہ صوبائی حکومت کو سفارت کاروں کی آمد بارے پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم سرکاری دستاویز ظاہر کرتی ہے کہ ناصرف خیبر پختون خوا حکومت کو اِس دورے بارے پیشگی آگاہ کیا گیا تھا بلکہ صوبے کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے تمام متعلقہ اداروں کو اِس دورے کی اطلاع دیتے ہوئے سخت ترین سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ سفارت خاروں کے اس دورے کی میزبانی اسلام آباد چیمبر آف کامرس کر رہا تھا۔ سرکاری دستاویز کے مطابق چیمبر آف کامرس نے غیرملکی سفارت کاروں کے دورے کے حوالے سے 5 ستمبر کو براہِ راست خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو خط لکھا تھا۔ اِس خط کا عنوان ’اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے وفد اور غیرملکی شخصیات کے سوات کے دورے کے سکیورٹی انتظامات کی درخواست‘ تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’اس دورے کا مقصد خطے میں سیاحت کا فروغ ہے اور یہ بھی کہ اس وفد میں غیرملکی سفیر، دیگر سفارتکار اور اہم کاروباری شخصیات شامل ہوں گی۔‘
خط میں آگاہ کیا گیا تھا کہ سفیروں پر مشتمل یہ وفد 22 ستمبر کو سوات پہنچے گا اور مالم جبہ کے ایک ہوٹل میں رات کو قیام کے بعد 23 ستمبر کو سوات کے مختلف سیاحتی مقامات کا دورہ کر کے اسلام آباد لوٹ آئے گا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ وفد میں غیر ملکی سفیروں اور دیگر غیر ملکی شخصیات کی موجودگی کی وجہ سے اِن کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ناگزیر ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف سے اس خط اور اس کے بعد کیے گئے سکیورٹی اقدامات کے بارے میں پوچھا گیا، لیکن اُنکی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مالم جبہ کے قریب سفارت کاروں کے قافلے پر بم حملے کی تحقیقات کرنے والے وفاقی اداروں نے اس ناکامی کو خیبر پختون حکومت کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے سے سیاحت کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق ہر ملک میں سفارتکاروں کی موومنٹ سے متعلق قواعد و ضوابط ہوتے ہیں جن کا انحصار بنیادی طور پر اس ملک میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’چند سال پہلے تک پاکستان کے بہت سے علاقے سفارت کاروں کے لیے نو گو ایریاز تھے جن میں تقریباً پورا خیبر پختونخوا اور بلوچستان شامل تھے جبکہ پنجاب اور سندھ کے متعدد شہر بھی اس میں شامل تھے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ایک وقت ایسا بھی تھا جب سفارت کاروں اور غیرملکی مہمانوں کو اسلام آباد سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اور انہیں اس کے لیے باقاعدہ این او سی چاہیے ہوتا تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ حالات میں بہتری آئی تو کئی ایسے علاقے جو پہلے سفارت کاروں اور سفارتی عملے کے لیے نو گو ایریاز تھے وہاں رسائی ممکن ہوئی۔ ایسے علاقوں میں گلگت بلتستان کے علاوہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات جیسا کہ چترال، سوات اور دیگر علاقے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تاہم اب بھی وہ علاقے جہاں حالات ٹھیک نہیں وہاں جانے کے لیے سفارتکار یا اُن کے میزبان دفتر خارجہ سے رابطہ کرتے ہیں، جہاں ہمارا پروٹوکول طے کرنے کے لیے ایک علیحدہ محکمہ موجود ہے۔‘ ’پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ ضروری معلومات ملنے کے بعد وزارت داخلہ کو مطلع کرتا ہے کہ سفیر یا سفارتکار کن علاقوں میں کس مقصد کے لیے سفر کر رہے ہیں۔‘ اس کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے سکیورٹی چیکس کیے جاتے ہیں اور این او سی جاری کیا جاتا ہے، جبکہ متعلقہ صوبے میں بھی رابطہ کیا جاتا ہے تاکہ سکیورٹی کے انتظامات کیے جا سکیں۔ اگر وزارت داخلہ مناسب نہ سمجھے تو این او سی جاری نہیں کیا جاتا۔‘
ننگا ہو کر سیاست کرنے والے عمراندار ججز کو لگام ڈالنے کا فیصلہ
دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدامات صرف ان علاقوں کے لیے ہوتے ہیں جو ’نو گو ایریاز‘ ہوں یعنی وہاں سکیورٹی صورت حال خراب ہو اور غیرملکی شہریوں کا جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہو۔ ایسے علاقوں کے علاوہ ملک کے کسی بھی حصے میں جانے کے لیے سفارتکاروں کو اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ان کی صوابدید ہے کہ وہ دفتر خارجہ کو اطلاع دینا چاہیں یا نہ دینا چاہیں۔‘
پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے کوشش کر رہا ہے کہ یہاں غیرملکی سرمایہ کاری اور سیاحت کو بڑھایا جائے۔ اسی ضمن میں نہ صرف حکومتی سطح پر اقدامات کر رہی ہیں بلکہ متعدد غیرسرکاری ادارے اور تنظیمیں بھی سیاحت کے فروغ سے متعلقہ تشہیری مہمات میں پیش پیش رہتی ہیں۔ حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ 126 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فیس معاف کر رہی ہیں اور ان 126 ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاح صرف فون پر ایک سوالنامے کا جواب دے کر پاکستان کا سیاحتی ویزا حاصل کر سکیں گے۔
لیکن سوات میں سفارت کاروں پر حملے سے پاکستان کی کاوشوں کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک سینیئر افسر کا کہنا تھا کہ ہم غیر ملکیوں کو کہتے ہیں کہ ہمارا ملک سیاحوں کی جنت ہے، لہذا آپ یہاں ضرور آئیں۔ لیکن اب ہمیں یہ جواب ملتا ہے ہمیں کہ آپ کے ملک میں تو سفیروں پر ہی حملہ ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ’سفارت کاروں کی رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ سوات کا واقعہ بہت بڑا ہے اور اس سے بہت نقصان ہوا ہے۔ ایسے واقعات دنیا میں کہیں بھی قابل قبول نہیں ہوتے۔ یہ تین کیٹیگریز ہیں۔ پہلی ہے ایک غیر ملکی سیاح کی، اس سے زیادہ اہم ہوتا ہے سفارت کار اور پھر اس سے اوپر سفیر ہوتا ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ آپ سفیروں کو سوات لے کر جا رہے ہیں تو یہ سب کیسے ہو گیا، اتنا بڑا واقعہ کیسے پیش آیا؟
