ایرانی اسمگلڈ تیل پاکستانی تیل سے مہنگا کیوں ہوگیا؟

پاکستان کی ایران کیساتھ سرحد پر باڑ کی تنصیب کے بعد بلوچستان میں کوڑیوں کے بھاو بکنے والے سمگل شدہ ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں اور مقامی افراد شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو گے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اب دالبندین کی تیل منڈی میں ایرانی پٹرول اور ڈیزل دستیاب نہیں ہو پا رہا جس کی بنیادی وجہ پچھلے کچھ دنوں سے علاقے میں ایرانی تیل کی رسد میں آنے والی انتہائی کمی ہے۔ چنانچہ اب سمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 90 روپے سے بڑھ 180 تا 200 روپے جبکہ فی لیٹر ڈیزل 120 روپے تک بھی مشکل سے مل رہا ہے۔
سمگل شدہ ایرانی پیڑول مہنگا ہونے کے بعد علاقہ مکین گذشتہ کئی دہائیوں میں پہلی بار پاکستانی پیٹرول کی جانب متوجہ ہوئے ہیں جس کی قیمت لگ بھگ 118 روپے فی لیٹر ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں سمگل شدہ ایرانی تیل کا کاروبار دہائیوں سے جاری ہے۔ حکومت پاکستان نے ماضی میں متعدد بار ملک میں تیل کی سمگلنگ اور فروخت پر پابندی لگانے کے وعدے اور دعوے کیے ہیں لیکن آج تک اس کاروبار کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
بلوچستان کے بیشتر پیٹرول پمپس پر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتا ہے اور اس صوبے کا پہیہ زیادہ تر سمگل شدہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کے سر پر ہی چلتا ہے۔ ایرانی پیٹرول کی یہ سمگلنگ نیلے پِک اپ ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے جنھیی مقامی لوگ ’زمباد‘ کہتے ہیں۔
پاکستانی پیٹرول یا ڈیزل ایرانی تیل کے مقابلے میں ’کافی مہنگا‘ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں مقبول نہیں ہے تاہم گذشتہ چند دنوں میں صورتحال بدلی ہے۔
دالبندین کے نوتیزئی فلنگ سٹیشن پر پاکستانی پیٹرول اور ڈیزل فروخت ہوتا ہے۔ یہاں کام کرنے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ آج کل ان کے فلنگ سٹیشن پر دن رات رش لگا رہتا ہے اور اب روزانہ کی بنیاد پر وہ دس تا پندرہ ہزار لیٹر پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرتے ہیں۔ ’پہلے ایک ماہ کے عرصے میں بمشکل اس قدر تیل فروخت ہو پاتا تھا جتنا آج کل ایک دن میں ہو رہا ہے۔‘
ایران سے سمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی ہول سیل پر خرید و فروخت سے وابستہ کئی لوگ اس کام کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں ہیں جن میں مقامی سطح پر اس حوالے سے مشکلات و مسائل سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی تیل سپلائی کمیٹی دالبندین کے صدر رحمت اللہ بھی شامل ہیں۔
رحمت اللہ کے مطابق اس سمگل شدہ پیٹرول کی خرید و فروخت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ایک مؤثر ذریعہ بہت تیزی سے سکڑ رہا ہے جس کی بڑی وجوہات میں سے ایک پاکستان، ایران سرحد پر باڑ کی تنصیب ہے۔ رحمت اللہ کے مطابق ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں ایرانی سرحد سے متصل غیر رسمی گزرگاہ ’جودر‘ میں قیمتوں کے تعین اور خرید و فروخت کے معاملات میں اختلاف رائے کے بعد ماشکیل کی تیل سپلائی کمیٹی نے چاغی اور ملحقہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے پک اپ ڈرائیورز کو جودر سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی خریداری سے روک دیا ہے جس کے بعد انھوں نے بھی ماشکیل سے تیل کی سپلائی کرنے والے گاڑیوں کو روکا، یوں علاقے میں ایرانی تیل کا بحران پیدا ہو گیا، تاہم مذاکرات کے کئی دور گزرنے کے بعد اب تھوڑا بہت تیل دالبندین کے پیٹرول منڈی میں لایا جا رہا ہے۔
ماشکیل سے تعلق رکھنے والے تیل سپلائی کمیٹی کے صدر سیف اللہ کے مطابق ایران سے پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ جہاں پہلے روزانہ ایک ہزار سے زائد پک اپ گاڑیاں پیٹرول اور ڈیزل بھر کر لاتی تھیں، وہیں اب یہ تعداد چار سے پانچ سو تک محدود ہو گئی ہے۔ اُن کے مطابق ہر پک اپ گاڑی میں 36 سو لیٹر پیٹرول یا ڈیزل لانے کی گنجائش ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مقامی کمیٹی کے تخمینوں کے مطابق صرف ماشکیل سرحد سے روزانہ 18 لاکھ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پاکستان میں سمگل کیا جاتا ہے۔ سیف اللہ نے بتایا کہ ماشکیل میں 90 فیصد سے زائد آبادی ایرانی تیل کی خرید و فروخت کے پیشے سے وابستہ ہے، اس لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب جودر سے صرف ماشکیل کے مقامی لوگ ہی تیل خریدیں گے۔
تاہم رحمت اللہ اس فیصلے سے شدید اختلاف کرتے ہوئے اس متعصبانہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے چند مخصوص افراد کی اس کاروبار پر اجارہ داری قائم ہوگی جو انھیں ہرگز قبول نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انھوں نے مقامی قبائلی عمائدین کی مدد سے ماشکیل کے عمائدین کو اپنا مؤقف تسلیم کرنے پر قائل کر لیا لیکن وہاں کی تیل سپلائی کمیٹی یہ بات نہیں مان رہی جس کی وجہ سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔ رحمت اللہ نے بتایا کہ تیل سپلائی سے متعلق تنازع کی وجہ سے چاغی، واشک، نوشکی، خاران اور قریبی اضلاع میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا ہو گئی جہاں شہری اب پاکستانی تیل استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
