ایرانی ردعمل توقع سے کم رہا،حملے کے بعد سفارتکاری آسان ہوگئی،ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایرام پر حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا ردعمل ہماری توقع سے کم رہا، تاہم ایران کیساتھ سفارتی عمل مزید آسان ہو گیا ہے اور امریکا اب مذاکرات کے لیے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال ایک دن پہلے کے مقابلے میں زیادہ سازگار ہے۔ ان کے بقول، ایران پر دباؤ بڑھنے کے بعد سفارت کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کا ردعمل امریکا کی توقع سے کم رہا۔ “ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ ردعمل اس سے کہیں زیادہ ہوگا،” صدر ٹرمپ نے کہا۔

گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں پر میزائل حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے اور ان کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے، جس کے نتیجے میں وہ درجنوں ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔

ایرانی فوج کاسپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان

اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد ان کی میت مل گئی ، جبکہ برطانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے اسی نوعیت کی اطلاعات نشر کی ہیں۔

اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ خامنہ ای اور 5 سے 10 اعلیٰ ایرانی رہنما اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 201 ایرانی شہری شہید اور 747 زخمی ہوئے تھے۔

Back to top button