پرواز سے پہلے ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر اور پائلٹ کیوں بدلا گیا؟

ایرانی صدر ابراہیم رئيسی کے ہیلی کاپٹرحادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد جہاں ایک طرف حقائق سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری طرف مختلف سازشی نظریات نے بھی سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے۔ تاہم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی حادثاتی موت نے کئی سنجیدہ سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
ہیلی کاپٹر حادثے کا تجزیہ کرتے ہوئے ترک میڈیا نے کئی غیرمعمولی باتوں کی نشاندہی کی ہے۔ ترک میڈیا میں پیش کردہ تجزیے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آخر ایرانی صدر نے تیس برس پرانا امریکی ہیلی کاپٹر کیوں استعمال کیا اورواپسی پر ہیلی کاپٹر میں سوار ہونے والے مسافروں کی ترتیب کیوں تبدیل کی گئی۔
دوسری جانب روسی میڈیا کے مطابق ایران کے صدر اپنے دوروں میں عام طور پر روسی ساختہ ہیلی کاپٹر استعمال کرتے تھے تاہم تبریز جانے کے لیے ایرانی صدر کیلئے خلاف معمول امریکی ساختہ ہیلی کاپٹر کیوں چنا گیا۔ تجزیاتی رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ عمومی طور پر ایرانی صدر کے لیے پائلٹ کا چناؤ ماضی میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں میں سے کیا جاتا تھا تاہم اس بار انکے پائلٹ کا تعلق آرمی سے تھا۔
رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر میں تین مختلف ٹریکنگ نظام نصب تھے جن میں جی پی آر ایس اور ٹرانسپونڈرز بھی شامل تھے مگر اسکے باوجود حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر کے مقام کا فوری تعین نہیں کیا جاسکا۔ ترک حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ ہیلی کاپٹر کے سگنل نوٹ نہیں کرسکے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو یہ نظام بند تھا یا موجود ہی نہیں تھا۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹرکی پرواز سے کچھ ہی دیر پہلے مسافروں کی ترتیب بھی بدلی گئی تھی۔ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور تبریز کے گورنر مالک رحمتی کو ہیلی کاپٹر نمبر دو میں سفر کرنا تھا مگر ان دونوں سمیت آخری لمحے میں تبریز کے پیش امام محمد آل ہاشم کو ہیلی کاپٹر نمبر 2 سے اتار دیا گیا۔ اور وہ صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر میں سوار ہو گئے۔وزیر خارجہ، گورنر اور پیش امام تینوں ہی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر میں تھے اور حادثے میں انکے ساتھ ہی جاں بحق ہوئے۔
تاہم دوسری جانب ایرانی حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے سبب حادثہ کا شکار ہوا تاہم حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری طرف جاں بحق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ تین ہیلی کاپٹروں میں سے ایک میں موجود ایرانی اہلکار غلام حسین اسماعیلی کا کہنا ہے کہ صدارتی ہیلی کاپٹر کا پائلٹ کانوائے کا انچارج تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں نے پرواز کی تو موسم ٹھیک تھا، پرواز کے 45 منٹ بعد صدارتی پائلٹ نے کہا کہ بادل سے بچنے کے لیے پرواز اونچی کریں۔
ایرانی اہلکار کے مطابق 30 سیکنڈ بعد ہمارے پائلٹ نے نوٹ کیا کہ صدر کا ہیلی کاپٹر غائب ہوگیا، ہمارےپائلٹ نے قریبی تانبے کی کان پر ہیلی کاپٹر اتارا۔ غلام حسین اسماعیلی کا کہنا تھا کہ صدر کے پائلٹ، وزیر خارجہ اور صدر کے محافظ کو فون کیا مگر جواب نہ ملا۔حادثے سے متعلق انہوں نے مزید بتایا کہ نماز جمعہ کے پیش امام آل ہاشم نے کال اٹھائی اور بتایا کہ صدارتی ہیلی کاپٹر کو حادثہ ہوگیا، آل ہاشم کی موت ہیلی کاپٹر حادثے کے کئی گھنٹے بعد ہوئی۔

Back to top button